سید حسین عباس رضوی حسنؔ اردو و پنجابی کے معروف شاعر، ادیب اور کمپیئر نام سید حسین عباس رضوی اور تخلص حسنؔ ہے۔ ✦ پیدائش اور تعلیم 18؍اگست 1946ء کو انبالہ، ہریانہ، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ اورینٹل کالج، لاہور سے ایم اے (اردو) اور پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔ ✦ ادبی اور عملی زندگی حسن رضوی کو پی ٹی وی پر اور بعد میں کئی چینلز پر بہت بار سنا وہ باقاعدہ ایک کمپیر بھی تھے اور ان کو کئی پروگرامز کی میزبانی کرتے بھی دیکھا وہ اپنے دور کے مقبول آدمی تھے ایف سی کالج لاہور میں شعبہ اردو کے سربراہ، میر خلیل الرحمن میموریل سوسائٹی کے چیئرمین اور روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے ادبی ایڈیشن کے انچارج تھے۔ حسنؔ رضوی اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کے شاعر تھے۔ ریڈیو اور ٹی وی سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔ ان کی عمدہ کمپیئرنگ اور کمنٹری ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ 🏅 صدارت...
غزل | افضل شکیل سندھو غزل افضل شکیل سندھو سارا جیون وبال میں گذرا لمحہ لمحہ وصال میں گذرا چھوڑئیے تخت و تاج کی باتیں دیکھیئے دن زوال میں گذرا چاند کتنا حسین ہوتا ہے جب بھی حسن خیال میں گذرا محفل گل غدار سے بچھڑے وقت سارا ملال میں گذرا رقص و پازیب کی عملداری درد قحط الدجال میں گذرا کیا ہے مقصد حیات فانی کا دل جو گذرا سوال میں گذرا لوٹ آ اب شکیل گھر اپنے ایک عرصہ دھمال میں گذرا تفصیلی تشریح یہ غزل انسانی زندگی کی پیچیدگیوں، داخلی کشمکش اور وقت کی بے رحمی کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے اپنی پوری زندگی کو ایک ایسے سفر کے طور پر پیش کیا ہے جس میں ہر لمحہ ایک آزمائش بن کر سامنے آیا۔ پہلا شعر ہی ایک شدید احساسِ محرومی اور کرب کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ پوری زندگی ایک وبال کی طرح گزری، یہاں تک کہ وصال کے لمحات بھی سکون دینے کے بجائے بے چینی کا باعث بنے۔ دوسرے شعر میں دنیاوی طاقت اور اقتدار کو رد کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ تخت و تاج کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ ہر چیز آخرکار زوال کا شکار ہوتی ہے۔ تیسرے شعر میں حسن اور خیال کا تعلق ب...