```html حسرت موہانی: انقلاب کا شاعر، آزادی کا مسافر | افضل شکیل بلاگ ✦ حسرت موہانی ✦ انقلاب کا شاعر، تحریک آزادی کا مجاہد، اردو ادب کا امین "انقلاب زندہ باد" کا خالق | قلم اور جدوجہد کا بے مثال سنگم برصغیر کی تاریخ میں ایسی شخصیات کم ہی گزری ہیں جنہوں نے ایک ہی وقت میں شاعری، سیاست اور انقلابی فکر کو اتنی بلندیوں تک پہنچایا ہو۔ مولانا سید فضل الحسن، جو ''حسرت موہانی'' کے نام سے مشہور ہیں، نہ صرف اردو کے عظیم شاعر تھے بلکہ آزادیٔ ہند کی جدوجہد کے ایک سرخیل رہنما، تحریک خلافت کے معمار اور مجلسِ قانون ساز کے منتخب رکن تھے۔ انہوں نے وہ نعرہ دیا جو آج بھی دلوں میں گونجتا ہے — '''انقلاب زندہ باد''' ۔ یہ بلاگ افضل شکیل ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے حسرت موہانی کی فکر، فن اور فکرِ انقلاب پر ایک جامع اور تفصیلی نگارش ہے، جس میں تقریباً 5000 الفاظ میں ان کی پوری داستان رقم کی گئی ہے۔ Read My Ghazal BAZM E HASTI MN Click ...
ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...