Skip to main content

Posts

Showing posts from February, 2023

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Mohsin Bhopali: A Voice of Urdu Literature and Social Awareness

ممحسن بھوپالی | پاکستان کے انقلابی شاعر - مکمل سوانح اور شاعری ✦ محسن بھوپالی ✦ پاکستان کے انقلابی شاعر · بانیِ "نظمانے" · ہائیکو کے معمار 29 ستمبر 1932 – 17 جنوری 2007 ✍️ تعارف محسن بھوپالی اردو شاعری کے اس عظیم نام ہیں جنہوں نے اپنی جرات مندانہ شاعری، جدت پسندی اور بے پناہ استقامت سے ادب کی دنیا میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ وہ نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ ایک مصنف، مترجم اور ادبی انقلابی بھی تھے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ مصنفِ حیرتوں کی سرزمین کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں، جو سفرناموں پر مبنی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ ❝ چاہت میں کیا دنیاداری، عشق میں کیسی مجبوری ❞ ~ محسن بھوپالی کی مشہور ترین غزل ان کا شمار ان چند اردو شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف غزل، قطعہ، نظم جیسی روایتی اصناف کو اپنایا بلکہ انہوں نے "نظمانے" جیسی نئی صنف ایجاد کی — جو ایک نظم اور افسانے کا حس...

Tamanna Nahi Rahi – Heart Touching Urdu Ghazal | Deep Emotional Poetry by Afzal Shakeel

Tamana nhi rahi تمنا نہیں رہی یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی This ghazal, written by Afzal Shakeel Sandhu, captures the essence of profound disillusionment and a deep sense of detachment from worldly desires and fleeting dreams. It reflects the poet's internal struggle and his resignation to the transience of life and its aspirations. غزل یوں عمر ہو تمام تمنا نہیں رہی ساقی اٹھاؤ جام تمنا نہیں رہی دنیائے رفتنی کے ادھورے خیال و خواب الجھے پڑے ہیں کام تمنا نہیں رہی راہوں میں قمقموں کی بدولت ہو روشنی یہ حسن اہتمام تمنا نہیں رہی جی چاہتا ہے جسم کا بت توڑ پھوڑ دوں بت کو کہاں دوام تمنا نہیں رہی جانے دو اب نا کر میرے دل کو تسلیاں اے عشقِ نا تمام تمنا نہیں رہی سوز طلب،آہ سرد، شام بے کسی میرے رہیں غلام تمنا نہیں رہی پہلو میں دل کے درد کی کلیاں کھلی رہیں یاروں سے ہو کلام تمنا نہیں رہی شوریدہ سر جہاں میں خیالات زندگی اتنے بلند و بام تمنا نہیں رہی اجڑا ہے اب شکیل گلستانِ آرزو دنیا کو صد سلام تمنا نہیں رہی اردو میں مکمل تفصیل ...

کشمیرKashmir Poem – A Heart-Wrenching Reflection on Pain and ظلم

ککشمیر Kashmir Poem – A Heart-Wrenching Reflection on Pain and ظلم کشمیر ہر گھر صف ماتم ہے ہر گھر میں دفن لاشے دیکھے نہیں جاتے ہیں بے گورو کفن لاشے جاتے ہیں کفن باندھے ماؤں کے جگر پارے اس جنت ارضی پر خوں دیتے ہیں یہ سارے سسکیں یہاں امیدیں روتی ہیں تمنائیں وہ حال زبانیں بھی کہتے ہوئے شرمائیں ظلمت کی سیاہ راتیں کرنوں کی تمنائی وحشت میں یہ ظالم لوگ ہو جاتے ہیں سودائی سنبھلے گی مگر کیسے حالات کی سنگینی اس جنت ارضی میں شرماتی ہے رنگینی یہ امن پسندی ہے یہ بشر سے الفت ہے ظالم سے ہے ہمدردی مظلوم سے نفرت ہے یہ نور بھری وادی کیوں کلبہ احزاں ہے کیا خون مسلماں کا اتنا ہی ارزاں ہے Watch This Poem On YouTube اردو میں مکمل تفصیل یہ نظم "کشمیر" ایک دردناک حقیقت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں شاعر نے وادیٔ کشمیر کے موجودہ حالات کو نہایت مؤثر اور جذباتی انداز میں بیان کیا ہے۔ اس کلام میں ظلم، بے بسی، اور انسانی المیے کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے جو قاری کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ نظم کے ابتدائی اشعار میں گھروں کو ماتم کدہ اور لاشوں ...

Popular posts from this blog

Follow This Blog WhatsApp