خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
Whispers of Autumn: A Season of Memories Watch my website Watch my youtube channel نوازشوں کے وہ موسم کبھی تو یاد کرو وفا کے زور کا دم خم کبھی تو یاد کرو وہ وقت جس میں محبت کی آنچ لپکی تھی بتائے لمحے جو باہم کبھی تو یاد کر غم حیات میں صبح نشاط کی تسکین جمال و حسن کا عالم کبھی تو یاد کرو قرب و شوق کھلے آسماں کی زرد بہار سکون بانٹتے انجم کبھی تو یاد کرو شب ملول کےمفہوم سے نا واقف تھا مسرتوں کا ترنم کبھی تو یاد کرو اڑایا تیز ہوا میں جو مخملی آنچل مزاج جب ہوئے برہم کبھی تو یاد کرو ناز و انداز بانکپن ، ہنسنا کیا گلو ں کو فراہم کبھی تو یاد کرو کبھی تو ماضی کے اوراق پلٹ کر دیکھو وہ لفظ لفظ مجسم کبھی تو یاد کرو زمانہ فرصت اوقات دے تجھے تو ضرور شکیل دور بے ہنگم کبھی تو یاد کرو READ MY BLOG ON JIGER MURADABADI CLICK HERE Description: This ghazal by Afzal Shakeel Sandhu is a heartfelt expression of nostalgia, love, and longing. It beautifully captures the speaker's deep yearning for the past, recalling moments filled with affection, tranquil...