اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر
سلطنت قطب شاہی کے پانچویں سلطان، حیدر آباد دکن کے بانی محمد قلی قطب شاہ کا آج یوم وفات ہے۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر، سلطنت قطب شاہی کے پانچویں سلطان، حیدرآباد دکن کے بانی محمد قلی قطب شاہ کا آج یوم وفات ہے۔ سلطان محمد قلی قطب شاہ والی گولکنڈہ سلطان قطب شاہ کے بیٹے تھے۔ قلی قطب شاہ کی پیدائش 4 اپریل 1565ء کو گولکنڈہ میں ہوئی۔ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان نے 1505ء میں ایک خود مختار ریاست قائم کی اس خاندان کے 8 بادشاہوں میں سے آخری چار بادشاہ اردو زبان کے سرپرست ہونے کے ساتھ ساتھ خود اردو کے بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ قلی قطب شاہ اس خاندان کا پانچواں بادشاہ تھا جو 1580ء میں تخت نشین ہوا۔
قلی قطب شاہ ایک قابل اور انصاف پسند بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اردو زبان کے ایک عظیم صاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ انہوں نے تقریباً 50 ہزار سے بھی زیادہ اشعار دکنی اردو زبان میں کہے ہیں۔ جن میں سے بیشتر اشعار کی زبان دکنی ہونے کی وجہ سے قدرے مشکل ہے۔ اردو زبان کے علاوہ قلی قطب شاہ نے تلگو زبان میں بھی بہت سارے اشعار کہے اور اپنا تخلص ترکمان رکھا تھا۔
قلی قطب شاہ کا زمانہ وہ ہی ہے جو شمالی ہند میں اکبر بادشاہ کا تھا ۔ قلی قطب شاہ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری میں موسموں، تہواروں، پھولوں اور پھلوں پر طویل نظمیں لکھی ہیں۔ قلی کو ہندستان کی گنگا جمنی تہذیب سے عشق تھا اور اپنے وطن ہندوستان سے بے پناہ محبت تھی۔ ان کی کلیات میں غزلوں، نظموں کے علاوہ مثنویاں ، قصائد ، میراثی اور رباعیات جیسی تمام اصناف موجود ہیں۔ قلی قطب شاہ کی ایک غزل 'بارہ پیاریاں' کے چند اشعار ملاحظہ کریں، جن میں انہوں نے اپنے گوپیوں سے اپنے عشق کا اظہار کچھ اس طرح سے کیا:
پیاری نے کرتوں سجن سوں منم
جو جاگی جوانی تو پھر ہوگئی خم
یقین جان جگ میں ایہہ بات ہے
کہ گوہر پھوٹے پر ہوتا مول کم
جوانی و جوبن ہے سب پاؤنا
کہ تج تھے ہودے عیش سائیں کوں جم
میا آپ سائیں کا رکھ اپنے دل
کہ تج تھے ہوئے عیش سائیں کوں جم
چھنداں سیتی سنگار کر آئی دھن
سہے مکھ پر خوئی کہ جوں پھول پہ نم
نہو آتے ہیں سکیا میں آپ حسن کون
اوچائے ہیں خوباں میں اپنا علم
قلی قطب شاہ کی مشہور نظموں میں عید رمضان، مکھ اور مکا، بسنت، تھنڈکالا، پریم کہانی، حیدر محل، مشتری ، لالن اور چھبیلی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان نظموں میں قلی نے اپنے فن کا جادو جگاتے ہوئے اپنے شعری صلاحیتوں کا لوہا منوایا ۔ قلی قطب شاہ کی ایک مشہور نظم عید رمضان سے چند اشعار ملاحظہ کریں جن میں انہوں نے رمضان کی رونقوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے جذبات اور احساسات کو لفظوں کا پیرہن دیا:
نس عید جلواگر دن صیام ساقی
نوچند تھے ساغراں میں بھر مے میں مدام ساقی
زاہد دیا تھا بھون دن بدنام ہوریا ہوں
پیالے پلا پرم کے کر نیک نام ساقی
مستی تھے آپ صراحی کرتھی سرکشی نت
کرتی ہے جام کوں اب ہر دم سلام ساقی
تیس دن کی خماری توڑن کے باتیں مج کون
کم کم نہ کرتوں دم دم بھر بھر دے جام ساقی
صدقے نبی قطب کون انپڑیا ہے مے طہورا
کوثر تھے ساغر انپڑیا صدقے امام ساقی
ایک بادشاہ اپنے دور حکومت میں اس قدر سلیقے کی شاعری اتنے سکون کے ساتھ اسی وقت کر سکتا ہے جب اس کے دور حکومت میں امن و امان کا بولا بالا ہو ، سیاسی بدامنی اور جنگیں نہ ہونے کے برابر رہی ہوں گی ۔ تبھی وہ سیاسی حصار سے نکل کر شعر و سخن کے دامن کو تھام سکتا ہے اور اپنے ادبی جوہر کی جلوہ گری کا بھرپور مظاہرہ بھی کر سکتا ہے ۔ سلطان قلی قطب شاہ کے زمانے کی تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے دور حکومت میں لوگوں کی زندگی بڑی پرسکون تھی۔ ہر طرف امن و امان قائم تھا۔ بدامنی کا دور دور تک پتہ نہیں تھا۔
بعض مورخین کا خیال ہے کہ محمد قلی قطب شاہ بہت زیادہ عیش پرست بادشاہ تھا، رقص و سرور کی محفلوں کا دلدادہ تھا۔ زیادہ تر وقت اپنی محبوباؤں کی رفاقت میں گذارتا تھا۔ حسن و شباب اور دل کشی قلی قطب شاہ کی کمزوری تھی، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنے فرائض سے غفلت برتتا تھا یا امور سلطنت میں دلچسپی نہیں لیتا تھا وہ سپہ گری کا ماہر تھا ۔ اس کی بہادری اور دلیری کے چرچے دور دور تک مشہور تھے ۔ میدان جنگ میں باقاعدہ حصہ لیا کرتا تھا اور اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھاتا تھا۔ اس کو اپنی رعایات اور سلطنت سے بے پناہ لگاؤ تھا فنون لطیفہ کا بھی قدردان تھا۔ فن خوش نویسی کے لیے ایران اور عراق سے کاتب و خوشنویس بلائے تھے اور باضابطہ وہ مہمانوں کی سرپرستی کیا کرتا تھا۔
قلی قطب شاہ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے۔ انہوں نے ہندستانی مزاج کو اپنی شاعری میں سمو دیا تھا۔ ایرانی اثرات سے متاثر اور شیعہ عقیدہ کے حامل تھے۔ ان کے عہد میں محرم الحرام کی تقریبات کا اہتمام اس قدر اہم ہو گیا تھا کہ بلاتفریق مذہب و ملت ہر گھر میں محرم کا احترام کیا جاتا اور عوام بھی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔
قلی قطب شاہ کو علوم نجوم سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ اپنی شاعری میں انہوں نے نادر تشبیہات اور استعارات کا جگہ جگہ بڑی خوب صورتی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔ منظر نگاری اور کردار نگاری میں انہیں مہارت حاصل تھی۔ اس کی ایک غزل کے چند اشعار ملاحظہ کریں جن میں منظر نگاری اور کردار نگاری کو خاص اہمیت دی گئی ہے:
یاد مج اس رات دیوانہ کتیا
وہ تھا مج ،خواب میں افسانہ کرتا
رات میرے نین مج سونے نہ دیویں
اوہمن گھر میں نپٹ ویرانہ کیتا
شمع مہماں جیوں کرے پروانہ کون رب
مرغ بسمل بھون کر پروانہ کیتا
اب پچھے کا قطب معاشی حال کیوں
قبلہ کون اس کام میں مے خانہ کیتا
قلی قطب شاہ کو نئی نئی عالی شان عمارتیں تعمیر کروانے کا بہت شوق تھا جس کی سب سے بڑی مثال حیدر آباد کا چار مینار ہے ۔قلی قطب شاہ نے چار مینار کو قریب 400 سال پہلے تعمیر کروایا تھا۔ اس نے اپنے نئے دارالخلافہ حیدرآباد میں بہت سی خوب صورت عالی شان عمارتیں تعمیر کروائی تھیں ۔ جن میں سے ایک کا نام حیدر محل ہے جن میں موتیوں کا فرش بچھا ہوا تھا ۔ حیدر محل پر اس نے ایک خوبصورت نظم لکھی تھی اس کے چند اشعار ملاحظہ کریں
:حیدر محل میں دایم حیدر کا جلوا گاؤ
عرش ،آسمان ، دھرت پر ، نصرت طبل بجاؤ
لیا سیم ساق ساقی منج بزم میں
پیالے کی جوت میانے سنائیں صورت دکھاؤ
سورج طبق تھے گالاں میں مے نقل دھروتم
پیاری پرت کے ہاراں پیاری کے گل میں باؤ
یہ منیاں چتیاں ملی شہ روپ پر بھلیاں ملیں
ان ہات قول بیڑادے کرسکتیاں اچاؤ
قلی قطب شاہ کو اپنی شاعری پر بڑا ناز تھا اور انہوں نے اپنے اس احساس کا اظہار اکثر اپنے شعروں میں اس طرح سے کیا ہے
:قصیدہ ہوا غزل لائیا تمہارے پیش کش تائیں
بھرو منج دور میانے موتیاں سہم عید و نوروز
قلی قطب شاہ اپنے آپ کو فارسی کے مشہور شاعر خاقانیؔ کے ہم پلہ سمجھتے تھے اور اپنے اس جذبہ کا اظہار انہوں نے اپنے شعروں میں کچھ اس طرح سے کیا ہے
:الوں کے دشمنان اوپر ازل تھے لعن واجب ہے
اگر ہوئے سمر قندری بخارائی و ملتانی
قلی قطب شاہ ایک اور شعر میں اپنے فن کی تعریف کچھ اس انداز سے کرتے ہیں
:نزاکت شعر کے فن میں خدا بخشا ہے توں تج کوں
معافی شعر تیرا ہے کہ یا ہے شعر خاقانیؔ
قلی قطب شاہ ایک قابل حکمران تو تھے ہی اس کے ساتھ ساتھ ایک بہترین شاعر بھی تھے، انہوں نے تقریباً ہر صنف شاعری میں طبع آزمائی کی۔ ان کی شاعری کے موضوعات میں ہندوستانی رسم و رواج، رہن سہن معاشرت کی ہر چھوٹی بڑی شے کے عناصر موجود ہیں ایک طرف تو انہوں نے نوروز پر شاعری کی تو دوسری طرف انہوں نے عید رمضان ، شب برات ، جشن میلاد النبیؐ وغیرہ پر بڑے ہی مرصع اشعار لکھے ہیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو قلی قطب شاہ کی شاعری کو ایک مکمل اور جامع شاعری کہا جا سکتا ہے جس میں زندگی کے سارے رنگ اور تہذیبی و سماجی عناصر کے مختلف پہلو موجود ہیں۔ سلطان قلی قطب شاہ کی وفات 11 جنوری 1612ء کو حیدر آباد دکن میں ہوئی۔
|منتخب کلام|
ترے درسن کی میں ہوں سائیں ماتی
مجے لاوو پیا چھاتی سوں چھاتی
پیارے ہات دھر سنبھالو منج کوں
تل تل دوتی تج ماتی ڈراتی
پیالا پلاوو منج کوں دم دم
کہ توں ہے دو جگت میں منج سنگاتی
راکھوں تج نین میں راکھوں دل میں
کہ توں میرا پیارا جیو کا ساتی
پیا کے دھیان سوں میں مست ہوں مست
منجے برہے کے بیناں کی سناتی
اگر یک تل پڑے انتر پیا سوں
نین جل سوں سپرت سمدر بھراتی
نبی صدقے کہے قطباؔ کی پیاری
رجا دم دم ادھر پیالا پلاتی
غزل
ہمارا سجن خوش نظر باز ہے
اس دل میں سب عشق کا راز ہے
گلے ہاتھ دے کھیلے ناریاں سوں کھیل
جسوں کھیلے پیو او سرافراز ہے
ادھر رنگ بھرے سہتے مانک نمن
کہ یاقوت رنگ ان تھے ورساز ہے
سکیاں سائیں چھند سوں پنواے اپس
تمن حسن کے تیں سو او ناز ہے
سنوارے ہیں مجلس پیا روپ سوں
مدن مطرب اس میں خوش آواز ہے
سنو انریا ہے من موہنیاں اپنے تیں
پیا کوں اینو سوں ترک تاز ہے
نبی صدقے قطباؔ پہ آنند دار
علی کی میا تھے سدا باز ہے
غزل ۔۔۔۔۔ پیاری کے نیناں ہیں جیسے کٹارے نہ سم اس کے انگے کوئی ہیں دو دھارے اثر تج محبت کا جس کوں چڑے گا ترے لعل بن اس کوں کوئی نہ اتارے دو لوچن ہیں تیرے نسنگ چور راوت او نو سوں دلیری نہ کر سب ہی ہارے سہاتا ہے تج کوں گماں ہور غروری کہ ماتے اہیں تج حسن کے پیارے سکیاں میں تو ہے مرگ نینی چھبیلی سجن تو نہیں ہوتے تج تھے کنارے عجب چپخلائی ہے تیری نین میں کہ کھنجن نمن ایک تل کئیں نہ ٹھارے نبی صدقے قطباؔ سوں مد پیوے جم جم وو چند مکھ کہ جس مکھ تھے جوتی سنگارے اشعار ۔۔۔۔۔ پیا باج پیالا پیا جائے نا پیا باج یک تل جیا جائے نا نبی صدقے کتب شہ دل میں کیتا محبت حیدر کرار احداث پیا کی یاد سوں پیتا ہوں میں مے ہمارا حال کیا جانیں گے سکھ زاد قطبؔ شہ نہ دے مج دوانے کو پند دوانے کوں کچ پند دیا جائے نا محبت کی سلطانی ہے سب جگت میں کہ اس سم نہیں کوئی گیانی و دانی میں نہ جانوں کعبہ و بت خانہ و مے خانہ کوں دیکھتا ہوں ہر کہاں دستہ ہے تج مکھ کا صفا کریں طاقت گنوا کر عابداں مے خانہ کوں سجدہ کیا زنار میں تسبیح دیکھن روئے زیبارا 


Super article
ReplyDeletePurani urdu samjhna or prhna mushkil hey
ReplyDeleteIs k barey pehli dafa prha hey.
ReplyDeleteIs ka Matlab urdu zuban ki tareekh 5 , 6 so Saal hey Lekin itney arsey mn is k ander tabdeeliyan bohat zyada hui hn ye urdu or aaj ki urdu dono bohat mukhtalif hn
ReplyDelete