عاصی کرنالی · پاکستان کے معروف اردو شاعر | مکمل سوانح و شاعری ✦ عاصی کرنالی ✦ ؔ پاکستان کے معروف اردو شاعر · آواز · منفرد اسلوب 📖 مجموعی الفاظ ≈ 2650+ | سوانح، شاعری، شخصیت ◆ شناسائی ◆ عاصی کرنالی پاکستان کے نامور اردو شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں اردو روایت کی گرمی، جدید حسیت اور لاہور کی ٹھنڈی فضا کا عکس ملتا ہے۔ عاصی کرنالی صاحب نے غزل، نظم اور آزاد نظم میں اپنی منفرد آواز سے شہرت حاصل کی۔ ان کی شاعری کا اصل موضوع انسانی رشتوں کی بے رنگی، سماجی ناانصافی اور اندرونِ خود کا سفر ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ادبی حلقوں میں ان کا خاص مقام ہے۔ یہ بلاگ انہی کی زندگی، فن اور شاعری کے نمایاں پہلوؤں پر مشتمل ہے — اور ساتھ ہی موبائل و پی سی کے لیے خوبصورت ہلکی رنگتیں بھی پیش کرتا ہے۔ میری عاصی کرنالی صاحب سے پہلی شناسائی پی ٹی وی کے ایک مشاعرے میں ایک قاری کے طور پر ہوئی نعتیہ مشاعرہ تھا جس کا ایک شعر اب بھی مجھے یاد ہے ذرے ذرے میں نہا...
غزل | افضل شکیل سندھو غزل از قلم: افضل شکیل سندھو ادنیٰ سا آدمی ہوں میرے نام پر نہ جا لوگوں نے دھر دیا ہے الزام پر نہ جا ان رتجگوں کا حاصل الفاظ منتشر سے مشکل سخن وری ہے اس کام پر نہ جا انداز بے تکلف مگر گفتگو بے معنی راہ طلب کی خیر ہو آرام پر نہ جا جب قدم رکھا ہے اس دشت بے اماں میں دیکھیں گے اب جو ہو گا انجام پر نہ جا خورشید کی شعاعیں رخ یار تیرا جلوہ دن بھی عجیب شے ہے محض شام پر نہ جا ابتک جنون عزم و یقیں تیرے ساتھ ہے اب زندگی پہ غور کر ابہام پر نہ جا ترک وفا جو کی ہے تو تجدید عہد کیوں پھنسوا نہ دے یہ حسرت پیغام پر نہ جا دیکھا شکیل درد میں راحت کی آب و تاب کچھ حال دل سنوار درو بام پر نہ جا تفصیلی تشریح یہ غزل انسانی ذات کی عاجزی، سماجی رویوں کی تلخی، اور باطنی شعور کی ایک گہری تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے آپ کو ایک عام انسان قرار دیتا ہے، مگر اس سادگی کے پیچھے ایک گہرا فکری نظام اور مشاہدہ پوشیدہ ہے۔ پہلے شعر میں شاعر خود کو "ادنیٰ سا آدمی" کہہ کر ایک طرح کی انکساری کا اظہار کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی معاشرے کی اس عاد...