🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ مظفر وارثی — اردو کے عظیم نعت گو شاعر مظفر وارثی اردو ادب کے ممتاز شاعر، نعت گو، حمد گو، نغمہ نگار اور صاحبِ اسلوب ادیب تھے۔ ان کا اصل نام محمد مظفر الدین صدیقی تھا۔ وہ 23 دسمبر 1933ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے لاہور کو اپنا مسکن بنایا اور اردو شاعری میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ حفیظ تائب پر میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں تعارف مظفر وارثی نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ غزل، نظم، نعت، حمد، منقبت، گیت اور قطعات سمیت کئی شعری اصناف میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ تاہم عوامی سطح پر ان کی سب سے بڑی پہچان نعتیہ شاعری بنی۔ ان کے نعتیہ کلام میں عشقِ رسول ﷺ، عقیدت، روحانی کیفیت اور عاجزی ...
دنیا کی تمنا ہے نہ دولت کی طلب ہے duniya ki tamna hey na dolat ki talb hey Naat نعت دنیا کی تمنا ہے نہ دولت کی طلب ہے دل تیری محبت میں مگر جان بلب ہے یہ خاک حسینوں کی اداؤں سے حسیں ہے تجھ سا نہیں انداز ہوتی شان عجب ہے راتوں نے سیاہی تیری زُلفوں سے چرائی دن نے تیرے چہرے سے لیا نور غضب ہے تو ہی میری دنیا میرے ایمان کی حد ہے تو ہی میری تسکین ہے جینے کا سبب ہے جس خاک کو چھو لے اسے فردوس بنا دے مدحت کی زباں دیکھئیے پتھر میں جذب ہے اے خالق ہستی کے حبیب رحمت عالم مجھ کو تیری توصیف کا آتا نہیں ڈھب ہے کہتا ہے زمانہ کہ شکیل بھٹکا ہوا ہے جو تیری اطاعت میں ہے بھٹکا ہوا کب ہے Visit My NAAT MERI HAYAT KA JOHAR click here Urdu: یہ نعت رسولِ اکرم ﷺ کی محبت، عقیدت اور روحانی وابستگی ...