خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
جگر مرادآبادی | روحِ غزل کا آخری قافلہ سالار جگر مرادآبادی غزل کے آخری امیرِ سخن "غمِ زندگی سے بھاگنا بے وقوفی ہے، جگرؔ نے اسی حقیقت کو خوبصورت غزلوں میں پرویا" 💜 تعارف: وہ قافلہ سالار جس نے غزل کو نیا آسمان دیا اردو شاعری کا سفر جتنے بھی نامور شاعروں سے گزرا ہے، جگر مرادآبادی کا مقام کسی بھی تناظر میں اوجِ ثریا سے کم نہیں۔ علی سکندر (جگر مرادآبادی) نے جب قلم اٹھایا تو برصغیر کی ادبی فضا میں داغ دہلوی، اقبال، فانی بدایونی اور جوش ملیح آبادی جیسے جواہر موجود تھے، لیکن جگر نے اپنی بے ساختہ سادگی، درد کی گہرائی اور نغمگی سے ایک ایسا اسلوب وضع کیا جسے آج بھی نقاد "جگریہ رنگ" کہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرف عاشقانہ بے قراری ہے تو دوسری طرف وہ صوفیانہ کرن بھی چھپک کر آتی ہے۔ ۶ اپریل ۱۸۹۰ کو مرادآباد میں پیدا ہونے والے جگر نے نہ صرف غزل کو مقبولیت کی بلند ترین سطح پر پہنچایا بلکہ عام ف...