Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Love Poetry

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Nasir Kazmi: The Poet of Sorrow, Melancholy, and Modern Urdu Ghazal | Detailed Blog by Afzal Shakil

ناصر کاظمی: دکھ کا شاعر، غم کا راگی | افضل شکیل ناصر کاظمی دکھ کا شاعر، غم کا راگی اور جدید اُردو غزل کا روح پیکر تعارف: خوابوں اور یادوں کا شاعر جدید اُردو غزل کے اُفق پر ناصر کاظمی وہ روشن ستارہ ہیں جس نے اداسی، ہجرت اور ماضی کی مہک کو ایسے سادہ اور پُر اثر انداز میں ڈھالا کہ قاری کا دل بے ساختہ جھنجھنا اُٹھتا ہے۔ وہ شاعروں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لفظ محض لفظ نہیں، ایک دھڑکتا ہوا زخم ہوتا ہے — اور اسی درد کو انہوں نے بے انتہا خوبصورتی سے پرویا۔ ناصر کاظمی نے اُس دور میں غزل کو نئی زندگی دی جب غزل گوئی پر طرح طرح کے اعتراضات تھے، لیکن ان کے کلام نے فضا بدل دی اور وہ "عہدِ جدید کا میر" کہلائے۔ اُن کا خیال تھا کہ غزل بار بار اُجڑتی ہے اور پھر بسی ہے، بس اچھی شاعری ہی اس کی پہچان ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے انہیں لازوال بنا دیا۔ ✨ "غزل کا احوال دلی کا سا ہے۔ یہ بار بار اُجڑی ہے اور بار بار بسی ہے۔" ✨ — ناصر کاظمی Read on Blog QAIS...

Whispers of Autumn: A Season of Memories,

Whispers of Autumn: A Season of Memories Watch my website Watch my youtube channel نوازشوں کے وہ موسم کبھی تو یاد کرو وفا کے زور کا دم خم کبھی تو یاد کرو وہ وقت جس میں محبت کی آنچ لپکی تھی بتائے لمحے جو باہم کبھی تو یاد کر غم حیات میں صبح نشاط کی تسکین جمال و حسن کا عالم کبھی تو یاد کرو قرب و شوق کھلے آسماں کی زرد بہار سکون بانٹتے انجم کبھی تو یاد کرو شب ملول کےمفہوم سے نا واقف تھا مسرتوں کا ترنم کبھی تو یاد کرو اڑایا تیز ہوا میں جو مخملی آنچل مزاج جب ہوئے برہم کبھی تو یاد کرو ناز و انداز بانکپن ، ہنسنا کیا گلو ں کو فراہم کبھی تو یاد کرو کبھی تو ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھو وہ لفظ لفظ مجسم کبھی تو یاد کرو زمانہ فرصت اوقات دے تجھے تو ضرور شکیل دور بے ہنگم کبھی تو یاد کرو Description: This ghazal by Afzal Shakeel Sandhu is a heartfelt expression of nostalgia, love, and longing. It beautifully captures the speaker's deep yearning for the past, recalling moments filled with affection, tranquility, and joy. The ghazal reflects on the strength of lo...

apney honey ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity

apney hone ka | Borrowed Existence – A Soulful Urdu Ghazal of Love and Identity Urdu shayari collection || Heart Touching Urdu shayari || Heart Touching Urdu Poetry || Sad Shayari || Broken heart Poetry || Love Poetry || Mohabbat Ki Shayari https://bit.ly/3RotffE https://bit.ly/3TdyAsy Ye tmam ghazlen ye tmam mazameen jo is afzal shakeel page ki zeenat bn Rahi hn in mn zyada tr poetry purani hey Kuch taza kalam b lga deta hon baz cheezen fori nawiat ki hoti hn jaisey k phalisteen pr nazm. afzalshakeel.blogspot.com Rekhta - Urdu Poetry غزل اپنے ہونے کا احساس میں نے تم سے لیا یوں لگا ہر سانس میں نے تم سے لیا یہ سرد مہری غم ہجر کی قیامت ہے تشبیہات کا افلاس میں نے تم سے لیا سایہ بن کے تیرے ساتھ ساتھ چلتا رہا دوستی کا یہ اخلاس میں نے تم سے لیا مہک ہمیشہ سے موضوع رہا ہے پھولوں کا مگر یہ پھول بن باس میں نے تم سے لیا میں لکھ رہا تھا کہانی کے چند اچھے نقوش پر یہ لہجہ پر ہراس میں نے تم سے لیا بیرون دل بھی تلاطم ہے اور اند...

raabta ustwar tha | Loss of Love and Fading Identity – A Heartfelt Urdu Ghazal

raabta ustwar tha | Loss of Love and Fading Identity – A Heartfelt Urdu Ghazal رابطہ استوار نہ رہا رابطہ استوار تھا نہ رہا دل میرا بیقرار تھا نہ رہا اپنی بے چین آرزو کی قسم میں کبھی سوگوار تھا نہ رہا شام ساکت تھی چاند تھا مدھم اس گھڑی انتظار تھا نہ رہا رخ روشن کی دید سے محروم آیئنہ اشکبار تھا نہ رہا خواہشیں بے لگام ہونے لگیں خود پہ جو اختیار تھا نہ رہا چاند غاروں میں چھپ گیا ہوگا ایک ہی یار غار تھا نہ رہا یاد تو کر تمہاری نظروں میں میں کبھی با وقار تھا نہ رہا ہیں پریشان آج موسمی پھول باغ پر بھی نکھار تھا نہ رہا کل میرے دوست یہ کہیں گے شکیل ایک نغمہ نگار تھا نہ رہا غزل کی اردو وضاحت یہ غزل انسانی جذبات کی شکست و ریخت، محبت کے زوال اور ذات کے بکھرنے کی ایک گہری اور درد بھری تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر ابتدا ہی میں اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ جو تعلق کبھی مضبوط تھا، اب باقی نہیں رہا اور دل کی بے قراری بھی ماند پڑ چکی ہے۔ اشعار میں ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو کبھی اپنی خواہشات اور احساسات سے بھرپور تھا، مگر وقت کے ساتھ وہ کی...

damn Mera pabnd | Lost Echoes of Loyalty | Urdu Ghazal by Afzal Shakeel

غزل — وفا اور بے وفائی کی کہانی | افضل شکیل سندھو غزل — وفا اور بے وفائی کی کہانی غزل دامن میرا پابند وفا اب نہیں رہا شوق طلب میں تیرے فنا اب نہیں رہا میں جانتا ہوں فصل تمنا ہوئی تمام سینے میں تھا جو شور بپا اب نہیں رہا جاؤ در رقیب پہ مژدہ خوشی کا دو بستی میں تیری آبلہ پا اب نہیں رہا خوش قسمتی سے داغ رفاقت سے دل بچا تیرے لیے اک حرفِ دعا اب نہیں رہا لوگ اب وفا کے وعدوں سے منحرف ہو چکے پالیں یہ روگ حوصلہ اب نہیں رہا ان ساعتوں کی یاد بھی مٹ جانی چاہئیے شائد کوئی بھی زخم ہرا اب نہیں رہا جا روشنی کو ڈھونڈ جا روشنی کا پوچھ روشن جہاں میں کوئی دیا اب نہیں رہا تہمت زدہ شکیل فقیروں کے بھیس میں خوش بخت شہر اور گدا اب نہیں رہا تعارف یہ غزل انسانی جذبات، محبت، وفا اور وقت کے بدلتے رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے نہایت دلنشین انداز میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ وقت کے ساتھ جذبات، تعلقات اور امیدیں بھی بدل جاتی ہیں۔ مرکزی خیال غزل کا بنیادی خیال یہ ہے کہ محبت اور وفا جیسے جذبے اب اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہے۔ شاعر ایک ایسے دور کی تصویر پیش کرتا...

Tere Baghair Ab To Guzara Bhi Nahin Hai – A Deep Urdu Ghazal of Love & Loneliness

Tere Baghair Ab To Guzara Bhi Nahin Hai –تیرے بغیر اب تو گذارا بھی نہیں ہے This is my ghazal which is very favorite of my wife, therefore she insist me to make blog of its first verse. غزل تیرے بغیر اب تو گذارا بھی نہیں ہے اس درد کے قلزم کا کنارا بھی نہیں ہے میری بلندیوں کا سبب جانے کون ہے میں نے تو اپنے آپ کو مارا بھی نہیں ہے اس دور انحطاط میں گم کردہ راہ کو رب کی طرح کا کوئی سہارا بھی نہیں ہے کیسے گرا دوں اپنے تخیل کی یاد گار قتل اپنی آرزو کا گوارا بھی نہیں ہے اس بد نصیب شام میں اک لمحہ بھی شکیل اس کا اگر نہیں تو ہمارا بھی نہیں ہے اردو میں یہ غزل محبت کی شدت، جدائی کے کرب اور داخلی بے بسی کی ایک نہایت اثر انگیز تصویر پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے محبوب کے بغیر زندگی کو ادھورا محسوس کرتا ہے، جہاں نہ کوئی سہارا باقی رہتا ہے اور نہ ہی درد کا کوئی کنارہ دکھائی دیتا ہے۔ "اس درد کے قلزم کا کنارا بھی نہیں ہے" جیسے اشعار دل کی بے انتہا کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔ غزل میں تصور اور حق...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

Merey nazuk badn ne terey drki khaak chani hey

میرے نازک بدن نے – ایک درد بھری غزل میرےنازک بدن نے میرے نازک بدن نے تیرے در کی خاک چھانی ہے جیسے رات نے روشن سحر کی خاک چھانی ہے بتا کس طرف کو جائیں تجھے چھوڑیں یا اپنائیں مگر تم یاد رکھنا عمر بھر کی خاک چھانی ہے چلے آئے ہو سمجھانے دل بیدرد نہ مانے تمھیں ہوتی خبر کس کس نگر کی خاک چھانی ہے مانا وفا پر جبر ہے لیکن مجھے یہ خبر ہے زندگی کے حسن نے روز حشر کی خاک چھانی ہے تلاطم خیز ہے طوفاں مقابل اس کے ہے ارماں اشک نے باربار اس چشم تر کی خاک چھانی ہے تجھ کو غرور عز و ناز لیکن مقدر حرص و آز تو نے جمال جانگداز بحر و بر کی خاک چھانی ہے اچھے بھلے ہو تم شکیل مانا کہ وہ بھی ہیں جمیل جمال یار میں نے اشک تر کی خاک چھانی ہے تفصیل یہ غزل محبت، جدائی، تلاش اور انسانی جذبات کی گہرائیوں کو نہایت خوبصورت اور اثر انگیز انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر نے اپنے احساسات کو "خاک چھاننے" کے استعارے کے ذریعے بیان کیا ہے، جو عشق میں م...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily appare...
Follow This Blog WhatsApp