ناصر کاظمی: دکھ کا شاعر، غم کا راگی | افضل شکیل ناصر کاظمی دکھ کا شاعر، غم کا راگی اور جدید اُردو غزل کا روح پیکر تعارف: خوابوں اور یادوں کا شاعر جدید اُردو غزل کے اُفق پر ناصر کاظمی وہ روشن ستارہ ہیں جس نے اداسی، ہجرت اور ماضی کی مہک کو ایسے سادہ اور پُر اثر انداز میں ڈھالا کہ قاری کا دل بے ساختہ جھنجھنا اُٹھتا ہے۔ وہ شاعروں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لفظ محض لفظ نہیں، ایک دھڑکتا ہوا زخم ہوتا ہے — اور اسی درد کو انہوں نے بے انتہا خوبصورتی سے پرویا۔ ناصر کاظمی نے اُس دور میں غزل کو نئی زندگی دی جب غزل گوئی پر طرح طرح کے اعتراضات تھے، لیکن ان کے کلام نے فضا بدل دی اور وہ "عہدِ جدید کا میر" کہلائے۔ اُن کا خیال تھا کہ غزل بار بار اُجڑتی ہے اور پھر بسی ہے، بس اچھی شاعری ہی اس کی پہچان ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے انہیں لازوال بنا دیا۔ ✨ "غزل کا احوال دلی کا سا ہے۔ یہ بار بار اُجڑی ہے اور بار بار بسی ہے۔" ✨ — ناصر کاظمی Read on Blog QAIS...
kisi ghareeb ki ezat luti to mn roya nizam e jabr ko taqat mili to mn roya When Injustice Prevails – A Ghazal of Social Pain By Afzal Shakeel Sandhu غزل کسی غریب کی عزت لٹی تو میں رویا نظام جبر کو طاقت ملی تو میں رویا امیر ظلم کے ایواں کا حکمران بنا شریف نفس کو دولت ملی تو میں رویا حقوق یافتہ لوگوں کے محل اونچے ہوئے بھوکے گھر کی عزت بکی تو میں رویا حرام رزق وسیلہ حرام کاموں کا کمین زادوں کو شوکت ملی تو میں رویا دلوں میں فرقہ پرستی کی دیویاں قائم فروغ دین کی دعوت نلی تو میں رویا بنی کے دین کو ٹکڑوں میں بانٹنے والو یہود و کفر کی شہرت ہوئی تو میں رویا سود ملت اسلام کا اصل قاتل معاشی جبر کو طاقت ملی تو میں رویا ناپید آج ہے امتیاز شرق و غرب شرق میں غرب کی صورت بنی تو میں رویا امت آقا کی تعلیم کی ہوئی تارک آنکھ سوئے حرم اٹھ گئی تو میں رویا نبی کی صورت و کردار دیکھنا ہو گا جو بولنے کی اجازت ملی تو میں رویا جدید دور میں یہ اختلاط مرد و زن نشاط زیست قیامت بنی تو میں رویا جدیدیت میں نہاں پھر سے جاہلی صفات جنس زمانے کی عادت بن...