امام احمد رضا خان بریلوی
تخلص :'رضا'
اصلی نام :احمد رضا خاں
پیدائش :14 Jun 1856 بریلی, اتر پردیش
وفات :28 Oct 1921
امام احمد رضا خان بریلویؒ برصغیر کے عظیم اسلامی علما، فقہا اور شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے بے پناہ محبت و عقیدت کے باعث خاص مقام حاصل ہے۔ آپ کی نعتیہ شاعری عشقِ رسول ﷺ، عقیدت، احترام اور روحانی جذبات سے بھرپور ہے۔ آپ کی نعتوں اور دیگر شعری کلام نے اردو ادب اور اسلامی شاعری میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کا اندازِ بیان علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ محبتِ رسول ﷺ کے جذبات کی خوبصورت عکاسی کرتا ہے۔
امام احمد رضا خان بریلویؒ کی نعتیہ شاعری میں حضور نبی کریم ﷺ سے محبت، ادب اور عقیدت کا ایک منفرد رنگ نظر آتا ہے۔ آپ کا کلام آج بھی محافلِ میلاد، نعت اور دیگر مذہبی اجتماعات میں عقیدت و احترام سے پڑھا اور سنا جاتا ہے، خصوصاً ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں آپ کی نعتوں کی مقبولیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اردو نعتیہ ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے امام احمد رضا خان بریلویؒ کا کلام عشقِ رسول ﷺ، روحانیت اور والہانہ عقیدت کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
Visit My Poem AANKHEN Click here
شناخت: عالمِ دین، فقیہ، محدث، مفتی، جنھیں ’’اعلیٰ حضرت‘‘ اور ’’مجددِ مائۃ حاضرہ‘‘ کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ احمد رضا خان بریلوی 10 شوال المکرم 1272ھ مطابق 14 جون 1856ء کو شمالی بھارت کے شہر بریلی کے محلہ سوداگران میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق پٹھانوں کے معزز قبیلہ 'بڑیچ' سے تھا۔ آپ کے جدِ اعلیٰ سعید اللہ خان قندھار سے ہجرت کر کے مغل بادشاہ محمد شاہ کے عہد میں ہندوستان آئے تھے اور ریاست میں بلند عہدوں پر فائز رہے۔ مغلیہ دور میں آپ کے خاندان کو 'شش ہزاری' منصب اور 'شجاعت جنگ' جیسے القابات سے نوازا گیا، یہاں تک کہ لاہور کا شیش محل بھی ایک عرصے تک اس خاندان کے زیرِ اقتدار رہا۔
احمد رضا خان نے ابتدائی اور اعلیٰ دینی تعلیم اپنے والدِ ماجد مولانا نقی علی خان سے حاصل کی۔ اس کے علاوہ آپ نے مرزا غلام قادر بیگ سے 'میزان' اور 'منشعب' وغیرہ پڑھیں، جبکہ علمِ ہیئت میں 'شرح چغمینی' کا کچھ حصہ عبد العلی رامپوری سے سیکھا۔ آپ کی علمی جلالت کا یہ عالم تھا کہ ابتدائی کتب کے بعد آپ نے بیشتر علوم و فنون میں کسی مروجہ استاد کے بغیر محض اپنی خدا داد بصیرت اور ذہانت سے دسترس حاصل کی۔ روحانیت کی منازل طے کرنے کے لیے آپ نے خانقاہِ برکاتیہ (مارہرہ شریف) کے سجادہ نشین حضرت سید آلِ رسول قادری سے بیعت کی اور ان کے وصال کے بعد حضرت سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے مزید تربیت حاصل کی۔
آپ فقہ حنفی کے عظیم علمبردار تھے اور آپ کی علمی شہرت کی سب سے بڑی بنیاد آپ کے ہزاروں فتاویٰ کا ضخیم مجموعہ ہے، جو 'فتاویٰ رضویہ' کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علمی ذخیرہ تقریباً 12 جلدوں پر محیط ہے (جو جدید اشاعت میں 30 جلدوں تک پہنچ چکا ہے)۔ آپ نے محض روایتی علوم ہی نہیں بلکہ ریاضی، جفر، تکسیر اور فلکیات جیسے پیچیدہ علوم پر بھی سیکڑوں رسائل تصنیف کیے۔ قرآنِ کریم کا آپ کا کیا ہوا اردو ترجمہ 'کنز الایمان' اپنی فصاحت، بلاغت کی بنا پر آج بھی برصغیر میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا ترجمہ مانا جاتا ہے۔
امام احمد رضا خان کی شناخت کا ایک نمایاں پہلو حضور نبی کریم ﷺ سے ان کی والہانہ محبت ہے۔ آپ نے اردو نعت گوئی کو ایک نیا رخ عطا کیا۔ آپ کا نعتیہ مجموعہ 'حدائقِ بخشش' اردو ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے مشہورِ زمانہ سلام "مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام" نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ آپ نے نہ صرف اردو بلکہ عربی اور فارسی میں بھی گراں قدر کلام تخلیق کیا، جن کے مجموعے بالترتیب 'بساتین الغفران' اور 'ارمغانِ رضا' کے نام سے موجود ہیں۔
آپ نے اپنی پوری زندگی درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور اصلاحِ امت میں بسر کی۔ آپ کا مزارِ مبارک بریلی شریف میں آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔ برصغیر میں اہل سنت کی ایک بہت بڑی تعداد آپ ہی کی علمی نسبت سے خود کو 'بریلوی' کہتی ہے اور آپ کے افکار و نظریات کی پیروی کرتی ہے۔
وفات: 25 صفر 1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو بریلی ہی میں انتقال ہوا۔بریلی, اتر پردیش
Visit My Naat BAS USKA ZIKR BULAND HEY click here
📚 امام احمد رضا خان بریلویؒ کی مشہور کتب
.انہوں نے پانچ ہزار سے زائد کتب تحریر کیں اور کئی زبانوں کا استعمال کیا ان میں سے چند مشہور کتب درج ذیل ہیں
فتاویٰ رضویہ — فقہی مسائل اور شرعی فتاویٰ کا عظیم مجموعہ
حدائقِ بخشش — نعتیہ شاعری کا مشہور مجموعہ
کنزالایمان — قرآنِ مجید کا اردو ترجمہ
حسام الحرمین — عقائد اور علما کے فتاویٰ سے متعلق معروف کتاب
الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ — علمِ غیب سے متعلق اہم علمی تصنیف
تمہیدِ ایمان — اسلامی عقائد سے متعلق کتاب
امن و عُلیٰ — عقائد و مسائل سے متعلق تصنیف
کفل الفقیہ الفاہم — فقہی موضوعات پر علمی کتاب
الملفوظ — امام احمد رضا خانؒ کے ارشادات و ملفوظات کا مجموعہ
جد الممتار علی رد المحتار — فقہِ حنفی سے متعلق اہم علمی کام
فتاویٰ افریقہ — مختلف شرعی و فقہی مسائل پر فتاویٰ
حاجز البحرین — علمی و اعتقادی موضوعات سے متعلق تصنیف
Visit My Poem GADDI NASHEEN click here
سلام رضا
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
صاحبِ رجعتِ شمس و شق القمر
نائبِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام
جن کے سجدے کو محرابِ کعبہ جھکی
ان بھنوؤں کی لطافت پہ لاکھوں سلام
جس طرف اُٹھ گئی دم میں دم آگیا
اس نگاہِ عنایت پہ لاکھوں سلام
جس کو بارِ دو عالم کی پروا نہیں
ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام
جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند
اس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام
جس سے تاریک دل جگمگانے لگے
اس چمک والی رنگت پہ لاکھوں سلام
غوث اعظم امام التقیٰ و النقیٰ
جلوئہ شانِ قدرت پہ لاکھوں سلام
مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضاؔ
مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام
Visit My Blog On Sehba Akhtar Click her
سلامِ رضا عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبی ہوئی وہ عقیدت بھری صدا ہے جس میں امام احمد رضا خان بریلویؒ نے اپنے دل کے جذبات کو نہایت محبت اور ادب کے ساتھ پیش کیا۔ اس کے الفاظ میں حضور اکرم ﷺ کی بارگاہِ اقدس سے والہانہ محبت، عقیدت اور عاجزی کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ سلامِ رضا آج بھی محافلِ میلاد اور نعت کی مجالس میں عقیدت سے پڑھا جاتا ہے اور اہلِ محبت کے دلوں کو منور کرتا ہے۔ یہ کلام امام احمد رضا خانؒ کی محبتِ رسول ﷺ اور نعتیہ شاعری میں ان کے بلند مقام کی ایک خوبصورت مثال ہے۔عام طور پر 171 اشعار شمار کیے جاتے ہیں۔یہ حدائقِ بخشش میں شامل مشہور سلام ہے۔
Watch My Naat MERI HAYAT KA JOHAR click here
سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی
سب سے بالا و والا ہمارا نبی
اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی
دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی
بزم آخر کا شمع فروزاں ہوا
نور اوّل کا جلوہ ہمارا نبی
سارے اچھوں میں اچھا سمجھے جسے
ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی
انبیا سے کروں عرض کیوں مالکو
کیا نبی ہے تمھارا ہمارا نبی
جس نے ٹکڑے کیے ہیں قمر کے وہ ہے
نورِ وحدت کا ٹکڑا ہمارا نبی
سب چمک والے اُجلوں میں چمکا کیے
اندھے شیشوں میں چمکا ہمارا نبی
جس نے مُردہ دلوں کو دی عمر ابد
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
غمزدوں کو رضاؔ مژدہ دیجے کہ ہے
بے کسوں کا سہارا ہمارا نبی
VISIT MY GHAZAL ON MY WEDDING ANNIVERSARY
"سب سے اعلیٰ و اَولیٰ ہمارا نبی ﷺ" امام احمد رضا خان بریلویؒ کی معروف نعتیہ شاعری کا ایک خوبصورت حصہ ہے، جس میں حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس، عظمت اور رفعت کو نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کلام میں شاعر نے اپنے جذباتِ عشقِ رسول ﷺ کو ایسے پُراثر انداز میں پیش کیا ہے کہ ہر مصرع دل میں محبت اور ادب کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
یہ نعت حضور نبی کریم ﷺ کی بے مثال شان اور مقامِ محبوبیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ربیع الاول کے بابرکت مہینے میں اس طرح کی نعتیں محافلِ میلاد اور نعتیہ مجالس کی رونق بڑھاتی ہیں اور عاشقانِ رسول ﷺ کے دلوں میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ کو مزید تازہ کرتی ہیں۔
Watch My Naat on Youtube DIL HO JAB HUZAN SE click here
لم یات نظیرک فی نظر، مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تو رے سر سو ہے ، تجھ کو شہ دوسرا جانا
البحر علا والمود طغےٰ ، من بیکش و طوفاں ہوشربا
منجدھار میں ہوں بگڑی ہے ہوا، موری نیّا پار لگا جانا
یا شمس نظرت الیٰ لیلی ، چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلمل جگ میں رچی، مری شب نے نہ دن ہونا جانا
لک بدر فی الوجہ الاجمل، خط ہالہءِ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پرو کنڈل، رحمت کی بھرن برسا جانا
انا فی عطش و سخاک اتم، اے گیسوئے پاک اے ابر کرم
برسن ہا رے رم جھم رم جھم، دو بوند ادھر بھی گرا جانا
یا قا فلتی زیدی اجلک، رحمے بر حسرتِ تشنہ لبک
مورا جیر الرجے درک درک، طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا
واھا لسویعات ذھبت، آن عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت، دردا وہ مدینہ کا جانا
القلب شح والھم شجوں، دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کا سے کہوں، مورا کون ہے تیرے سوا جانا
الروح فداک فزد حرقا، یک شعلہ دگر بر زن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا، یہ جان بھی پیارے جلا جانا
بس خامہءِ خام نوائے رضا، نہ یہ طرز مری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا، ناچار اس راہ پڑا جانا
Visit My Punjabi Sufiana Ghazal Is Rah Di Musafat
"لَمْ یَأْتِ نَظِیرُکَ فِی نَظَرٍ" امام احمد رضا خان بریلویؒ کی ایک نہایت خوبصورت اور منفرد نعت ہے، جس میں حضور اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بے مثال شان، عظمت اور حسن و کمال کو محبت و عقیدت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس نعت کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے اشعار میں عربی، فارسی اور اردو تین زبانوں کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو امام احمد رضاؒ کی علمی وسعت اور ادبی مہارت کا روشن ثبوت ہے۔ الفاظ کی فصاحت، اندازِ بیان کی بلاغت اور عشقِ رسول ﷺ کی گہری کیفیت اس نعت کو نعتیہ ادب میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔
Read My GHAZAL HAAR NA MANI click here
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments
Post a Comment