Two Poets, Two Poems, (Sahir and Faiz)"Comparative Analysis" Taj Mehal تاج تیرے لیے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں اس پہ اُلفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی میری محبوب پسِ پردۂ تشہیرِ وفا تو نے سطوت کے نشانات کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار مطلقُ الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستون سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جذب ہے ان میں تیرے اور میرے اجداد کا خون میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارا یہ محل یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق اک شہنش...
غغلام ہمدانی مصحفیؔ: ایک تعارف غلام ہمدانی مصحفیؔ کا شمار اردو کے اساتذۂ سخن میں ہوتا ہے۔۔۔ غلام ہمدانی ان کا نام اور مصحفیؔ تخلص تھا۔ اکثر تذکرہ نگارو نے ان کی جائے پیدائش امروہہ لکھی ہے، تاہم مہذب لکھنوی میر حسن کے حوالے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ دہلی کے قریب اکبر پور میں پیدا ہوئے۔ بہرحال ان کا بچپن امروہہ ہی میں بسر ہوا۔ مصحفی 1747 میں پیدا ہوئے۔۔۔ خاندانی پس منظر اور معاشی زوال مصحفیؔ کے آباء و اجداد خوشحال تھے اور حکومت کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہے، لیکن سلطنت کے زوال کے ساتھ ہی خاندان کی خوشحالی بھی رخصت ہو گئی۔ نتیجتاً مصحفیؔ کی پوری زندگی معاشی تنگ دستی میں گزری۔ روزگار کی تلاش نے انہیں مسلسل ایک شہر سے دوسرے شہر کی خاک چھاننے پر مجبور کیے رکھا۔ تلاشِ معاش اور ادبی تربیت وہ دہلی آئے جہاں تلاشِ معاش کے ساتھ ساتھ اہلِ علم و فضل کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ بعد ازاں آنولہ گئے، کچھ عرصہ ٹانڈے میں قیام کیا اور ایک سال لکھنؤ میں رہے۔ اسی دوران ان کی ملاقات سوداؔ سے ہوئی جو اس وقت فرخ آباد سے لکھنؤ منتقل ہو چکے تھے۔ مصحفیؔ، سوداؔ سے بے حد متاثر ہوئے۔ بعد ازاں وہ دوبارہ دہلی ...