خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
Shak شک Watch this poem on youtube نظم شک میرے خدا تیری قدرتوں پر مجھے کامل یقین ہے تجھ سی قدرت رکھنے والا اور کوئی نہیں ہے ہر عیب و غلطی سے مبرا میں تیری ذات ہی سمجھتا ہوں میں نہیں مانتا تجھ سے کوئی غلطی سر زد ہو سکتی ہے مگر اے میرے خدا مجھے اب یہ شک کیونکر ہوا تو لاکھوں بھٹکتے سسکتے انسانوں کی ادھوری قسمتوں میں بنیادی انسانی حقوق لکھنا بھول گیا ہے تو سب کا رازق مالک خالق پھر بھی لوگ نان جویں کے ایک ٹکڑے کے لئے غیرتی عزتیں عصمتیں پس پشت ڈالنے کو تیار تو زمانے کے جعلی خداؤں کا خدا مگر پھر بھی لوگ ان معاشی خداؤں کے آگے روزی اور روزگار کے واسطے سفارشیں پرچیاں رشوتیں پیش کرنے پہ مجبور ہیں ان کے دل ان کے لب اس طلب کے سبب کتنے مہجور ہیں کیا تو نہیں جانتا کتنے سرکش جوان معاشی فکر میں غلطاں خودکشی کے سمندر میں محسور ہیں خدایا ہر اک ذی روح جسم تیری منشا سے پیدا ہوا ہر حرف و فن فہم و تن تیری رضا سے ہویدا ہوا تو پھر ان کی قسمتوں میں زندگی کی عنایات لکھ دے ان تنومند بیکار جسموں کو زندگی کی تمنا سے بھر دے میرا شک دور کر دے ...