امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
🌙 ماہِ ربیع الاول خصوصی سیریز 2026 🌙 یہ مضمون ہماری خصوصی ماہِ ربیع الاول سیریز 2026 کا حصہ ہے، جس میں اردو و پنجابی کے ممتاز نعت گو شعرا کی زندگی، فن اور نعتیہ شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے کا مقصد ان شعرا کے عشقِ رسول ﷺ، ادبی خدمات اور نعتیہ کلام کو قارئین تک پہنچانا ہے۔ ماہرؔ القادری — حیات، ادبی خدمات اور نعتیہ شاعری منظور حسین المعروف ماہرؔ القادری مظفر وارثی پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں ماہرؔ القادری کا تعارف نام منظور حسین اور تخلص ماہرؔ تھا۔ وہ اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب، نعت گو، نقاد اور صاحبِ اسلوب قلم کار تھے۔ اسلامی اقدار، تہذیبی روایات اور نعتیہ ادب سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ ان کی شخصیت نے اردو ادب میں ایک منفرد مقام پیدا کیا۔ ماہرؔ القادری 30 جولائی 1906ء کو کیسر کلاں، ضلع بلند شہر، اترپردیش، متحدہ ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1926ء میں علی گڑھ سے میٹرک کرنے کے بعد عملی زندگی کا آغاز حیدرآباد دکن سے کیا۔ بعد ازاں بجنور چلے گئے جہاں انہوں نے مدینہ بجنور اور غنچہ کے مدیر کی حیثیت سے ...