امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
Karra tha bojh ghata aaj muskuraney se karraThaBojhGhataAajMuskranySe ,HayatRukNahiJatiKisiKJanySe غزل کرا تھا بوجھ گھٹا آج مسکرانے سے حیات رک نہیں جاتی کسی کے جانے سے یہ مست پیڑ انہیں کاش کوئی سمجھائے سکوتِ شام میں ہوتے نہیں دیوانے سے ذوقِ دید کی خواہش بدن کو تڑپائے یہ درد کم نہیں ہوتا بہار آنے سے وفا کی راکھ میں جلتی ہوئی چنگاریٔ حیات وقت ملے تو کبھی پوچھنا زمانے سے خطا ہی اپنی تھی اب چیخنا چلانا کیا منع کیا تھا کئی بار دل لگانے سے ازل سے قتل کیے جا رہا ہے دشمنِ جاں جنابِ عشق کو روکو لہو بہانے سے شکیلؔ وقت کے صحرا میں ڈھونڈتے ہو بہار تمہارے پاس ہیں سپنے فقط سہانے سے Watch My EXCLUSIVE INTERVIEW Click here تفصیل یہ غزل انسانی زندگی کے ان گہرے اور پیچیدہ جذبات کی عکاسی کرتی ہے جو محبت، جدائی، ندامت اور وقت کے بے رحم بہاؤ سے جڑے ہوئے ہیں۔ شاعر نہایت سادہ مگر پراثر انداز میں یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ زندگی کسی ایک فرد کے جانے سے رک نہیں جاتی، بلکہ اپنے سفر کو جاری رکھتی ہے، چاہے دل کتنا ہی بوجھل کیوں نہ ہو۔ ...