ناصر کاظمی: دکھ کا شاعر، غم کا راگی | افضل شکیل ناصر کاظمی دکھ کا شاعر، غم کا راگی اور جدید اُردو غزل کا روح پیکر تعارف: خوابوں اور یادوں کا شاعر جدید اُردو غزل کے اُفق پر ناصر کاظمی وہ روشن ستارہ ہیں جس نے اداسی، ہجرت اور ماضی کی مہک کو ایسے سادہ اور پُر اثر انداز میں ڈھالا کہ قاری کا دل بے ساختہ جھنجھنا اُٹھتا ہے۔ وہ شاعروں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لفظ محض لفظ نہیں، ایک دھڑکتا ہوا زخم ہوتا ہے — اور اسی درد کو انہوں نے بے انتہا خوبصورتی سے پرویا۔ ناصر کاظمی نے اُس دور میں غزل کو نئی زندگی دی جب غزل گوئی پر طرح طرح کے اعتراضات تھے، لیکن ان کے کلام نے فضا بدل دی اور وہ "عہدِ جدید کا میر" کہلائے۔ اُن کا خیال تھا کہ غزل بار بار اُجڑتی ہے اور پھر بسی ہے، بس اچھی شاعری ہی اس کی پہچان ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے انہیں لازوال بنا دیا۔ ✨ "غزل کا احوال دلی کا سا ہے۔ یہ بار بار اُجڑی ہے اور بار بار بسی ہے۔" ✨ — ناصر کاظمی Read on Blog QAIS...
Firaq Gorakhpuri: The Legendary Urdu Poet and His Literary Legacy یوم پیدائش : ۲۸ اگست ۱۸۹۶ء یوم وفات : ۳ مارچ ۱۹۸٢ Read my blog on JIGER MURAdabadi CLICK HERE تعارف فراق گورکھپوری ایک عہد ساز شاعر اور نقّاد تھے۔ ان کو اپنی انفرادیت کی بدولت اپنے زمانہ میں جو شہرت اور مقبولیت ملی وہ کم ہی شعراء کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ اس منزل تک برسوں کی ریاضت کے بعد پہنچے تھے۔ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی کے بقول اگر فراق نہ ہوتے تو ہماری غزل کی سرزمین بے رونق رہتی، اس کی معراج اس سے زیادہ نہ ہوتی کہ وہ اساتذہ کی غزلوں کی کاربن کاپی بن جاتی یا مردہ اور بےجان ایرانی روایتوں کی نقّالی کرتی۔ فراق نے ایک نسل کو متاثّر کیا، نئی شاعری کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا اور حسن و عشق کا شاعر ہونے کے باجود ان موضوعات کو نئے زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ جذبات و احساسات کی ترجمانی کی بلکہ شعور و ادراک کے مختلف نتائج بھی پیش کئے۔ ان کا جمالیاتی احساس دوسرے تمام غزل گو شاعروں سے مختلف ہے۔ انہوں نے اردو کے ہی نہیں عالمی ادب کےبھی معیار و اقدار سے قارئین کو آشنا کرایا اور ساتھ ہی...