Read My Punjabi Ghazal IS RAH DI MUSAFAT click here
🖋️ شکیل بدایونی
— حیات، فن اور جاوداں شاعری —
تعارف
اردو شاعری اور فلمی نغمہ نگاری کی تاریخ میں شکیل بدایونی کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔ ان کا اصل نام شکیل احمد تھا اور وہ 3 اگست 1916ء کو بدایوں، اتر پردیش میں ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کلاسیکی اردو غزل، درد بھرے نغمات اور رومانی شاعری کے لیے مشہور شکیل بدایونی نے اپنے کلام سے لاکھوں دلوں کو مسحور کیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر
شکیل بدایونی کے والد محمد جمیل احمد قادری سوختہ ممبئی کی ایک مسجد میں خطیب اور پیش امام تھے۔ وہ ایک صاحبِ علم شخصیت تھے اور چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے باوقار پیشہ اختیار کرے۔ چنانچہ انہوں نے شکیل کے لیے گھر پر ہی عربی، فارسی، اردو اور ہندی کی تعلیم کا اہتمام کیا۔
اگرچہ خاندان میں شاعری کی روایت عام نہ تھی، لیکن ان کے ایک دور کے رشتہ دار ضیاء القادری بدایونی مذہبی شاعر تھے۔ ان کی صحبت اور بدایوں کے ادبی ماحول نے نوجوان شکیل کے دل میں شاعری کا چراغ روشن کر دیا۔ کم عمری ہی سے انہیں الفاظ کے ساتھ کھیلنے اور احساسات کو شعر کے قالب میں ڈھالنے کا جنون تھا۔
تعلیم اور ابتدائی حالات
شکیل بدایونی نے ابتدائی تعلیم بدایوں کے مکتب اور مدرسے میں حاصل کی۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچے۔ 1936ء میں یہاں داخلے کے بعد ان کی ادبی سرگرمیاں مزید تیز ہو گئیں۔ وہ کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر منعقد ہونے والے مشاعروں میں باقاعدگی سے حصہ لینے لگے اور اکثر ان مقابلوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران انہوں نے باقاعدہ طور پر شاعری کی تربیت حکیم عبد الواحد "اشک" بجنوری سے حاصل کی۔ اسی زمانے میں ان کی ملاقات معروف شاعر جگر مرادآبادی سے بھی ہوئی جس نے ان کے شعری شعور کو نئی جہت عطا کی۔ جگر مرادآبادی ہی نے انہیں فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کا مشورہ دیا۔ ابتدائی تعلیم بدایوں ہی میں حاصل کرنے کے بعد، اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ بمبئی (موجودہ ممبئی) آ گئے اور سینٹ زیویئرز کالج میں داخلہ لیا۔ مگر مالی مجبوریوں کی وجہ سے انہیں تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ اس کے بعد انہوں نے کرافورڈ مارکیٹ میں ایک دواخانہ (میڈیکل اسٹور) پر کام شروع کر دیا، مگر ان کا دل ہمیشہ ادبی دنیا میں رہتا تھا۔
Read My Blog On USTAD QAMAR JALALVI click here
ازدواجی زندگی اور دہلی کا زمانہ
1940
ء میں شکیل بدایونی نے اپنی قریبی عزیز سلمیٰ سے شادی کی۔ دونوں بچپن سے ایک ہی گھر میں رہتے تھے مگر خاندان میں پردے کا سخت رواج ہونے کے باعث ان کے درمیان قربت کا ماحول زیادہ نہ تھا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دہلی چلے گئے جہاں انہوں نے مرکزی حکومت کے محکمۂ سپلائی میں ملازمت اختیار کی۔ سرکاری ذمہ داریوں کے باوجود انہوں نے مشاعروں میں شرکت کا سلسلہ جاری رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی شہرت ہندوستان کے مختلف شہروں تک پھیل گئی۔
اس زمانے میں بیشتر شعراء سماجی مسائل اور معاشرتی ناانصافیوں کو موضوع بناتے تھے، مگر شکیل بدایونی کی طبیعت کا میلان اس سے مختلف تھا۔ ان کے ہاں رومانویت، محبت اور دل کے لطیف احساسات بنیادی موضوعات تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے:
میں شکیل دل کا ہوں ترجماں کہ محبتوں کا ہوں رازداں
مجھے فخر ہے مری شاعری مری زندگی سے جدا نہیں
ادبی سفر کا آغاز
شکیل بدایونی نے باقاعدہ شاعری کا آغاز مشاعروں میں شرکت سے کیا۔ ان کی شاعری میں جلد ہی درد، محبت، اور انسانیت کے احساسات کی گہرائی لوگوں نے محسوس کی۔ ممبئی کے ادبی حلقوں میں ان کی مقبولیت بڑھی تو ان کی ملاقات نامور موسیقار نوشاد سے ہوئی، جس نے ان کی شاعری کو سراہا اور انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔
فلمی کیریئر اور نغمہ نگاری
شکیل بدایونی کا فلمی کیریئر 1947 میں ریلیز ہونے والی فلم "درد" سے شروع ہوا۔ اس فلم کے نغمے بے حد مقبول ہوئے۔ اس کے بعد تو انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے "بائجو باورا" (1952)، "مدر انڈیا" (1957)، "مغلِ اعظم" (1960)، "گنگا جمنا" (1961)، اور "میرے محبوب" (1963) جیسی عظیم فلموں کے لیے یادگار گیت تحریر کیے۔
"او رے ماجھی، میرا سجن ہے اس پار" (مدر انڈیا) اور "بیکس پہ کرم کیجیے" (مغلِ اعظم) جیسے گیت آج بھی زباں پر رقص کرتے ہیں۔ ان کی غزلوں اور گیتوں میں اردو کے کلاسیکی الفاظ، محبت کی لطافت اور زندگی کی تلخیوں کا نادر امتزاج پایا جاتا ہے۔
Read My Blog On DR BASHEER BADR click here
اعزازات اور سرکاری اعتراف
شکیل بدایونی کی فنی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ انہوں نے مسلسل تین برس فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین نغمہ نگار حاصل کیے: 1961ء — چودھویں کا چاند ہو 1962ء — حسن والے تیرا جواب نہیں 1963ء — کہیں دیپ جلے کہیں دل بعد ازاں حکومتِ ہند نے انہیں "گیت کارِ اعظم" کے خطاب سے بھی نوازا۔ شکیل بدایونی اپنے فن کا لوہا منوانے والے شاعر تھے۔ انہیں فلم فیئر اعزاز برائے بہترین نغمہ نگار کئی بار ملا۔ فلم "بائجو باورا" کے گیتوں پر پہلی بار یہ اعزاز انہیں عطا ہوا۔ ان کی شاعری کو نہ صرف فلمی دنیا بلکہ ادبی حلقوں میں بھی ہمیشہ سراہا گیا۔ ان کا شمار کلاسیکی اردو غزل کے آخری معماروں میں ہوتا ہے۔
ذاتی زندگی اور دوست احباب
شکیل بدایونی محض شاعر ہی نہیں بلکہ خوش مزاج اور زندہ دل انسان بھی تھے۔ انہیں بیڈمنٹن کھیلنا، سیر و تفریح، شکار اور پتنگ بازی کا خاص شوق تھا۔ اکثر وہ اپنے دوستوں نوشاد علی، محمد رفیع اور کبھی کبھار جانی واکر کے ساتھ پتنگ بازی کے مقابلے کیا کرتے تھے۔ فلمی دنیا میں ان کے قریبی دوستوں میں دلیپ کمار، وجاہت مرزا، خمار بارہ بنکوی اور اعظم بازیدپوری جیسے نام شامل تھے۔
شاعری کا اسلوب
ان کی شاعری کا اسلوب نہایت سادہ، مگر بامعنی ہے۔ وہ غم، تنہائی، محبت ناکامی اور سماجی بے حسی کو بڑے مؤثر انداز میں بیان کرتے تھے۔ عشق کا تصوف، انسانیت کا درد، اور مایوسی کے باوجود ایک کربناک امید ان کی شاعری کی پہچان ہے۔ فلمی گیتوں میں بھی انہوں نے ادبی معیار کو قائم رکھا اور کبھی شعریت کو قربان نہیں ہونے دیا۔
Read My Blog On QULI QUTAB SHAH click here
وفات اور میراث
یہ عظیم شاعر 20 اپریل 1970ء کو ممبئی میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ لیکن ان کی شاعری اور گیت آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں اردو ادب کا وہ "غمگین رومانوی" شاعر کہا جاتا ہے جس نے زندگی کی حقیقتوں کو بہت خوبی سے الفاظ کا جامہ پہنایا۔
بعد از مرگ گھریلو حالات
زندگی کے آخری برسوں میں شکیل بدایونی ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا ہو گئے۔ بالآخر 20 اپریل 1970ء کو ممبئی کے ایک اسپتال میں انہوں نے 53 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت لی۔ ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل تھیں۔ انہیں ممبئی میں ہی آسودہ خاک کیا گیا مگر قبرستان کی انتظامیہ نے 2010ء میں ان کی قبر کا نام و نشان مٹا دیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے دوست احمد ذکریا اور رنگون والا نے "یادِ شکیل" کے نام سے ایک ٹرسٹ قائم کیا تاکہ ان کے اہلِ خانہ کی مدد کی جا سکے ادبی ورثہ شکیل بدایونی کے شعری مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں جن میں: غمِ فردوس صنم و حرم رعنائیاں رنگینیاں شبستاں ان کی کلیات ان کی زندگی ہی میں شائع ہو چکی تھی، جبکہ ان کی خود نوشت 2014ء میں منظرِ عام پر آئی۔ شکیل بدایونی نے اپنی شاعری میں محبت، حسن اور انسانی جذبات کو ایسی سادگی اور سوز کے ساتھ بیان کیا کہ ان کے اشعار اور نغمے آج بھی سامعین کے دلوں میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ صرف ایک شاعر نہیں بلکہ محبت کے ترجمان تھے، جن کے الفاظ آج بھی دلوں کی دنیا کو روشن رکھتے ہیں۔
✧ نمونہ کلام: غزل ✧
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے
مجحے خوف ہے یہ تہمت تیرے نام تک نہ پہنچے
میں نظر سے پی رہا تھا کہ یہ دل نے بد دعا دی
تیرا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے
وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن
وہ صدائے اہل دل کیا جو عوام تک نہ پہنچے
میرے طائر نفس کو نہیں باغباں سے رنجش
ملے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے
نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کحیں شام تک نہ پہنچے
یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک
مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے
جو نقاب رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دی
اٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی بام تک نہ پہنچے
انہیں اپنے دل کی خبریں میرے دل سے مل رہی ہیں
میں جا ان سے روٹھ جا وں تو پیام تک نہ پہنچے
وہی اک خاموش نغمہ ہے شکیل جان ہستی
جو زبان پر نہ آئے جو کلام تک نۃ پہنچے
اے محبت! تیرے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج تیرے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام اُمیدوں میں گزر جاتی ہے
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
کبھی تقدیر کا ماتم، کبھی دنیا کا گلہ
منزلِ عشق میں ہر گام پہ رونا آیا
مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری
اس قدر گردشِ ایام پہ رونا آیا
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا ؔشکیل
مجھ کو اپنے دلِ ناکام پہ رونا آیا
— شکیل بدایونی (غزل)
✧ نمونہ کلام: فلمی گیت ✧
🎬 "او رے ماجھی" (مدر انڈیا، 1957)
او رے ماجھی، میرا سجن ہے اس پار
ترے بغیر میرا کون سہارا، کس سے کروں میں پیار
پاگل پنچھی کو چین نہیں ہے، اڑتا ہے ادھر ادھر
لہروں کی بن میں کھویا رہتا، برسے نہ جب تلک بدر
میرا بچپن، میرا جوبن، سب کچھ ہے اس پار
او رے ماجھی، میرا سجن ہے اس پار
Read Blog On SUFI GHULAM MUSTAFA TABASSAM Click here
— شکیل بدایونی (فلم: مدر انڈیا)
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

بہت عمدہ خوبصورت اور معلوماتی آرٹیکل ہے پڑھ کر معلومات میں اضافہ ہوا
ReplyDeleteWah sir bohat ala
ReplyDeleteپڑھ کر مزا آیا انتہائی چھان بین اور تحقیق کے بعد مرتب کیا گیا یہ آرٹیکل قارئین کے لئے معلومات اور ادبی زندگی کا شاہکار ہے
ReplyDelete