امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
Two Poets, Two Poems, (Sahir and Faiz)"Comparative Analysis" تاج محل Read My Punjabi roohani ghazal AIS RAH DI MUSAFAT click here تاج تیرے لیے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں اس پہ اُلفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی میری محبوب پسِ پردۂ تشہیرِ وفا تو نے سطوت کے نشانات کو تو دیکھا ہوتا مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار مطلقُ الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستون سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور جذب ہے ان میں تیرے اور میرے اجداد کا خون میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود آج تک ان پہ جلائی نہ ک...