امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
میر انیس و مرزا دبیر انیسویں صدی کے لکھنؤ میں اردو مرثیہ نگاری کا جو سنہری دور تھا، اس کی سب سے یادگار اور پرجوش فصل میر انیس اور مرزا دبیر کے معرکوں نے سجائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عزاداری محرم کی مجالس نہ صرف عقیدت کا مرکز تھیں بلکہ ادبی معرکہ آرائی کا میدان بھی بن گئی تھیں۔ لکھنؤ کی تہذیب و ادب پرور فضا میں دونوں عظیم مرثیہ گوؤں کے حامیوں میں "انیسیہ" اور "دبیریہ" کے نام سے دو گروہ بن گئے، جو ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے استاد کے فن کی برتری ثابت کرنے کے لیے دل و جان سے لگے رہے۔ یہ معرکے "گھمسان کا رن" کی مانند تھے، مگر یہ رن تلواروں کا نہیں، الفاظ، تشبیہات، بندشوں اور تصویر کشی کا تھا۔ تاریخی پس منظر مرزا سلامت علی دبیر (پیدائش: 29 اگست 1803ء، دہلی — وفات: 6 مارچ 1875ء، لکھنؤ) دہلی سے لکھنؤ آئے اور میر مظفر حسین ضمیر کی شاگردی میں مرثیہ نگاری کا فن سیکھا۔ ان کے مرثیوں میں عربی و فارسی کے گہرے مطالعے کی جھلک ملتی تھی، وہ مضمون آفرینی، تخیل اور بلیغ الفاظ کے استعمال میں ماہر تھے۔ انہوں نے ہزاروں مرثیے لکھے، جن میں ایک پورا مر...