مزدور پلی Subah ka intezar: Mazdoor Puli ki khamosh sachai
ساہیوال کا وہ چوک جہاں بیچارگی ڈیرے جمائے رہتی ہے
(ایک ادبی و سماجی دستاویز)
ستمبر 1994، گورنمنٹ کالج ساہیوال۔ میں تھرڈ ائیر کا طالب علم تھا۔ نوجوانی کا مزاج، غالب و اقبال کی شاعری، اور راستے میں وہ چوک جسے لوگ "مزدور پلی" کہتے تھے۔ وہ چوک جہاں صبح سویرے درجنوں مزدور دستی مزدوری مانگنے آتے ہیں۔ آج 2026 میں وہی چوک بالکل اسی طرح موجود ہے۔ کوئی بدلاو نہیں۔ صرف میرے بال سفید ہو رہے ہیں۔ یہ بلاگ اس نظم پر مشتمل ہے جو میں نے اُس وقت لکھی، اور سماجی حقائق کی کھوج میں ایک مکمل تجزیہ۔
✍🏽 مکمل نظم "مزدور پلی"
(افضل شکیل سندھو 1994)
شہر کی رونق بھری سڑکوں کے بیچ
اک جگہ بیچارگی ڈیرے جمائے رہتی ہے
مجمع مزدور ہوتا ہے یہاں صبح کے وقت
حسرت انسانیت دیدے پھیلائے رہتی ہے
کیا خبر اس شہر میں بےروزگار کتنی عوام
غربت و افلاس کو دل سے لگائے رہتی ہے
جب کوئی موٹر رُکی مزدور دوڑے آتے ہیں
مایوسی اس کے باوجود جادو جگائے رہتی ہے
یہ پریشاں ہیں مگر اک اک دیہاڑی کے لیے
مہنگائی ان کے پیسے پر نظریں جمائے رہتی ہے
اور جو مزدور خالی آتا ہے گھر لوٹ کر
بیوی اس کی سارا دن طعنے سنائے رہتی ہے
میں جو اکثر آتے جاتے دیکھتا ہوں یہ جگہ
زندگی کے بہت سے رنگ سامنے آ جاتے ہیں
کالج کو جاتے ہوئے منظر یہ آتا ہے نظر
آرزوؤں کے سہارے تھامنے آ جاتے ہیں
میں نے انسانوں کا غم اپنا ہمیشہ جانا ہے
لوگ میرے غم کو مجھ سے مانگنے آ جاتے ہیں
سرمایہ داروں کی بھی اپنی اپنی ہیں مجبوریاں
جو یہاں مزدوروں کو چھانٹنے آ جاتے ہیں
ایک ٹھنڈی آہ سینے سے نکلتی ہے شکیل
افکار رفتہ پھر میرا غم بانٹنے آ جاتے ہیں
🏚️ مزدور پلی: ایک تعارف (تاریخ اور موجودہ صورتحال)
مزدور پلی، ساہیوال، پنجاب، پاکستان۔ یہ کوئی باضابطہ نام نہیں بلکہ عوامی زبان میں مشہور چوک ہے جو جھال روڈ پر واقع ہے۔ یہاں روزانہ صبح پونے پانچ بجے سے ہی تعمیراتی مزدور، لوڈر، رکشے والے، اور روزگار کے متلاشی افراد کھڑے ہوجاتے ہیں۔ دیہاتوں سے آنے والے غریب مزدور، شہر کے اندرون علاقوں کے بے روزگار نوجوان — سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ ٹھیکیدار، مکینک، چھوٹے کاروباری افراد اپنی گاڑیاں لے کر آتے ہیں اور اپنی مرضی کے مضبوط بازوؤں کو چُن لیتے ہیں۔ باقی واپس لوٹ جاتے ہیں، اکثر بغیر روٹی کے۔ اعداد و شمار کے مطابق ساہیوال میں 60 فیصد سے زائد مزدور غیر رسمی شعبے سے جڑے ہیں، اور مزدور پلی ان کی آرزووں اور امیدوں کا چوک ہے۔
Watch My Ghazal Kitab e Ishaq
میرے کالج کے دن۔ گورنمنٹ کالج ساہیوال کی عمارت سے مزدور پلی محض پانچ منٹ کی مسافت پر تھی۔ میری سائیکل جب اس چوک سے گزرتی، میں اکثر رک جاتا۔ وہ پھٹے جوتے، میلے سے چہرے والے مزدور لیکن پھر بھی امید سے جڑی آنکھیں — خاص طور پر وہ نوجوان مزدور جو میرے ہی جیسے تھے، مگر قسمت نے انہیں کالج کی بجائے مزدور پلی میں کھڑا کر دیا۔
⚒️ "موٹر رکی تو مزدور دوڑے آتے ہیں" — استحصال کی ایک شکل
یہ منظر انتہائی اذیت ناک ہے لیکن بدقسمتی سے روزانہ دہرایا جاتا ہے۔ جب کوئی مالک گاڑی میں آ کر ہارن بجاتا ہے، مزدوروں کا ایک ہجوم دوڑتا ہوا آتا ہے۔ بولی لگتی ہے۔ آج کے 2026 میں روزانہ اجرت 800 سے 1500 روپے کے درمیان ہے جبکہ مہنگائی نے اوسطاً 35 فیصد اضافہ کیا ہے۔ نظم کی لائن "مہنگائی ان کے پیسے پر نظریں جمائے رہتی ہے" آج بھی اتنی ہی سچ ہے۔
💔 بیوی کے طعنے
"اور جو مزدور خالی آتا ہے گھر لوٹ کر، بیوی اس کی سارا دن طعنے سنائے رہتی ہے" — یہ صرف ایک شعر نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کی کہانی ہے۔ ڈیلی ویج مزدور کی بیوی کو بچوں کی بھوک، کرائے کی قسط، علاج کے پیسوں کی فکر ہوتی ہے۔ غصہ بے بسی میں بدل کر طعنوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
🏛️ سرمایہ دار کی مجبوری بھی ایک سچ
نظم میں اخلاقی پیچیدگی بھی ہے: "سرمایہ داروں کی بھی اپنی اپنی ہیں مجبوریاں" — یعنی جہاں ایک طرف مزدور مظلوم ہے وہیں چھوٹے ٹھیکیدار بھی معاشی دباؤ میں ہیں۔ لیکن فرق یہ ہے کہ آخر میں سرمایہ دار کی مجبوری اس سے کھانا نہیں چھینتی۔
UrduPoint - Poetry
🌆 زندگی کے رنگ — شاعری اور حقیقت کا امتزاج
نظم کے دوسرے حصے میں میں نے کہا: "زندگی کے بہت سے رنگ سامنے آ جاتے ہیں"۔ کالج کے اس نوجوان شاعر نے محسوس کیا کہ شہر کی سطحی چمک کے نیچے ایک المیہ بہہ رہا ہے۔ ہر روز مزدور پلی کا سفر مجھے انسانیت کے اصل موضوع سے جوڑے رکھتا تھا۔
"میں نے انسانوں کا غم اپنا ہمیشہ جانا ہے — طالب علمی کی یہ سوچ میرے اندر شاعری کا المیہ بن گئی۔ آج بھی مزدوروں کا دکھ دیکھ کر وہی چبھن ہوتی ہے۔"
🕰️ 1994 تا 2026: ترقی کا بھرم اور مزدور پلی کی اٹل حقیقت
1994 میں جب میں نے یہ نظم لکھی تو سمجھا تھا کہ شاید پچیس سال بعد مزدوروں کو سوشل سیکیورٹی، مزدور کارڈز، اور عزت مل جائے گی۔ لیکن 2026 میں مزدور پلی کا دورہ کیا تو مایوسی ہوئی۔ ہاں، اب وہاں موبائل فون استعمال ہوتے ہیں، لیکن روزگار کی غیر یقینی صورتحال بدستور قائم ہے۔ کوئی ایپ اس بے چینی کو دور نہیں کر سکتی۔
سماجی کارکنوں کے مطابق 2025 میں ساہیوال میں مزدوروں کی اوسط عمر 42 سال رہ گئی ہے (بھاری کام اور غلط خوراک کی وجہ سے)۔ نظم کا ایک مصرعہ "ایک ٹھنڈی آہ سینے سے نکلتی ہے شکیل" یعنی ان مزدوروں کی حالت دیکھ کر شاعر کا دل غم سے چور چور ہو جاتا ہے لیکن پھر دنیا داری کے جھمیلے شاعر کا غم بانٹنے آ جاتے ہیں اور یہاں شاعر خوابوں کی جگہ مزدوروں کے زخم دیکھتا ہے۔
Rekhta
📢 قارئین کے لیے پیغام
میرے بلاگ کے پیارے پڑھنے والو، مزدور پلی کا چوک صرف وہاں نہیں، یہ ہر اس جگہ موجود ہے جہاں محنت کش بھوکا پڑا ہے۔ میں نے یہ نظم 1994 میں لکھی تھی، اور آج تک نہ وہ چوک بدلا ہے نہ مزاجِ سلطنت۔ لیکن مجھے امید ہے کہ میرا یہ بلاگ پڑھ کر کم از کم کچھ لوگ ان مزدوروں کی طرف دیکھیں گے۔
💡 کیا تبدیلی ممکن ہے؟
1. ضلعی انتظامیہ مزدور پلی جیسے چوکوں پر رسمی روزگار سنٹر قائم کرے۔ 2. مزدوروں کو ہیلتھ کارڈ اور انشورنس دی جائے۔ 3. ہم اپنے گھر کے تعمیراتی کاموں پر مزدوروں کو معقول اجرت اور کھانا دیں۔ 4. بطور ادیب میں نے یہ نظم شیئر کی — آپ بھی شیئر کریں۔
📖 نتیجہ
مزدور پلی میں آج بھی وہی بیچارگی ڈیرے جمائے رکھتی ہے۔ اس نظم کا شاعر "افضل شکیل سندھو" آج بھی پرعزم ہے اور اس کی تحریر آج بھی جوان ہے۔ میں مزدوروں کو سلام پیش کرتا ہوں جن کی محنت سے شہر چلتے ہیں لیکن خود ان کی زندگی رکی ہوئی ہے۔
"مزدور پلی — شہر کے دھڑکتے دل کا زخم"
تحریر: افضل شکیل سندھو (سابق طالب علم گورنمنٹ کالج ساہیوال) ● تمام حقوق محفوظ
#MazdoorPully #Sahiwal #UrduPoetry #LaborRights
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments
Post a Comment