```html حسرت موہانی: انقلاب کا شاعر، آزادی کا مسافر | افضل شکیل بلاگ ✦ حسرت موہانی ✦ انقلاب کا شاعر، تحریک آزادی کا مجاہد، اردو ادب کا امین "انقلاب زندہ باد" کا خالق | قلم اور جدوجہد کا بے مثال سنگم برصغیر کی تاریخ میں ایسی شخصیات کم ہی گزری ہیں جنہوں نے ایک ہی وقت میں شاعری، سیاست اور انقلابی فکر کو اتنی بلندیوں تک پہنچایا ہو۔ مولانا سید فضل الحسن، جو ''حسرت موہانی'' کے نام سے مشہور ہیں، نہ صرف اردو کے عظیم شاعر تھے بلکہ آزادیٔ ہند کی جدوجہد کے ایک سرخیل رہنما، تحریک خلافت کے معمار اور مجلسِ قانون ساز کے منتخب رکن تھے۔ انہوں نے وہ نعرہ دیا جو آج بھی دلوں میں گونجتا ہے — '''انقلاب زندہ باد''' ۔ یہ بلاگ افضل شکیل ڈاٹ بلاگ سپاٹ ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے حسرت موہانی کی فکر، فن اور فکرِ انقلاب پر ایک جامع اور تفصیلی نگارش ہے، جس میں تقریباً 5000 الفاظ میں ان کی پوری داستان رقم کی گئی ہے۔ Read My Ghazal BAZM E HASTI MN Click ...
ااصل اصل روز الست سے تجھ کو ڈھونڈنے نکلا ہوں اتنی عمر گزاری تیری چاہت میں صدیوں پہلے میں نے رب کے سامنے تیرا نام لیا اتنےزمانوں بعد بھی مجھ کو تیرے نام نے تھام لیا جب تک اسیر قفس عنصری ہوں اس قید سے آزادی تک میں تجھے تلاش کرتا رہا تیری ہستی کے اک اک پہلو کا دم بھرتا رہا کیونکہ ہر نقل اصل کی طرف گامزن ہے تو میری اصل ہے یا رحمت عالم حدیثِ جابر بن عبداللہؓ (حدیثِ نور) اور میری نظم کا باطنی پس منظر اسلامی روایت میں ایک مشہور روایت “حدیثِ نور” کے نام سے معروف ہے جسے حضرت جابر بن عبداللہ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس روایت کے مطابق جب جابرؓ نے حضور اکرم ﷺ سے سوال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا؟ تو جواب میں نورِ محمدی ﷺ کا ذکر آیا۔ اگرچہ اس روایت کی اسنادی حیثیت پر محدثین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، لیکن صوفیاء اور اہلِ محبت نے اسے ایک روحانی حقیقت اور عرفانی استعارے کے طور پر قبول کیا ہے۔ اس تصور کے مطابق کائنات کی تخلیق کا آغاز نورِ محمدی ﷺ سے ہوا اور تمام موجودات اسی نور کی تجلیات ہیں۔ یہی وہ فکری پس منظر ہ...