خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
Modern vs. Traditional Classrooms in Pakistan پاکستان میں جدید اور روایتی کلاس رومز کا موازنہ تعارف گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کے نظامِ تعلیم میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ روایتی کلاس رومز، جو کبھی تعلیمی نظام کی بنیاد سمجھے جاتے تھے، اب بتدریج جدید اور ٹیکنالوجی سے مدد یافتہ تعلیمی ماحول کو جگہ دے رہے ہیں۔ آج کے دور میں دونوں نظام — روایتی اور جدید — ایک ساتھ موجود ہیں، کیونکہ پاکستان بتدریج ڈیجیٹل اور طلبہ مرکوز تعلیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روایتی کلاس رومز پاکستان، خاص طور پر صوبہ پنجاب، جہاں ہم رہتے ہیں اور جس کے تعلیمی نظام کے بارے میں ہمیں زیادہ معلومات ہیں، وہاں آج بھی زیادہ تر کلاس رومز روایتی طرزِ تعلیم پر قائم ہیں۔ ان کلاس رومز میں عام طور پر ایک میز، کرسی، بچوں کے ڈیسک، اور ایک بلیک بورڈ یا وائٹ بورڈ ہوتا ہے۔ استاد لیکچر دے کر طلبہ کو سبق پڑھاتا ہے، پچھلا سبق سنتا ہے اور ٹیسٹ لیتا ہے۔ اگر طالبِ علم کو سبق یاد ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ اُسے مختلف قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان سزاؤں کی تفصیل میں نے اپنے 20 اکتوبر کے بلاگ **"تعلیمی ادارے اور سزا کا تصور"** میں بیا...