خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
Massive Corruption in Benazir Income Support Program: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں وسیع پیمانے پر کرپشن
Massive Corruption in Benazir Income Support Program: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں وسیع پیمانے پر کرپشن جون 2008 میں، پاکستان نے **بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا، جو ملک کا سب سے بڑا سماجی امدادی منصوبہ ہے۔ یہ ادارہ 2010 میں ایک خودمختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا، جس سے اس کے دائرہ کار میں توسیع ممکن ہوئی۔ اس پروگرام کا نام پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم **بینظیر بھٹو** کی یاد میں رکھا گیا۔ دسمبر 2024 تک، BISP تقریباً *96 لاکھ خاندانوں* کو سہارا فراہم کر رہا ہے، جس سے تقریباً *5 کروڑ 80 لاکھ افراد* کو فائدہ پہنچ رہا ہے — جو پاکستان کی آبادی کا تقریباً چوتھائی حصہ ہے۔ پروگرام کے لیے انتخاب کا معیار بنیادی طور پر *معاشی ضرورت* پر مبنی ہے، بغیر کسی *مذہبی، نسلی، جغرافیائی یا سیاسی امتیاز* کے۔ اس امداد کے لیے اہل ہونے کے لیے خاندان کی **ماہانہ آمدنی 50,000 روپے (تقریباً 175 امریکی ڈالر) سے کم ہونی چاہیے۔ جنوری 2023 میں، پاکستان کے آڈیٹر جنرل کے دفتر نے قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اطلاع دی کہ BISP کے 19 ارب روپے غیر قانونی طور پر 1,43,000 سرکاری افسران میں تقسیم کی...