ناصر کاظمی: دکھ کا شاعر، غم کا راگی | افضل شکیل ناصر کاظمی دکھ کا شاعر، غم کا راگی اور جدید اُردو غزل کا روح پیکر تعارف: خوابوں اور یادوں کا شاعر جدید اُردو غزل کے اُفق پر ناصر کاظمی وہ روشن ستارہ ہیں جس نے اداسی، ہجرت اور ماضی کی مہک کو ایسے سادہ اور پُر اثر انداز میں ڈھالا کہ قاری کا دل بے ساختہ جھنجھنا اُٹھتا ہے۔ وہ شاعروں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لفظ محض لفظ نہیں، ایک دھڑکتا ہوا زخم ہوتا ہے — اور اسی درد کو انہوں نے بے انتہا خوبصورتی سے پرویا۔ ناصر کاظمی نے اُس دور میں غزل کو نئی زندگی دی جب غزل گوئی پر طرح طرح کے اعتراضات تھے، لیکن ان کے کلام نے فضا بدل دی اور وہ "عہدِ جدید کا میر" کہلائے۔ اُن کا خیال تھا کہ غزل بار بار اُجڑتی ہے اور پھر بسی ہے، بس اچھی شاعری ہی اس کی پہچان ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے انہیں لازوال بنا دیا۔ ✨ "غزل کا احوال دلی کا سا ہے۔ یہ بار بار اُجڑی ہے اور بار بار بسی ہے۔" ✨ — ناصر کاظمی Read on Blog QAIS...
ho chukey aaj baam o dr udaasہو چکے آج بام و در اداس This ghazal “Udaas Nazrein” by Afzal Shakeel Sandhu beautifully expresses the loneliness of separation and the silence that follows love’s departure. Written in a soft, reflective tone, it paints images of fading evenings, broken dreams, and hearts weighed down by memories. Originally published in the Monthly Political Scene, Lahore (September 2003), this work remains a timeless expression of poetic melancholy. This touching ghazal by Afzal Shakeel Sandhu,captures the quiet pain of separation and the melancholy that lingers in every moment. The verses flow with the fragrance of loss — from fading evenings to restless nights, each couplet speaks the language of waiting, memory, and sorrow. See my another ghazal غزل ہو چکے آج بام و در اداس تیرے بن منتظر نظر اداس شام کی رنگتیں ہیں بے معنی کھوئی کھوئی ہوئی سحر اداس پھول کھلتے ہیں پر چمن بیزار تتلیوں کے بال و پر اداس خواب ٹوٹے ہیں کرچیا...