🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ ماہرؔ القادری — حیات، ادبی خدمات اور نعتیہ شاعری منظور حسین المعروف ماہرؔ القادری مظفر وارثی پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں ماہرؔ القادری کا تعارف نام منظور حسین اور تخلص ماہرؔ تھا۔ وہ اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب، نعت گو، نقاد اور صاحبِ اسلوب قلم کار تھے۔ اسلامی اقدار، تہذیبی روایات اور نعتیہ ادب سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ ان کی شخصیت نے اردو ادب میں ایک منفرد مقام پیدا کیا۔ ماہرؔ القادری 30 جولائی 1906ء کو کیسر کلاں، ضلع بلند شہر، اترپردیش، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز حیدرآباد دکن سے کیا۔ بعد ازاں بجنور چلے گئے جہاں انہوں نے مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر کی حیثیت سے ...
Read My Punjabi Ghazal IS RAH DI MUSAFAT click here شکیل بدایونی: حیات اور فن 🖋️ شکیل بدایونی — حیات، فن اور جاوداں شاعری — تعارف اردو شاعری اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ میں شکیل بدایونی کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام شکیل احمد تھا اور وہ 3 اگست 1916ء کو بدایوں، اتر پردیش میں ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کلاسیکی اردو غزل، درد بھرے نغمات اور رومانی شاعری کے لیے مشہور شکیل بدایونی نے اپنے کلام سے لاکھوں دلوں کو مسحور کیا۔ ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر شکیل بدایونی کے والد محمد جمیل احمد قادری سوختہ ممبئی کی ایک مسجد میں خطیب اور پیش امام تھے۔ وہ ایک صاحبِ علم شخصیت تھے اور چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے باوقار پیشہ اختیار کرے۔ چنانچہ انہوں نے شکیل کے لیے گھر پر ہی عربی، فارسی، اردو اور ہندی کی تعلیم کا اہتمام کیا۔ اگرچہ خاندان میں شاعری کی روایت عام نہ تھی،...