Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2023

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Qaiser Ul Jafri: A Distinguished Voice in Modern Urdu Poetry

قیصر الجعفری - ممبئی کا درویش شاعر | مکمل بلاگ ✨ قیصر الجعفری ✨ شہرِ ممبئی کا وہ درویش شاعر جس کا کلام چراغِ راہ ہے "یہ ہیں وہ قیصر الجعفری جن کی غزلیں سن سن کر ہم سمجھتے رہے کہ یہ نذیر قیصر کی ہیں" ✍️ مختصر ترین تعارف قیصر الجعفری ممبئی کے ایک ایسے درویش شاعر تھے جن کی لکھی ہوئی غزلیں آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ غلطی سے یہ کلام اکثر نذیر قیصر کے نام منسوب کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیصر الجعفری نے اپنے طویل 75 سالہ شعری سفر میں اردو شاعری کو وہ گہرائی دی ہے جس کی مثال کم ملتی ہے۔ 💔 کتنی مہنگی چیز تھی دنیا، کتنی سستی چھوڑ چلے 💔 ~ قیصر الجعفری 📖 فہرست مضامین تعارف اور ایک افسانوی غلط فہمی کا ازالہ زندگی کا سفر: بمبئی کے گلی کوچوں سے شعری بلندیوں تک شاعری کی خصوصیات: سادگی کے پردے میں گہرا المیہ وہ مشہور اشعار جنہوں نے دل جی...

duniya ki tamna hey | Heartfelt Praise of Prophet Muhammad (PBUH)

دنیا کی تمنا ہے نہ دولت کی طلب ہے duniya ki tamna hey na dolat ki talb hey Naat نعت دنیا کی تمنا ہے نہ دولت کی طلب ہے دل تیری محبت میں مگر جان بلب ہے یہ خاک حسینوں کی اداؤں سے حسیں ہے تجھ سا نہیں انداز ہوتی شان عجب ہے راتوں نے سیاہی تیری زُلفوں سے چرائی دن نے تیرے چہرے سے لیا نور غضب ہے تو ہی میری دنیا میرے ایمان کی حد ہے تو ہی میری تسکین ہے جینے کا سبب ہے جس خاک کو چھو لے اسے فردوس بنا دے مدحت کی زباں دیکھئیے پتھر میں جذب ہے اے خالق ہستی کے حبیب رحمت عالم مجھ کو تیری توصیف کا آتا نہیں ڈھب ہے کہتا ہے زمانہ کہ شکیل بھٹکا ہوا ہے جو تیری اطاعت میں ہے بھٹکا ہوا کب ہے (Urdu): یہ نعت رسولِ اکرم ﷺ کی محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا ایک نہایت خوبصورت اور دل سوز اظہار ہے۔ شاعر نے اس کلا...

Merey nazuk badn ne terey drki khaak chani hey

میرے نازک بدن نے – ایک درد بھری غزل میرےنازک بدن نے میرے نازک بدن نے تیرے در کی خاک چھانی ہے جیسے رات نے روشن سحر کی خاک چھانی ہے بتا کس طرف کو جائیں تجھے چھوڑیں یا اپنائیں مگر تم یاد رکھنا عمر بھر کی خاک چھانی ہے چلے آئے ہو سمجھانے دل بیدرد نہ مانے تمھیں ہوتی خبر کس کس نگر کی خاک چھانی ہے مانا وفا پر جبر ہے لیکن مجھے یہ خبر ہے زندگی کے حسن نے روز حشر کی خاک چھانی ہے تلاطم خیز ہے طوفاں مقابل اس کے ہے ارماں اشک نے باربار اس چشم تر کی خاک چھانی ہے تجھ کو غرور عز و ناز لیکن مقدر حرص و آز تو نے جمال جانگداز بحر و بر کی خاک چھانی ہے اچھے بھلے ہو تم شکیل مانا کہ وہ بھی ہیں جمیل جمال یار میں نے اشک تر کی خاک چھانی ہے تفصیل یہ غزل محبت، جدائی، تلاش اور انسانی جذبات کی گہرائیوں کو نہایت خوبصورت اور اثر انگیز انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر نے اپنے احساسات کو "خاک چھاننے" کے استعارے کے ذریعے بیان کیا ہے، جو عشق میں م...

Hamd حمد Hamd – Praise of Allah | Spiritual Urdu Poetry

Hamd – Praise of Allah | Spiritual Urdu Poetry حمد گرتے ہوؤں کو تھامنا تیرا کمال ہے جو بھی حسین چیز ہے تیرا جمال ہے تیرے بس ایک اشارے پر دنیا جل تھل ہو سکتی ہے تو جو چاہے اک لمحے میں ہر روح چھل بل ہو سکتی ہے شمس و قمر سیار کا دھارا تیرے حکم سے قائم ہے ہم سب فانی بندے تیرے تیری ذات ہی دائم ہے ذرہ ذرہ اس جہاں کا ثنائے حق میں گم دیکھا تخلیق کا ہر جوہر ہر معانی سر تسلیم خم دیکھا گرتے ہوؤں کو تھامنا تیرا کمال ہے جو بھی حسین چیز ہے تیرا جمال ہے محمد افضل شکیل س...

جھومرJhoomer Poem – Punjabi Folk Poetry and Cultural Dance Tradition

Jhoomer Poem – Punjabi Folk Poetry and Cultural Dance Tradition Jhoomer is the kind of Punjabi dance occurs on the pleasure occasions in whole punjab.punjab is spreaded over vast Land including deserts,hill areas,lush green feilds.In the past jhoomer was the major icon of Punjab.I live whole my life in punjab so the love of Punjab is in my blood.in this poem I describe major specifications of this region in a beautiful poem. جھومر پگڑی کی عزت شان پنج دریا موج اٹھان ناچ اور ڈھول کی تھاپ مٹی کی گہری چھاپ یہ گھبرو شیر جوان پنجاب کی پہچان شملہ آسمان کو چومے کس لطف اور شان سے جھومے دل حامل پیار خلوص یک رنگ ہے یک ملبوس واری واری دل جان پنجاب کی پہچان سب ہیچ ہے دول امارت چستی کے ساتھ مہارت گھنگھرو کی میٹھی چھن چھن چمٹے کی ڈھول سے ان بن سبزہ کھیت کھلیان پنجاب کی پہچان یہ دھرتی ماؤں جیسی گرمی میں چھاؤں جیسی ہم اس دھرتی کے بیٹے ...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily appare...
Follow This Blog WhatsApp