شہزاد احمد | جدید اردو ادب کا نمائندہ شاعر ماہر القادری کی ادبی خدمات پر مبنی میرا بلاگ پڑھنے کے لئے کلک کریں ششہزاد احمد جدید اردو شاعر نام شہزاد_احمد اور تخلص شہزادؔ ہے۔ 16؍اپریل 1932ء کو امرتسر، پنجاب غیر منقسم ہندوستان میں پید ا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے (نفسیات) اور پھر ایم اے (فلسفہ) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1958ء تھل ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر، پبلک ریلشنز کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1966ء میں آرٹس کونسل سے متعلق ہوئے۔ بعدازاں ایک سال ٹیلی وژن سے بھی متعلق رہے۔ احمد ندیمؔ قاسمی کی وفات کے بعد آپ کا تقرر ادبی ادارہ مجلس ترقی ادب کے صدرنشین کی حیثیت سے ہوا۔ آپ کی تصانیف کے نام یہ ہیں :👇 ’صدف‘، ’جلتی بجھتی آنکھیں‘، ’ادھ کھلا دریچہ‘، ’خالی آسمان‘، ’مذہب ، تہذیب، موت‘، ’تخلیقی رویے‘۔’ ’جلتی بجھتی آنکھیں‘ ‘پر آدم جی ادبی انعام ملا۔’دیوار پر دستک‘ کے نام سے کلیات شاعری شائع ہوگئی ہے۔تراجم اور غیر نصابی نفسی...
“PSER Survey and the Unfair Burden on Teachers in Punjab” ("پی ایس ای آر سروے اور اساتذہ پر غیر منصفانہ بوجھ")
“PSER Survey and the Unfair Burden on Teachers in Punjab” ("پی ایس ای آر سروے اور اساتذہ پر غیر منصفانہ بوجھ") 🟧 Description The Punjab Socio-Economic Survey (PSER) has faced public distrust, leading the government to involve teachers in the process. This article highlights the misuse of teachers for non-academic duties, questioning why educators are repeatedly burdened with administrative tasks instead of teaching. پنجاب سوشیو اکنامک سروے میں عوامی بداعتمادی کے باعث اساتذہ کو شامل کیا گیا۔ یہ مضمون اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ اساتذہ کو غیر تدریسی کاموں میں مصروف کر کے تعلیمی معیار کیوں متاثر ہو رہا ہے۔ The Punjab Socio-Economic Survey (PSER) is being conducted with great intensity throughout Punjab. It was launched some time ago, but survey teams have faced significant difficulties. People are often unwilling to share their data or CNIC numbers because they do not trust the young enumerators conducting the survey. Due to this lack of public trust, the government ...