اسطورۂ مزاح | اُستاد دامن کا فنی سفر | مکمل مضمون 🗣️ اُستاد دامن پُرانا کھلونا، نیا مذاق وہ شخص جس نے ہنسی کو غریبوں کی پونجی بنا دیا ✍️ تحریر : شاہد رضوی | ۲۰۲۵ | اُستاد دامن نمبر ا ُستاد دامن ... صرف ایک نام نہیں، ایک مکمل اساطیری داستان ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان کی تاریک گلیوں، جاگیردارانہ ظلم، مہنگائی اور افلاس کے دور میں بھی ہنسی کی شمع روشن رکھی۔ ان کا اصل نام ‘میاں محمد دین’ تھا، لیکن عوام نے پیار سے ‘دامن’ کہہ کر پکارا — کیونکہ ان کا دامنِ کرم اتنا وسیع تھا کہ غمگین دلوں کو سکون ملتا تھا۔ ان کی مزاح میں طنز کی تیغ بھی تھی اور محبت کی مٹھاس بھی۔ یہ مضمون اُستاد دامن کی شخصیت، فن، لازوال جملوں اور ان کے اُس دورِ سادگی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے جب اسٹیج پر کھڑے ہو کر وہ پورا سمندر ہنسانے کی طاقت رکھتے تھے۔ پاکستان کے سنہرے دورِ ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور فلمی صنعت میں اُستاد دامن نے مزاح کی ا...
عدیم ہاشمی: باغی شاعر، درد کا راوی | مکمل بلاگ عدیم ہاشمی باغی مزاج کا شاعر، جلاوطن صدا، لازوال غزلوں کا خالق پیدائش 1 اگست 1946 • فیروزپور، برطانوی ہند وفات 5 نومبر 2001 • شکاگو، امریکہ قلمی نام عدیم (اصل نام: فصیح الدین) شہرت شاعر، ڈراما نگار، نغمہ نگار، مزاحمتی آواز عدیم ہاشمی اردو ادب کے ان منفرد شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے فکر و فن سے روایت کو توڑا اور اپنا الگ راستہ بنایا۔ روایتی غزل کے حسن و عشق کے سانچے میں بغاوت، استبداد اور تنہائی کو اس انداز میں پرویا کہ وہ نہ صرف اپنے دور بلکہ آج بھی ایک زندہ حقیقت ہیں۔ وہ شاعر جس نے پاکستان ٹیلی ویژن کو وہ گیت دیے جو تین نسلوں کی دھڑکن بن گئے، ڈرامے لکھے، مزاح کا ایک شہرہ آفاق سلسلہ "گیسٹ ہاؤس" تخلیق کیا، اور پھر اپنے ہی ملک میں کئی بار جلاوطن ہوئے۔ فاصلے ایسے بھی ہوں گے، یہ کسی نے سوچا؟ "کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ اتنے بڑے فاصلے ہوں گے؟" — عدیم ہاشمی، ایک لازوال غزل ...