Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2026

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Ustad Daman Complete Profile | A Legendary Punjabi Poet

اسطورۂ مزاح | اُستاد دامن کا فنی سفر | مکمل مضمون 🗣️ اُستاد دامن پُرانا کھلونا، نیا مذاق وہ شخص جس نے ہنسی کو غریبوں کی پونجی بنا دیا ✍️ تحریر : شاہد رضوی | ۲۰۲۵ | اُستاد دامن نمبر ا ُستاد دامن ... صرف ایک نام نہیں، ایک مکمل اساطیری داستان ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان کی تاریک گلیوں، جاگیردارانہ ظلم، مہنگائی اور افلاس کے دور میں بھی ہنسی کی شمع روشن رکھی۔ ان کا اصل نام ‘میاں محمد دین’ تھا، لیکن عوام نے پیار سے ‘دامن’ کہہ کر پکارا — کیونکہ ان کا دامنِ کرم اتنا وسیع تھا کہ غمگین دلوں کو سکون ملتا تھا۔ ان کی مزاح میں طنز کی تیغ بھی تھی اور محبت کی مٹھاس بھی۔ یہ مضمون اُستاد دامن کی شخصیت، فن، لازوال جملوں اور ان کے اُس دورِ سادگی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جب اسٹیج پر کھڑے ہو کر وہ پورا سمندر ہنسانے کی طاقت رکھتے تھے۔ پاکستان کے سنہرے دورِ ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور فلمی صنعت میں اُستاد دامن نے مزاح کی ا...

Ghulam Hamdani Mushaffi | Teacher and A Renowned Urdu Poet

غغلام ہمدانی مصحفیؔ: ایک تعارف | Ghulam Hamdani Mushaffi – Teacher and Urdu Poet غلام ہمدانی مصحفیؔ کا شمار اردو کے اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے۔۔۔ غلام ہمدانی ان کا نام اور مصحفیؔ تخلص تھا۔ اکثر تذکرہ نگارو نے ان کی جائے پیدائش امروہہ لکھی ہے، تاہم مہذب لکھنوی میر حسن کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ دہلی کے قریب اکبر پور میں پیدا ہوئے۔ بہرحال ان کا بچپن امروہہ ہی میں بسر ہوا۔ مصحفی 1747 میں پیدا ہوئے۔۔۔ خاندانی پس منظر اور معاشی زوال مصحفیؔ کے آباء و اجداد خوشحال تھے اور حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے، لیکن سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی خاندان کی خوشحالی بھی رخصت ہو گئی۔ نتیجتاً مصحفیؔ کی پوری زندگی معاشی تنگ دستی میں گزری۔ روزگار کی تلاش نے انہیں مسلسل ایک شہر سے دوسرے شہر کی خاک چھاننے پر مجبور کیے رکھا۔ تلاشِ معاش اور ادبی تربیت وہ دہلی آئے جہاں تلاشِ معاش کے ساتھ ساتھ اہلِ علم و فضل کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ بعد ازاں آنولہ گئے، کچھ عرصہ ٹانڈے میں قیام کیا اور ایک سال لکھنؤ میں رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات سوداؔ سے ہوئی جو اس وقت فرخ آباد سے لکھن...

A dervish and faqeer poet — Saghar Siddiqui.

سساغر صدیقی: ایک تعارف | A dervish and faqeer poet — Saghar Siddiqui. ساغر صدیقی ایسا شاعر ہے جسے میں بچپن سے پڑھتا آیا ہوں سکول دور میں ہی ان کے بارے کتاب خریدی جو پھر ان کی کلیات خریدی جو آج بھی میری ذاتی لائبریری میں موجود ہے ان کا تعارف میں آپ کو انہی کی تحریر سے کرواتا ہوں اردو شاعری کے درد آشنا، جنوں صفت اور المیہ کردار شاعر ساغر صدیقی 1928ء میں انبالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد اختر تھا۔ ساغر کا بچپن ایسی شدید غربت میں گزرا جہاں اسکول یا مدرسے کی باقاعدہ تعلیم کا تصور بھی ممکن نہ تھا۔ فاقہ کشی اور محرومی ان کے گھر کی مستقل حقیقت تھی۔ ابتدائی تعلیم اور شعری ذوق کی بیداری Watch my beautiful Naat اسی ماحول میں محلے کے ایک بزرگ حبیب حسن ساغر کے لیے نعمت ثابت ہوئے۔ ساغر ان کے ہاں آنے جانے لگے اور وہیں سے انہیں ابتدائی تعلیم میسر آئی۔ تاہم انبالہ کی تنگ دستی اور عسرت نے ساغر کے دل میں ایک بے چینی پیدا کر دی۔ چنانچہ تیرہ چودہ برس کی عمر میں وہ انبالہ کو خیرباد کہہ کر امرتسر جا پہنچے امرتسر: محنت، فن اور شاعری کا سنگم امرتسر میں ساغر نے رو...

Short story | News | خبر ،افضل شکیل سندھو کا افسانہ

خخبر|افضل شکیل سندھو کے قلم سے نکلا ہوا ایک خوبصورت افسانہ نوٹ قارئین کرام آپ شعر و شاعری پڑھ کر اور سن کر اکتا نہ گئے ہوں اس لیے میں آپ کو اس یکسانیت سے نکالنے کے لیے آپکے لیے ایک افسانہ لے کر حاضر ہوا ہوں یہ افسانہ منتھلی گہراب ساہیوال میں اگست 2003 کو شائع ہوا امید ہے آپ اس افسانے کو پڑھ کر محظوظ ہونگے ۔ خبر،ایک دلچسپ کہانی ایک دلچسپ افسانہ افسانہ خبر ایک دلچسپ کہانی تحریر : افضل شکیل سندھو موسم سرما کی تیز ہوا جسم سے ٹکرا کے گد گدی پیدا کر رہی تھی۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسٹیشن سے باہر برقی قمقموں کی ہلکی ہلکی روشنی عجیب مزا دے رہی تھی رات اگرچہ اندھیری تھی لیکن دلکش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دس سال کے بعد اپنے پیارے شہر مین قدم رکھا تھا۔اسٹیشن کے باہر رکشے تھے تانگے تھے لیکن میں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بہت سی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف دکا نیں تھیں کچھ بند کچھ کھلی اور کچھ ادھ کھلی۔ میں اپنے وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرنا ہوا آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ ایک موڑ پر مجھے چائے کی دکان کھلی ن...

The first Urdu poet to compile a Diwan — Quli Qutb Sha

قلی قطب شاہ| ااردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر سلطنت قطب شاہی کے پانچویں سلطان، حیدر آباد دکن کے بانی محمد قلی قطب شاہ کا آج یوم وفات ہے۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر، سلطنت قطب شاہی کے پانچویں سلطان، حیدرآباد دکن کے بانی محمد قلی قطب شاہ کا آج یوم وفات ہے۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ والی گولکنڈہ سلطان قطب شاہ کے بیٹے تھے۔ قلی قطب شاہ کی پیدائش 4 اپریل 1565ء کو گولکنڈہ میں ہوئی۔ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان نے 1505ء میں ایک خود مختار ریاست قائم کی اس خاندان کے 8 بادشاہوں میں سے آخری چار بادشاہ اردو زبان کے سرپرست ہونے کے ساتھ ساتھ خود اردو کے بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ قلی قطب شاہ اس خاندان کا پانچواں بادشاہ تھا جو 1580ء میں تخت نشین ہوا۔ ‎قلی قطب شاہ ایک قابل اور انصاف پسند بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے ایک عظیم صاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ انہوں نے تقریباً 50 ہزار سے بھی زیادہ اشعار دکنی اردو زبان میں کہے ہیں۔ جن میں سے بیشتر اشعار کی زبان دکنی ہونے کی وجہ سے قدرے مشکل ہے۔ اردو زبان کے علاوہ قلی قطب شاہ نے تلگو زبان میں بھی بہت سارے اشعار کہے اور اپنا ...

Tufail Hoshiarpuri: The Melodious Ghazals and Naat Reciter

Tufail Hoshiarpuri: The Melodious Ghazals and Naat Reciterسوانحِ حیات طفیل ہوشیارپوری میں نے طفیل ہوشیارپوری کو پی ٹی وی کے سالانہ مشاعروں کے ذریعے پہچانا۔ وہ اپنا کلام ہمیشہ ترنم میں پڑھا کرتے تھے، اور اسی اندازِ ادائیگی نے انہیں میرے اُن پسندیدہ شعرا میں شامل کر دیا جنہیں میں کم عمری ہی سے پسند کرتا آیا ہوں۔ پی ٹی وی پر یا تو رمضان شریف کے موقع پر نعتیہ مشاعرہ نشر ہوتا تھا یا پھر سالانہ مشاعرہ رات گئے دکھایا جاتا تھا۔ چونکہ مجھے شعر و ادب سے بچپن ہی سے گہرا لگاؤ رہا ہے، اس لیے شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا تھا کہ میں ان مشاعروں کو دیکھنے سے محروم رہ جاؤں۔ ان کے آخری دور کے ایک پنجابی مشاعرے میں، انہوں نے پنجابی زبان میں ایک نعت ترنم کے ساتھ پیش کی، جس کا پہلا شعر آج بھی میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ہ پنجابی شعر یوں ہے اوہدی جھولی کدی رہندی نیئں خالی جو ہے میرے محمد ﷺ دا سوالی ان کی آواز نہایت خوبصورت تھی، اور وہ بڑی دلکشی کے ساتھ کلام پڑھا کرتے تھے۔ ان کا کچھ کلام آج بھی ان ہی کی آواز میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ انہی میں ان کی ایک غزل خاص طور پر قابلِ ذکر ...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت (Description): یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ ص...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا 📌 اردو میں Description: یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ " میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے مانگنا اس محبت کو مزی...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world...
Follow This Blog WhatsApp