خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
میر انیس و مرزا دبیر انیسویں صدی کے لکھنؤ میں اردو مرثیہ نگاری کا جو سنہری دور تھا، اس کی سب سے یادگار اور پرجوش فصل میر انیس اور مرزا دبیر کے معرکوں نے سجائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عزاداری محرم کی مجالس نہ صرف عقیدت کا مرکز تھیں بلکہ ادبی معرکہ آرائی کا میدان بھی بن گئی تھیں۔ لکھنؤ کی تہذیب و ادب پرور فضا میں دونوں عظیم مرثیہ گوؤں کے حامیوں میں "انیسیہ" اور "دبیریہ" کے نام سے دو گروہ بن گئے، جو ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنے استاد کے فن کی برتری ثابت کرنے کے لیے دل و جان سے لگے رہے۔ یہ معرکے "گھمسان کا رن" کی مانند تھے، مگر یہ رن تلواروں کا نہیں، الفاظ، تشبیہات، بندشوں اور تصویر کشی کا تھا۔ تاریخی پس منظر مرزا سلامت علی دبیر (پیدائش: 29 اگست 1803ء، دہلی — وفات: 6 مارچ 1875ء، لکھنؤ) دہلی سے لکھنؤ آئے اور میر مظفر حسین ضمیر کی شاگردی میں مرثیہ نگاری کا فن سیکھا۔ ان کے مرثیوں میں عربی و فارسی کے گہرے مطالعے کی جھلک ملتی تھی، وہ مضمون آفرینی، تخیل اور بلیغ الفاظ کے استعمال میں ماہر تھے۔ انہوں نے ہزاروں مرثیے لکھے، جن میں ایک پورا مر...