غزل کی روشنی میں: بزم ہستی اور شعار زندگی | مکمل تجزیہ غزل · فکری گہرائی · علامتی اظہار بزمِ ہستی میں شعارِ زندگی ہونے نہ پائے تاریک دور، امیدوں کی ناکامی اور انا کے خول کا فنی بیانیہ بزم ہستی میں شعار زندگی ہونے نہ پائے ظلمتوں کا دور ہے روشنی ہونے نہ پائے ہے توقع آج کی محفل میں وہ بھی آئیں گے دیکھ لینا اب کوئی دیوانگی ہونے نہ پائے چمن کے کانٹوں سے میں یہ بارہا کہتا رہا ان سے کوئی بے تکلف آدمی ہونے نہ پائے انتہائے جبر ہے ، مےخانہ حیات میں حکم ساقی آ گیا ہے مےکشی ہونے نہ پائے جب دیا دل ، دے دیا ، یہ انا کا خول کیوں ایسی غلطی کا اعادہ پھر کبھی ہونے نہ پائے میں بہت رنجیدہ خاطر ہوں دنیا والے سن میرے ارمانوں کے اندر کھلبلی ہونے نہ پائے میں وہی بے ربط آنگن ہوں جس آنگن شکیل چاند ہو سر پر مگر چاندنی ہونے نہ پائے ⸻ مکمل غزل ، شاعر: افضل شکیل سندھو ⸻ ● پہلی نظر میں غزل کا منظرنامہ یہ غ...
یرہ ؤ تار زمانے میں | Light of Humanity – A Naatia Qita in Praise of Prophet Muhammad (PBUH) natiaqata | ummihaadi | lastprophet | rasoolekareem | nabiepak Natia qata,Naat, Naatshareef, Naat eRasul e maqbool تیرہ و تار زمانے میں وہ امی ہادی ساری دنیا کے لئیے روشنی لے کر آیا ستم سہہ کر بھی دلاسے دیئے انسانوں کو نوع انساں کے لیئے زندگی لے کر آیا 📌 اردو Description (تفصیل) یہ نعتیہ قطعہ حضور نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور آپ ﷺ کی رحمت بھری، انسان دوست شخصیت کو نہایت عقیدت کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ شاعر خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے کہ جب دنیا جہالت اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی، تو آپ ﷺ روشنی، ہدایت اور انسانیت کے لیے نئی زندگی لے کر تشریف لائے۔ اس قطعے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ حضور ﷺ نے خود بے شمار تکالیف اور مصائب برداشت کیے، مگر اس کے باوجود انسانوں کو ہمیشہ محبت، صبر اور دلاسہ دیا۔ یہ کلام دراصل رحمتِ عالم ﷺ کی عظمت، انسانیت کے لیے ان کی قربانیوں اور ان کے عالمگیر پیغام کو اجاگر کرتا ہے، جو آج بھی ہما...