ناصر کاظمی: دکھ کا شاعر، غم کا راگی | افضل شکیل ناصر کاظمی دکھ کا شاعر، غم کا راگی اور جدید اُردو غزل کا روح پیکر تعارف: خوابوں اور یادوں کا شاعر جدید اُردو غزل کے اُفق پر ناصر کاظمی وہ روشن ستارہ ہیں جس نے اداسی، ہجرت اور ماضی کی مہک کو ایسے سادہ اور پُر اثر انداز میں ڈھالا کہ قاری کا دل بے ساختہ جھنجھنا اُٹھتا ہے۔ وہ شاعروں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لفظ محض لفظ نہیں، ایک دھڑکتا ہوا زخم ہوتا ہے — اور اسی درد کو انہوں نے بے انتہا خوبصورتی سے پرویا۔ ناصر کاظمی نے اُس دور میں غزل کو نئی زندگی دی جب غزل گوئی پر طرح طرح کے اعتراضات تھے، لیکن ان کے کلام نے فضا بدل دی اور وہ "عہدِ جدید کا میر" کہلائے۔ اُن کا خیال تھا کہ غزل بار بار اُجڑتی ہے اور پھر بسی ہے، بس اچھی شاعری ہی اس کی پہچان ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے انہیں لازوال بنا دیا۔ ✨ "غزل کا احوال دلی کا سا ہے۔ یہ بار بار اُجڑی ہے اور بار بار بسی ہے۔" ✨ — ناصر کاظمی Read on Blog QAIS...
Maan ki yaad | The Mothers Who Made Us a human beings ماں کی یاد ماں جواں ہونے سے پہلے چل بسی یہ کمی جو رہ گئی سو رہ گئی دل لگا کر آج تک کچھ نہ کیا کھو گئی سارے جہاں کی دل کشی رمضان کی وہ ساعتیں ہیں یادگار ستائیسیں کی شب جدائی بےبسی بھاری دل سے دفن کرکے آگئے رات کو مسجد میں صلواہ تسبیح پڑھی جیسے سر پر آسماں گر جاتا ہے قریب سے دیکھی ہے میں نے وہ گڑھی پاوں کے نیچے زمیں ہی سرک جائے اتنی لمبی رات نہ دیکھی کبھی بہت مشکل سے سنبھالا اپنا آپ تقدیر بس پیچھے ہی پیچھے رہ گئی اس ظرح جینے کا جینا کیا کہوں عمر بھر جیسے کٹی بے رونقی میں بہت آگے جانا چاہتا تھا ماں کے سائے بن کہاں تھی روشنی بار بار میں لڑ کھڑا کے رہ گیا سامنے بس دھند اور بس دھند تھی خواب میں آنے کی کرتا ہوں دعا دیکھیئے وہ بھی نہ پوری ہو سکی مارچ ۲۰۱۲ تفصیلی اردو وضاحت یہ نظم "ماں کی یاد" ایک ایسے دل کی پکار ہے جس نے اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سہارا کھو دیا ہو۔ شاعر اپنی ماں کی جدائی کے اس دکھ کو نہایت سادہ مگر انتہائی اثر انگیز انداز میں بیان کرتا ہے، جو...