🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ ماہرؔ القادری — حیات، ادبی خدمات اور نعتیہ شاعری منظور حسین المعروف ماہرؔ القادری مظفر وارثی پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں ماہرؔ القادری کا تعارف نام منظور حسین اور تخلص ماہرؔ تھا۔ وہ اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب، نعت گو، نقاد اور صاحبِ اسلوب قلم کار تھے۔ اسلامی اقدار، تہذیبی روایات اور نعتیہ ادب سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ ان کی شخصیت نے اردو ادب میں ایک منفرد مقام پیدا کیا۔ ماہرؔ القادری 30 جولائی 1906ء کو کیسر کلاں، ضلع بلند شہر، اترپردیش، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز حیدرآباد دکن سے کیا۔ بعد ازاں بجنور چلے گئے جہاں انہوں نے مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر کی حیثیت سے ...
Shak شک Watch this poem on youtube نظم شک میرے خدا تیری قدرتوں پر مجھے کامل یقین ہے تجھ سی قدرت رکھنے والا اور کوئی نہیں ہے ہر عیب و غلطی سے مبرا میں تیری ذات ہی سمجھتا ہوں میں نہیں مانتا تجھ سے کوئی غلطی سر زد ہو سکتی ہے مگر اے میرے خدا مجھے اب یہ شک کیونکر ہوا تو لاکھوں بھٹکتے سسکتے انسانوں کی ادھوری قسمتوں میں بنیادی انسانی حقوق لکھنا بھول گیا ہے تو سب کا رازق مالک خالق پھر بھی لوگ نان جویں کے ایک ٹکڑے کے لئے غیرتی عزتیں عصمتیں پس پشت ڈالنے کو تیار تو زمانے کے جعلی خداؤں کا خدا مگر پھر بھی لوگ ان معاشی خداؤں کے آگے روزی اور روزگار کے واسطے سفارشیں پرچیاں رشوتیں پیش کرنے پہ مجبور ہیں ان کے دل ان کے لب اس طلب کے سبب کتنے مہجور ہیں کیا تو نہیں جانتا کتنے سرکش جوان معاشی فکر میں غلطاں خودکشی کے سمندر میں محسور ہیں خدایا ہر اک ذی روح جسم تیری منشا سے پیدا ہوا ہر حرف و فن فہم و تن تیری رضا سے ہویدا ہوا تو پھر ان کی قسمتوں میں زندگی کی عنایات لکھ دے ان تنومند بیکار جسموں کو زندگی کی تمنا سے بھر دے میرا شک دور کر دے ...