Two Poets, Two Poems, (Sahir and Faiz)"Comparative Analysis"
Taj Mehalتاج تیرے لیے اک مظہرِ اُلفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیٔ رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزمِ شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی
ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ اُلفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی
میری محبوب پسِ پردۂ تشہیرِ وفا
تو نے سطوت کے نشانات کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلقُ الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستون
سینۂ دہر کے ناسور ہیں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں تیرے اور میرے اجداد کا خون
میری محبوب انہیں بھی تو محبت ہوگی
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارا یہ محل
یہ منقش در و دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اُڑایا ہے مذاق میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے ساحر لدھیانوی کی نظم "تاج محل نظم کے آغاز میں شاعر محبوب سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر تاج محل تمہارے لیے محبت کی علامت ہے تو ٹھیک ہے اور اگر تم اس رنگین وادی سے عقیدت رکھتی ہو تو وہ بھی درست ہے۔ لیکن شاعر دراصل اس رومانوی تصور کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ محبوب کے خیال کو وقتی طور پر مان کر اپنی بات آگے بڑھاتا ہے۔ یہاں ساحر محبت کے روایتی تصور سے اختلاف کا آغاز کرتا ہے۔ اس کے بعد شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ وہ کہیں اور آ کر اس سے ملے، کیونکہ شاہی درباروں اور امیروں کی محفلوں میں غریبوں کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ شاعر یہ واضح کرتا ہے کہ جہاں شاہی طاقت اور دولت کے نشان ہوں، وہاں سچی محبت رکھنے والے دلوں کا گزر بے معنی ہو جاتا ہے۔ یہاں ساحر طبقاتی فرق اور سماجی ناانصافی کو نمایاں کرتا ہے۔
اگلے حصے میں شاعر محبوب کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اگر وہ وفا کے پردے میں چھپی ہوئی حقیقت کو دیکھتی تو اسے شاہی طاقت کے اصل نشانات نظر آتے۔ شاعر مردہ بادشاہوں کے مقبروں سے نکلنے والی روشنی اور ان کے تاریک محلات کا ذکر کرتا ہے تاکہ یہ ثابت کرے کہ شاہی عظمت دراصل ظلم اور جبر پر قائم ہوتی ہے۔ یہاں ساحر تاریخ کے تلخ پہلو کو بے نقاب کرتا ہے۔ اس کے بعد شاعر کہتا ہے کہ دنیا میں بے شمار لوگوں نے محبت کی ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کے جذبات سچے نہیں تھے، لیکن ان کی محبت کو کبھی شہرت نہیں ملی، کیونکہ وہ بھی غریب تھے۔ یہاں ساحر یہ ثابت کرتا ہے کہ تاریخ ہمیشہ طاقتور اور امیر لوگوں کی محبت کو عظمت کا درجہ دیتی ہے جبکہ غریبوں کی محبت کو نظر انداز کر دیتی ہے۔
نظم کے اگلے حصے میں شاعر عظیم عمارتوں، مقبروں، فصیلوں اور قلعوں کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب مطلق العنان بادشاہوں کی عظمت کے ستون ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ عمارتیں تاریخ کے زخم ہیں، جن میں شاعر کے اور محبوب کے آباؤ اجداد کا خون جذب ہے۔ یہاں ساحر واضح کرتا ہے کہ یہ شاندار عمارتیں دراصل انسانی قربانیوں اور ظلم کی یادگار ہیں۔
اس کے بعد شاعر کہتا ہے کہ جن مزدوروں اور کاریگروں نے تاج محل کو خوبصورت شکل دی، یقیناً انہیں بھی محبت ہوگی، لیکن ان کے محبوبوں کے مقبرے گمنام رہے اور آج تک ان پر کسی نے چراغ نہیں جلایا۔ یہاں ساحر مزدور طبقے کی محرومی اور بے قدری کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔
آخر میں شاعر تاج محل کے حسن، جمنا کے کنارے، باغات اور محل کی نقش و نگار کا ذکر کر کے یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ایک بادشاہ نے دولت کے سہارے غریبوں کی محبت کا مذاق اڑایا ہے۔ نظم کے اختتام پر شاعر پھر محبوب سے کہتا ہے کہ وہ کہیں اور آ کر اس سے ملے، کیونکہ شاہی عظمت اور دولت کے ماحول میں سچی محبت کی کوئی جگہ نہیں۔ اس طرح ساحر تاج محل کو محبت کی علامت نہیں بلکہ طبقاتی ظلم اور استحصال کی علامت قرار دیتا ہے۔ نظم "مجھ سے پہلی سی محبت فیض احمد فیض کی نظم "مجھ سے پہلی سی محبت" اردو ادب کی ایک اہم اور معروف نظم ہے، جس میں شاعر نے محبت کے روایتی تصور کو ایک نئے اور وسیع انسانی تناظر میں پیش کیا ہے۔ اس نظم میں فیض نے ذاتی اور رومانوی محبت کو سماجی شعور اور انسانی درد سے جوڑ کر ایک نئی فکری جہت عطا کی ہے۔ یہ نظم دراصل رومانیت سے حقیقت پسندی کی طرف سفر کی علامت ہے۔
نظم کے آغاز میں شاعر محبوب سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پہلے اس کی محبت خالص رومانوی تھی اور محبوب ہی اس کے لیے پوری دنیا تھا۔ محبوب کا حسن، اس کی قربت اور اس کی یادیں شاعر کے دل و دماغ پر حاوی تھیں اور وہ دنیا کے دیگر مسائل سے بے خبر تھا۔ اس مرحلے پر شاعر کی محبت ذاتی اور جذباتی نوعیت کی تھی۔
آگے چل کر شاعر کے شعور میں تبدیلی آتی ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں محبت کے علاوہ بھی بہت سے دکھ، غم اور مسائل موجود ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ زندگی صرف محبوب کے حسن تک محدود نہیں بلکہ اس میں ظلم، ناانصافی، غربت اور انسانی محرومی بھی شامل ہیں۔ اس طرح شاعر کی سوچ میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
نظم کے اگلے حصے میں شاعر معاشرے کے مظلوم اور دکھی انسانوں کا ذکر کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ انسان کس طرح ظلم و جبر، غربت اور محرومی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف ذاتی محبت میں گم نہیں رہ سکتا۔ یہاں فیض کی شاعری میں اجتماعی شعور اور انسان دوستی نمایاں ہو جاتی ہے۔ آخر میں شاعر محبوب سے کہتا ہے کہ وہ اب بھی اسے چاہتا ہے، مگر پہلے جیسی محبت ممکن نہیں رہی۔ اب اس کی محبت میں پوری انسانیت کا درد شامل ہو چکا ہے۔ اس طرح فیض کے نزدیک محبت صرف ذاتی جذبہ نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی احساس بن جاتی ہے، اور یہی نظم کا بنیادی پیغام ہے۔
ساحر لدھیانوی اور فیض احمد فیض کی نظموں کا تقابلی مطالعہ ساحر لدھیانوی اور فیض احمد فیض اردو ادب کے دو عظیم ترقی پسند شعرا ہیں، جنہوں نے محبت کے موضوع کو روایتی رومانیت سے نکال کر سماجی اور انسانی شعور سے جوڑا۔ اگرچہ دونوں شاعروں کا تعلق ترقی پسند تحریک سے ہے، لیکن محبت کے تصور کو پیش کرنے کا انداز مختلف ہے۔ ساحر کی نظم "تاج محل" اور فیض کی نظم "مجھ سے پہلی سی محبت" اس فرق کو واضح طور پر نمایاں کرتی ہیں۔
ساحر لدھیانوی کی نظم "تاج محل" میں شاعر تاج محل کے روایتی رومانوی تصور کو رد کرتا ہے۔ وہ تاج محل کو محبت کی علامت ماننے کے بجائے شاہی طاقت، دولت اور طبقاتی ظلم کی نشانی قرار دیتا ہے۔ ساحر کے نزدیک یہ عظیم عمارت غریبوں کے خون اور پسینے کی قیمت پر تعمیر ہوئی ہے، اس لیے اسے محبت کی یادگار کہنا دراصل غریب انسان کی محبت کی توہین ہے۔ ساحر کی شاعری میں احتجاج، طنز اور طبقاتی شعور نمایاں ہے، اور وہ براہِ راست سماجی ناانصافی پر حملہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس فیض احمد فیض کی نظم "مجھ سے پہلی سی محبت" میں شاعر محبت کو مکمل طور پر رد نہیں کرتا بلکہ اسے ایک وسیع انسانی تناظر میں پیش کرتا ہے۔ فیض کے نزدیک محبت صرف ذاتی جذبہ نہیں بلکہ سماجی شعور اور انسانی درد سے جڑی ہوئی ہے۔ نظم کے آغاز میں شاعر خالص رومانوی محبت کا اظہار کرتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ اسے احساس ہوتا ہے کہ دنیا میں محبت کے علاوہ بھی بہت سے دکھ اور مسائل موجود ہیں۔ اس طرح فیض کی نظم میں رومانیت سے حقیقت پسندی تک کا سفر دکھایا گیا ہے۔ اگر دونوں نظموں کے لہجے کا موازنہ کیا جائے تو ساحر کا لہجہ تلخ، جارحانہ اور احتجاجی ہے، جبکہ فیض کا لہجہ نرم، درد مند اور فکری ہے۔ ساحر محبت کے تصور کو توڑتا ہے، جبکہ فیض محبت کو نئے معنی دیتا ہے۔ ساحر کے ہاں محبت طبقاتی فریب بن جاتی ہے، جبکہ فیض کے ہاں محبت انسانی شعور میں ڈھل جاتی ہے۔ مزید یہ کہ ساحر کی نظم میں اجتماعی شعور براہِ راست اور واضح انداز میں سامنے آتا ہے، جبکہ فیض کی نظم میں یہی شعور علامتی اور جذباتی انداز میں پیش ہوتا ہے۔ ساحر تاریخ اور شاہی نظام پر تنقید کرتا ہے، جبکہ فیض انسان کے داخلی احساسات اور خارجی حقیقت کے درمیان تعلق پیدا کرتا ہے۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ ساحر اور فیض دونوں نے محبت کو سماجی شعور سے جوڑا، لیکن ان کا زاویۂ نظر مختلف ہے۔ ساحر محبت کو طبقاتی ناانصافی کے خلاف احتجاج بناتا ہے، جبکہ فیض محبت کو انسانیت کے درد اور اجتماعی شعور کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اس طرح دونوں نظمیں اردو ادب میں محبت کے تصور کو ایک نئی فکری جہت عطا کرتی ہیں اور ترقی پسند ادب کی بہترین مثالیں ہیں۔
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel!
Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu
Watch my Ghazal Kra tha bojh
Watch My poem SHAK
Visit My Poem Kashmir
Comparison of Sahir Ludhianvi and Faiz Ahmed Faiz’s Poems
Introduction
Sahir Ludhianvi and Faiz Ahmed Faiz are two great progressive poets of Urdu literature. Both poets presented the theme of love in a social and humanistic perspective. However, their approach to love is different. Sahir’s poem “Taj Mahal” and Faiz’s poem “Mujh Se Pehli Si Mohabbat” clearly show this difference.
Sahir Ludhianvi’s Poem: Taj Mahal
In Taj Mahal, Sahir rejects the traditional romantic concept of love. He does not consider the Taj Mahal a symbol of true love; instead, he sees it as a sign of royal power, wealth, and class oppression. According to Sahir, this magnificent monument was built on the blood and sweat of poor workers. Therefore, calling it a symbol of love is actually an insult to the love of common people. Sahir’s poetry reflects protest, satire, and strong social consciousness.
Faiz Ahmed Faiz’s Poem: Mujh Se Pehli Si Mohabbat
In contrast, Faiz does not completely reject love but redefines it in a broader human context. For Faiz, love is not only a personal emotion but also connected with social awareness and human suffering. At the beginning of the poem, the poet expresses pure romantic love, but gradually he realizes that there are many other pains and problems in the world besides love. Thus, Faiz’s poem shows a journey from romanticism to realism.
Tone and Style
The tone of Sahir is bitter, revolutionary, and direct, while the tone of Faiz is soft, emotional, and philosophical. Sahir breaks the traditional concept of love, whereas Faiz expands it with new meanings. For Sahir, love becomes a class illusion, while for Faiz, love transforms into a symbol of human consciousness.
Social Awareness
In Sahir’s poetry, social awareness appears directly and explicitly, while in Faiz’s poetry, it appears in a symbolic and emotional form. Sahir criticizes history and the royal system, whereas Faiz creates a connection between inner feelings and external reality.
Conclusion
In conclusion, although both Sahir and Faiz connect love with social consciousness, their perspectives are different. Sahir turns love into a protest against class injustice, while Faiz makes love a means of expressing human suffering and collective awareness. Therefore, both poems give a new intellectual dimension to the concept of love in Urdu literature.
Love Poetry Urdu
The opinions and comments of friends will be respected.



Wah bohat khooob dono nazmen Kamal hn or muazna b Kamal ka kia hey
ReplyDeleteWah nihayet ala jaiza liya hai
ReplyDelete