Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Gaddi Nasheen | Urdu Poem on Fake Spiritual Leadersگدی نشین | ایک تلخ سچ پر مبنی نظم

گدی نشین | ایک تلخ سچ پر مبنی نظم گدی نشین ایک بہترین اردو نظم ہے جس میں افضل شکیل سندھو نے جعلی روحانی پیشواؤں اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ مکمل نظم اور تفصیل پڑھیں۔ گدی نشین سمجھتے ہیں لوگوں کو کمی کمین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین دین خدا سے لگن کاش ہو ذکر و فکر میں مگن کاش ہو سمجھتے ہیں غربہ سے ملنا توہین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین شریعت کی جن کو خبر تک نہیں شرافت میں جن کی لگر تک نہیں یہ توڑ لیتے ہیں غلچے حسین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین اصولوں سے انکو جدائی لکھی ہے قسمت میں جیسے برائی لکھی ہے سیاست کے سارے یہ پکے شوقین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین میں نوش بدزن اراضی کے وارث کبھی بھی نہ سیکھا اسوہ حارث مقدس مقامات کے ہیں امین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین دیہی ابادی کو بھٹکائے رکھنا پہنچے ہوئےخود کو منوائے رکھنا مریدوں کو ہوتا ہے پورا یقین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین ولی اللہ اللہ کی الفت کا حامل رسول خدا کے پیاروںمیں شامل خدا کے لیے جھکتی تھی وہ جبین عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین انہیں کیا خبر کیا ہے علم روحانی تصوف کی دولتہے کیسے کمانی ح...

Gaddi Nasheen | Urdu Poem on Fake Spiritual Leadersگدی نشین | ایک تلخ سچ پر مبنی نظم

گدی نشین | ایک تلخ سچ پر مبنی نظم

گدی نشین ایک بہترین اردو نظم ہے جس میں افضل شکیل سندھو نے جعلی روحانی پیشواؤں اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ مکمل نظم اور تفصیل پڑھیں۔

گدی نشین


سمجھتے ہیں لوگوں کو کمی کمین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


دین خدا سے لگن کاش ہو

ذکر و فکر میں مگن کاش ہو

سمجھتے ہیں غربہ سے ملنا توہین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


شریعت کی جن کو خبر تک نہیں

شرافت میں جن کی لگر تک نہیں

یہ توڑ لیتے ہیں غلچے حسین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


اصولوں سے انکو جدائی لکھی ہے

قسمت میں جیسے برائی لکھی ہے

سیاست کے سارے یہ پکے شوقین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


میں نوش بدزن اراضی کے وارث

کبھی بھی نہ سیکھا اسوہ حارث

مقدس مقامات کے ہیں امین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


دیہی ابادی کو بھٹکائے رکھنا

پہنچے ہوئےخود کو منوائے رکھنا

مریدوں کو ہوتا ہے پورا یقین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


ولی اللہ اللہ کی الفت کا حامل

رسول خدا کے پیاروںمیں شامل

خدا کے لیے جھکتی تھی وہ جبین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


انہیں کیا خبر کیا ہے علم روحانی

تصوف کی دولتہے کیسے کمانی

حیات ان کیلوگو بڑی ہے رنگین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین


مخالف سے پیچھا چھڑانے کی عادت

شکیل ان میں دیکھی ہے کوئی سعادت

نہیں ہے ایمان ان کا خالص ترین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

افضل شکیل سندھو

مکمل بلاگ تفصیل (Description)

نظم "گدی نشین" ایک فکر انگیز اور جرات مندانہ تخلیق ہے جس میں شاعر افضل شکیل سندھو نے معاشرے کے ان نام نہاد روحانی پیشواؤں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے جو دین اور تصوف کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

اس نظم میں شاعر نہایت بے باکی کے ساتھ اس تلخ حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کس طرح کچھ گدی نشین روحانیت کے نام پر عیاشی، تکبر اور دنیاوی مفادات میں مگن ہو جاتے ہیں۔ وہ شریعت اور حقیقی تصوف سے دور ہو کر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ان کے مرید ان پر اندھا یقین رکھتے ہیں۔

یہ نظم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سماجی شعور اور اصلاحی پیغام ہے۔ شاعر قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ حقیقی روحانیت کیا ہے، اور کن لوگوں کو ہم بلا تحقیق اپنا رہنما بنا لیتے ہیں۔

گدی نشین" دراصل ایک آئینہ ہے جو معاشرے کے ایک اہم اور حساس پہلو کو بے نقاب کرتی ہے، اور ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم سچ کو پہچانیں، شعور پیدا کریں اور اندھی عقیدت سے باہر نکلیں


Watch my Ghazal Kis qaymat ki ghari thi

نظم: گدی نشین — تشریح

پہلا بند

سمجھتے ہیں لوگوں کو کمی کمین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

اس بند میں شاعر بتاتا ہے کہ یہ نام نہاد گدی نشین عام لوگوں کو حقیر اور کم تر سمجھتے ہیں، جبکہ خود عیش و عشرت میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ یعنی ان کے اندر عاجزی نہیں بلکہ تکبر پایا جاتا ہے۔

دوسرا بند

دینِ خدا سے لگن کاش ہو

ذکر و فکر میں مگن کاش ہو

سمجھتے ہیں غرباء سے ملنا توہین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

یہاں شاعر افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ کاش یہ لوگ واقعی دین سے محبت رکھتے اور اللہ کے ذکر میں مشغول ہوتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ غریب لوگوں سے ملنا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اس سے ان کی جھوٹی روحانیت ظاہر ہوتی ہے۔

تیسرا بند

شریعت کی جن کو خبر تک نہیں

شرافت میں جن کی لہر تک نہیں

یہ توڑ لیتے ہیں گلچے حسین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ ان لوگوں کو نہ تو شریعت کا علم ہے اور نہ ہی اخلاقی اقدار کا پاس۔ اس کے باوجود وہ خوبصورتی اور پاکیزگی کے دعوے کرتے ہیں، حالانکہ ان کا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے۔

چوتھا بند

اصولوں سے ان کو جدائی لکھی ہے

قسمت میں جیسے برائی لکھی ہے

سیاست کے سارے یہ پکے شوقین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

یہاں شاعر بیان کرتا ہے کہ یہ گدی نشین اصولوں سے دور ہو چکے ہیں اور گویا برائی ان کی تقدیر بن چکی ہے۔ مزید یہ کہ وہ سیاست میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پانچواں بند

یہ نوش و بدزن اراضی کے وارث

کبھی بھی نہ سیکھا اسوۂ وارث

مقدس مقامات کے ہیں امین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ یہ لوگ زمینوں اور جائیدادوں کے وارث تو ہیں، لیکن انہوں نے اپنے بزرگوں کی تعلیمات (اسوہ) کو کبھی نہیں اپنایا۔ باوجود اس کے کہ وہ مقدس مقامات کے نگہبان ہیں، ان کا کردار اس کے مطابق نہیں۔

چھٹا بند

دیہی آبادی کو بھٹکائے رکھنا

پہنچے ہوئے خود کو منوائے رکھنا

مریدوں کو ہوتا ہے پورا یقین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

یہاں شاعر بتاتا ہے کہ یہ لوگ دیہات کے سادہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور خود کو روحانی طور پر بلند ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے مرید ان پر مکمل یقین رکھتے ہیں، جو ان کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔

ساتواں بند

ولی اللہ، اللہ کی الفت کا حامل

رسولِ خدا کے پیاروں میں شامل

خدا کے لیے جھکتی تھی وہ جبین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

اس بند میں شاعر اصل اولیاء اللہ کا ذکر کرتا ہے جو واقعی اللہ سے محبت رکھتے تھے اور عاجزی سے عبادت کرتے تھے۔ پھر ان کا موازنہ موجودہ گدی نشینوں سے کرتا ہے جو اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔


Watch Exclusive Interview with Afzal Shakeel Sandhu

آٹھواں بند

انہیں کیا خبر کیا ہے علمِ روحانی

تصوف کی دولت ہے کیسے کمانی

حیات ان کی لوگوں بڑی ہے رنگین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

یہاں شاعر کہتا ہے کہ ان لوگوں کو روحانیت اور تصوف کا حقیقی علم ہی نہیں۔ ان کی زندگی محض رنگینیوں اور دنیاوی لذتوں میں گزرتی ہے۔

نواں بند

مخالف سے پیچھا چھڑانے کی عادت

شکیلؔ، ان میں دیکھی نہ کوئی سعادت

نہیں ہے ایمان ان کا خالص ترین

عیاشی میں ڈوبے ہیں گدی نشین

آخری بند میں شاعر خلاصہ پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور ہر طرح سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاعر کے مطابق ان میں کوئی نیکی یا سعادت نہیں، اور ان کا ایمان بھی خالص نہیں ہے۔

مجموعی پیغام

یہ نظم معاشرے میں پھیلی ہوئی جھوٹی روحانیت، اندھی عقیدت اور مذہب کے نام پر استحصال کے خلاف ایک مضبوط آواز ہے۔ شاعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم سچ اور جھوٹ میں فرق کریں اور حقیقی روحانیت کو پہچانیں۔

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

  1. ان جعلی روحانی پیشواؤں کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں واہ کمال کر دیا

    ReplyDelete
  2. بہت ہی کمال

    ReplyDelete
  3. Wah wah kia baat hey ji

    ReplyDelete
  4. Aap ki soch or poetry dono hi super hen yaqeen kren ye nazm prh kr bra maza aya

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: U sing fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices l...

Manzar

MANZAR POEM #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat >منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Description یہ نظم "منظر" شاعر افضال شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے ساتھ ساتھ اس امید کو بھی اجاگر کی...

بس اسکا ذکر بلند ہے bas uska ziker buland hey

natia nazm 1. Zikr-e-Rasool: The act of remembering or mentioning the Prophet Muhammad in a positive and reverent manner. 2. Salawat: The recitation of blessings upon the Prophet Muhammad. Also known as "Durood" or "Salat al-Nabi." 3. Naat: A form of poetry or song that praises the Prophet Muhammad's virtues and character. 4. Muhammad (PBUH): An abbreviation for "Peace Be Upon Him," used after mentioning the Prophet's name as a sign of respect. 5. Sallallahu Alaihi Wasallam: An Arabic phrase often used after mentioning the Prophet Muhammad, which means "Peace and blessings be upon him." 6. Mawlid: The celebration of the Prophet Muhammad's birth, which often includes zikr-e-Rasool and recitation of Islamic poetry. 7. Hadith: Sayings, actions, and approvals of the Prophet Muhammad, which are a significant source of guidance in Islam. 8. Sunnah: The practices and traditions of the Prophet Muhammad, which Muslims seek to emulate in thei...

میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے

Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا Mn ne Tum ko Khuda se maanga hey Mn ne tum se to kuch nhi maanga The speaker expresses a deep and heartfelt sentiment by stating that they have asked for their beloved from God. This request is directed to the divine, indicating the importance and sacredness of the beloved in the speaker's life. The speaker further clarifies that they haven't asked the beloved for anything directly. This highlights the purity and selflessness of their love, as their desire is so profound that they seek it through prayer rather than direct requests. Overall, the verse conveys a strong sense of devotion and reverence, showing that the beloved is seen as a divine blessing rather than something to be demanded or taken. afzal shakeel sandhu Urdu Poetry & Ghazals Blog 🎥 If you enjoy my poetry a...

tees

poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily apparent to the outside world. Invisible pain is a profound and often misunderstood aspect of the hu...
Follow This Blog WhatsApp