Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Afzal Shakeel Poetry

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Shehzad Ahmad – Famous Urdu Poet | Biography, Life, Poetry and Literary Contributions

شہزاد احمد | جدید اردو ادب کا نمائندہ شاعر ماہر القادری کی ادبی خدمات پر مبنی میرا بلاگ پڑھنے کے لئے کلک کریں ششہزاد احمد جدید اردو شاعر نام شہزاد_احمد اور تخلص شہزادؔ ہے۔ 16؍اپریل 1932ء کو امرتسر، پنجاب غیر منقسم ہندوستان میں پید ا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے (نفسیات) اور پھر ایم اے (فلسفہ) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1958ء تھل ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر، پبلک ریلشنز کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1966ء میں آرٹس کونسل سے متعلق ہوئے۔ بعدازاں ایک سال ٹیلی وژن سے بھی متعلق رہے۔ احمد ندیمؔ قاسمی کی وفات کے بعد آپ کا تقرر ادبی ادارہ مجلس ترقی ادب کے صدرنشین کی حیثیت سے ہوا۔ آپ کی تصانیف کے نام یہ ہیں :👇 ’صدف‘، ’جلتی بجھتی آنکھیں‘، ’ادھ کھلا دریچہ‘، ’خالی آسمان‘، ’مذہب ، تہذیب، موت‘، ’تخلیقی رویے‘۔’ ’جلتی بجھتی آنکھیں‘ ‘پر آدم جی ادبی انعام ملا۔’دیوار پر دستک‘ کے نام سے کلیات شاعری شائع ہوگئی ہے۔تراجم اور غیر نصابی نفسی...

Short story | News | خبر ،افضل شکیل سندھو کا افسانہ

خخبر|افضل شکیل سندھو کے قلم سے نکلا ہوا ایک خوبصورت افسانہ نوٹ قارئین کرام آپ شعر و شاعری پڑھ کر اور سن کر اکتا نہ گئے ہوں اس لیے میں آپ کو اس یکسانیت سے نکالنے کے لیے آپکے لیے ایک افسانہ لے کر حاضر ہوا ہوں یہ افسانہ منتھلی گہراب ساہیوال میں اگست 2003 کو شائع ہوا امید ہے آپ اس افسانے کو پڑھ کر محظوظ ہونگے ۔ خبر،ایک دلچسپ کہانی ایک دلچسپ افسانہ افسانہ Read my ghazal KABHI DOOR FASLON SE click here خبر ایک دلچسپ کہانی تحریر : افضل شکیل سندھو موسم سرما کی تیز ہوا جسم سے ٹکرا کے گد گدی پیدا کر رہی تھی۔گھٹا ٹوپ اندھیرے میں اسٹیشن سے باہر برقی قمقموں کی ہلکی ہلکی روشنی عجیب مزا دے رہی تھی رات اگرچہ اندھیری تھی لیکن دلکش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دس سال کے بعد اپنے پیارے شہر مین قدم رکھا تھا۔اسٹیشن کے باہر رکشے تھے تانگے تھے لیکن میں نے پیدل چلنے کو ترجیح دی۔ سڑک پر پیدل چلتے ہوئے بہت سی یادوں نے گھیرا ڈال لیا۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف دکا نیں تھیں کچھ بند کچھ کھلی اور کچھ ادھ کھلی۔ میں اپنے وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو محسوس کرنا ہوا آگے ب...

Ghazal: Kis Qayamat Ki Ghari Thi | Poetry by Afzal Shakeel sandhu

The Night of Separation – A Heartbreaking Urdu Ghazal of Pain and Loss https://bit.ly/3RotffE https://bit.ly/3TdyAsy Description: “Kis Qayamat Ki Ghari Thi” is an emotional ghazal written by Afzal Shakeel. This ghazal expresses deep pain, separation, and inner sorrow. Read the full poem below. Watch Merey Payamber, Kalam with Prophet Muhammad (SAW) غزل کِس قیامت کی گھڑی تھی جب جدائی آن پڑی تھی دل تھا دُرد کا سمندر آنکھوں میں اشکوں کی جھڑی تھی قلم تھا میرا خوں سے لبریز تحریر اُس دن جلی سڑی تھی یہ درد اندر ہی پی گیا تھا اگر چہ تکلیف تو بڑی تھی چلے تھے طوفان کیسے کیسے چہار سمت آندھی چڑھی تھی خواب سارے چھن گئے تھے وفا جو بت بنی کھڑی تھی حیرانگی ہے کہ ایک شمع طوفان کو روکنے بڑھی تھی بے فیض دنیا مگر وہ مورت دل کے نگینے پر جڑی تھی شکیل حسرتوں کے اندر حسرتوں کی اک لڑی تھی Read My Blog on HASRAT MOHANI Click here یہ غزل جدائی کے کرب، ٹوٹے خوابوں اور دل کے اندر چھپے ہوئے در...

Whispers of Autumn: A Season of Memories,

Whispers of Autumn: A Season of Memories Watch my website Watch my youtube channel نوازشوں کے وہ موسم کبھی تو یاد کرو وفا کے زور کا دم خم کبھی تو یاد کرو وہ وقت جس میں محبت کی آنچ لپکی تھی بتائے لمحے جو باہم کبھی تو یاد کر غم حیات میں صبح نشاط کی تسکین جمال و حسن کا عالم کبھی تو یاد کرو قرب و شوق کھلے آسماں کی زرد بہار سکون بانٹتے انجم کبھی تو یاد کرو شب ملول کےمفہوم سے نا واقف تھا مسرتوں کا ترنم کبھی تو یاد کرو اڑایا تیز ہوا میں جو مخملی آنچل مزاج جب ہوئے برہم کبھی تو یاد کرو ناز و انداز بانکپن ، ہنسنا کیا گلو ں کو فراہم کبھی تو یاد کرو کبھی تو ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھو وہ لفظ لفظ مجسم کبھی تو یاد کرو زمانہ فرصت اوقات دے تجھے تو ضرور شکیل دور بے ہنگم کبھی تو یاد کرو READ MY BLOG ON JIGER MURADABADI CLICK HERE Description: This ghazal by Afzal Shakeel Sandhu is a heartfelt expression of nostalgia, love, and longing. It beautifully captures the speaker's deep yearning for the past, recalling moments filled with affection, tranquil...

Tere Baghair Ab To Guzara Bhi Nahin Hai – A Deep Urdu Ghazal of Love & Loneliness

Tere Baghair Ab To Guzara Bhi Nahin Hai –تیرے بغیر اب تو گذارا بھی نہیں ہے This is my ghazal which is very favorite of my wife, therefore she insist me to make blog of its first verse. غزل تیرے بغیر اب تو گذارا بھی نہیں ہے اس درد کے قلزم کا کنارا بھی نہیں ہے میری بلندیوں کا سبب جانے کون ہے میں نے تو اپنے آپ کو مارا بھی نہیں ہے اس دور انحطاط میں گم کردہ راہ کو رب کی طرح کا کوئی سہارا بھی نہیں ہے کیسے گرا دوں اپنے تخیل کی یاد گار قتل اپنی آرزو کا گوارا بھی نہیں ہے اس بد نصیب شام میں اک لمحہ بھی شکیل اس کا اگر نہیں تو ہمارا بھی نہیں ہے Visit My Blog On KHUMAR BARABANKVI Click here اردو میں یہ غزل محبت کی شدت، جدائی کے کرب اور داخلی بے بسی کی ایک نہایت اثر انگیز تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے بغیر زندگی کو ادھورا محسوس کرتا ہے، جہاں نہ کوئی سہارا باقی رہتا ہے اور نہ ہی درد کا کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے۔ "اس درد کے قلزم کا کنارا بھی نہیں ہے" جیسے اشعار دل کی بے انتہا ک...

Tutte Dil Naal Katni Raat – A Deep Punjabi Poem on Pain, Love & Life Struggles

پنجابی غزل - شکیل حسن غزل ٹٹے دل نال کٹنی رات بڑی اوکھی اے ایس واری لنگھنی برسات بڑی اوکھی اے جنھا فقر دا دارو پیتا جیوندے نے اناں لوکاں وانگ حیات بڑی اوکھی اے چڑھدا سورج دل روشن نئیں کر سکدا دل وچ چانن کرن دی بات بڑی اوکھی اے شکیل حسن دے آسے پاسے کی پھرنا ہر تھاں ونڈنی عشق خیرات بڑی اوکھی اے Visit My Blog On DERVESH POET SAGHIR SIDDIQUI click here پنجابی غزل کی خوبصورت تشریح ٹٹے دل نال کٹنی رات بڑی اوکھی اے ایس واری لنگھنی برسات بڑی اوکھی اے اس شعر میں شاعر دل کی ٹوٹ پھوٹ اور رات کی تنہائی کو بیان کرتا ہے۔ جنھا فقر دا دارو پیتا جیوندے نے اناں لوکاں وانگ حیات بڑی اوکھی اے یہ شعر درویشی اور فقر کی مشکل زندگی کو بیان کرتا ہے۔ چڑھدا سورج دل روشن نئیں کر سکدا دل وچ چانن کرن دی بات بڑی اوکھی اے اصل روشنی اندر کی ہوتی ہے، جو حاصل کرنا مشکل ہے۔ شکیل حسن دے آسے پاسے کی پھرنا ہر تھاں ونڈنی عشق خیرات بڑی اوکھی اے یہ شعر عشق کی تقسیم اور جذبات کی شدت کو بیان کرتا ہے۔ ...

Mere Samandar Wujood Mein – A Deep Urdu Ghazal of Imagination, Silence & Journey

ممیرے سمندر وجود میں کبھی ڈوبنا merey samander wajood mn kabhi doobna merey takhiual ki aag mn kabhi koodna Watch my poem Naseehat غزل میرے سمندر وجود میں کبھی ڈوبنا میرے تخیل کی آگ میں کبھی کودنا روشنی کے سفر پہ نکلا ہوا ہوں دوست مجھے روشنی کی راکھ میں کبھی ڈھونڈنا یہ جو قلب تازہ ہوا سے بہلا ہے ناگہاں یہی بات بگڑے ماحول میں کبھی پوچھنا میں خاموش رہ کر مزے میں ہوں میرے دوستو یہ پہیلی مست بہار میں کبھی پوچھنا ابھی تک تو جاری و ساری ہے سفر زندگی ہو سکے میرے بعد میں کبھی روٹھنا یہ سفر بھی کتنا عجیب و راحت فریب ہے تم بھی منزل کی آس میں کبھی جھومنا یونہی لطف روٹھا رہا سدا تجھ سے شکیل یہ ہونٹ چٹکتی شام میں کبھی چومنا Visit My Free Verce POEM MUJHEY KISI SE GILA NAHI click here 📌 اردو میں یہ غزل ایک گہرے فکری اور روحانی سفر کی عکاسی کرتی ہے جہاں شاعر اپنے وجود، تخیل اور احساسات کی دنیا میں قاری کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ابتدائی اشعار میں "سمندر وجود" اور "تخیل کی آگ" جیسے استعارے انسان...

انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society

انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society Urdu Poetry & Ghazals Blog انصاف بک رہا ہے تم مانو یا نہ مانو انصاف بک رہا ہے اب اپنی اپنی ٹھانو انصاف بک رہا ہے وکلا کیساتھ ہوتی ہے منصف کی ساز باز جاٹو ، وڈیرو ، خانو انصاف بک رہا ہے بے فیصلہ پڑے ہیں لاکھوں مقدمات تم معری بات مانو انصاف بک رہا ہے آزاد عدلیہ ہوں ، آزاد ہوں ادارے اے جج بے ایمانو انصاف بک رہا ہے قانون سربلند رہے مادر وطن میں مشکل ہے اب جوانو انصاف بک رہا ہے اک جیسے ریفرنس مگر فیصلے جدا خود کو خدا نہ جانو انصاف بک رہا ہے اس قوم کو خدا کے لئے زندہ رہنے دو عدلیہ کے نگہبانو انصاف بک رہا ہے انصاف کے بغیر کہاں جی سکے گی قوم اے لوگ بے زبانو انصاف بک رہا ہے اس بے قدر حیات پہ حیران ہے شکیل جمہور کے دیوانو انصاف بک رہا ہے Visit My Blog On NASIR KAZMI click here اردو میں مکمل تفصیل یہ نظم "انصاف بک رہا ہے" ہمارے معاشرے کے ایک نہایت حساس اور اہم مسئلے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عدل و انصا...

خوابوں کا ایک شہر Khawabon Ka Ek Shehar – A Poem About Peace, Humanity & A World Without War

خخوابوں کا ایک شہرKhawabon Ka Ek Shehar – A Poem About Peace, Humanity & A World Without War خوابوں کا ایک شہر ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دل میں سجا ہوا وہ شہر جس میں امن و محبت کی آرزو کھل کھل کے پھول بننے کا اظہار کر چکی رنج و ملال گر چہ ہیں تقدیر زندگی تقدیر دھول بننے سے انکار کر چکی آو نہ آج مل کر سارے ہم کریں خوابوں کی سرزمیں کو بچانے کی جستجو لمحات قیمتی ہیں میرے دوستو کریں ہم تصورات کو پانے کی جستجو ورنہ تو جوہروں کے یہ کشتے کمال ہیں لمحوں کو اب عروج ہے کل یہ زوال ہیں آو بچایئں گھر کو سبھی پرملال ہیں خطرے تاریکیوں کے ابھی نو نہال ہیں ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دلمیں سجا ہوا Read My GHAZAL HAAR NA MANI click here Watch My Ghazal Tamam wasf Khudaya نوٹ میں نے یہ نظم ایٹمی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں بھرمار کے خلاف لکھی تھی۔ مقصد صاف ظاہر ہے کے دنیا میں ایٹمی جنگوں کو روک کر دنیا کو پر امن اور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانا ہے۔اس نظ...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp