خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
انصاف بک رہا ہے Insaaf Bik Raha Hai – A Powerful Urdu Poem on Justice, Corruption & Society Urdu Poetry & Ghazals Blog انصاف بک رہا ہے تم مانو یا نہ مانو انصاف بک رہا ہے اب اپنی اپنی ٹھانو انصاف بک رہا ہے وکلا کیساتھ ہوتی ہے منصف کی ساز باز جاٹو ، وڈیرو ، خانو انصاف بک رہا ہے بے فیصلہ پڑے ہیں لاکھوں مقدمات تم معری بات مانو انصاف بک رہا ہے آزاد عدلیہ ہوں ، آزاد ہوں ادارے اے جج بے ایمانو انصاف بک رہا ہے قانون سربلند رہے مادر وطن میں مشکل ہے اب جوانو انصاف بک رہا ہے اک جیسے ریفرنس مگر فیصلے جدا خود کو خدا نہ جانو انصاف بک رہا ہے اس قوم کو خدا کے لئے زندہ رہنے دو عدلیہ کے نگہبانو انصاف بک رہا ہے انصاف کے بغیر کہاں جی سکے گی قوم اے لوگ بے زبانو انصاف بک رہا ہے اس بے قدر حیات پہ حیران ہے شکیل جمہور کے دیوانو انصاف بک رہا ہے Visit My Blog On NASIR KAZMI click here اردو میں مکمل تفصیل یہ نظم "انصاف بک رہا ہے" ہمارے معاشرے کے ایک نہایت حساس اور اہم مسئلے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں عدل و انصا...