اسرار الحق مجازؔ لکھنوی: ایک تعارف اردو شاعری کی بیسویں صدی جب اپنے فکری اور جمالیاتی تحولات سے گزر رہی تھی، اسی عہد میں ادب کے افق پر ایک ایسا شاعر نمودار ہوا جس نے اپنی نغمگی، رومان اور انقلابی آہنگ سے نوجوان نسل کے دلوں میں آگ سی لگا دی۔ یہ شاعر اسرار الحق مجازؔ لکھنوی تھے، جو محبت کی لطافت اور بغاوت کی حرارت کو ایک ہی سانس میں سمیٹ لینے کا ہنر رکھتے تھے۔ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر اسرار الحق، المعروف مجازؔ، 19 اکتوبر 1911ء کو اودھ کے قصبہ ردولی (ضلع بارہ بنکی/ایودھیا) میں ایک معزز مگر متوسط زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سراج الحق اس دور میں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوتے تھے اور محکمہ رجسٹریشن میں اسسٹنٹ رجسٹرار کے عہدے تک پہنچے۔ گھریلو فضا علم و تہذیب سے آراستہ تھی، مگر مالی آسودگی وافر نہ تھی۔ مجازؔ کے بہن بھائیوں میں صفیہ اختر اور حمیدہ سالم نمایاں ہیں۔ صفیہ اختر معروف شاعر جان نثار اختر کی اہلیہ تھیں، یوں مجازؔ، جاوید اختر کے ماموں اور سلمان اختر کے قریبی رشتہ دار ٹھہرے۔ اس خاندانی نسبت نے ادب کے ساتھ ان کا رشتہ اور بھی گہرا کر دیا۔ بچپن ہی سے ...
Firaq Gorakhpuri: The Legendary Urdu Poet and His Literary Legacy یوم پیدائش : ۲۸ اگست ۱۸۹۶ء یوم وفات : ۳ مارچ ۱۹۸٢ تعارف فراق گورکھپوری ایک عہد ساز شاعر اور نقّاد تھے۔ ان کو اپنی انفرادیت کی بدولت اپنے زمانہ میں جو شہرت اور مقبولیت ملی وہ کم ہی شعراء کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ اس منزل تک برسوں کی ریاضت کے بعد پہنچے تھے۔ ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی کے بقول اگر فراق نہ ہوتے تو ہماری غزل کی سرزمین بے رونق رہتی، اس کی معراج اس سے زیادہ نہ ہوتی کہ وہ اساتذہ کی غزلوں کی کاربن کاپی بن جاتی یا مردہ اور بےجان ایرانی روایتوں کی نقّالی کرتی۔ فراق نے ایک نسل کو متاثّر کیا، نئی شاعری کی آبیاری میں اہم کردار ادا کیا اور حسن و عشق کا شاعر ہونے کے باجود ان موضوعات کو نئے زاویے سے دیکھا۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ جذبات و احساسات کی ترجمانی کی بلکہ شعور و ادراک کے مختلف نتائج بھی پیش کئے۔ ان کا جمالیاتی احساس دوسرے تمام غزل گو شاعروں سے مختلف ہے۔ انہوں نے اردو کے ہی نہیں عالمی ادب کےبھی معیار و اقدار سے قارئین کو آشنا کرایا اور ساتھ ہی روح عصر، ارضیت اور تہذیب کے توانا پہلوؤں پر زور دے کر ایک صحت مند نظر...