✦ عاصی کرنالی ✦ ؔ
پاکستان کے معروف اردو شاعر · آواز · منفرد اسلوب
◆ شناسائی ◆
عاصی کرنالی پاکستان کے نامور اردو شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں اردو روایت کی گرمی، جدید حسیت اور لاہور کی ٹھنڈی فضا کا عکس ملتا ہے۔ عاصی کرنالی صاحب نے غزل، نظم اور آزاد نظم میں اپنی منفرد آواز سے شہرت حاصل کی۔ ان کی شاعری کا اصل موضوع انسانی رشتوں کی بے رنگی، سماجی ناانصافی اور اندرونِ خود کا سفر ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ادبی حلقوں میں ان کا خاص مقام ہے۔ یہ بلاگ انہی کی زندگی، فن اور شاعری کے نمایاں پہلوؤں پر مشتمل ہے — اور ساتھ ہی موبائل و پی سی کے لیے خوبصورت ہلکی رنگتیں بھی پیش کرتا ہے۔
میری عاصی کرنالی صاحب سے پہلی شناسائی پی ٹی وی کے ایک مشاعرے میں ایک قاری کے طور پر ہوئی نعتیہ مشاعرہ تھا جس کا ایک شعر اب بھی مجھے یاد ہے
ذرے ذرے میں نہاں شمس و قمر دیکھیں گے
وہ بلائیں گے تو ہم ان کا نگر دیکھیں گے
📜 حالاتِ زندگی
عاصی کرنالی 20ویں صدی کے اواخر میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق متوسط طبقے سے تھا، ابتدا میں تدریس سے منسلک رہے مگر شاعری ان کا اصل مشن تھی۔ انہوں نے جامعہ پنجاب سے اردو ادب میں ماسٹرز کیا۔ ان کی شخصیت میں سادگی اور بے تکلفی تھی، مگر شعر میں تلخی اور گہرائی پائی جاتی تھی۔ ان کے ہم عصر شعرا میں احمد فراز، پروین شاکر اور بشریٰ رحمن سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ عاصی کرنالی نے مشاعروں میں خوب شہرت حاصل کی اور اپنے دیرینہ کینسر کے باعث 2018 میں وفات پائی، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔
📚 شعری مجموعے
- ▪️ "کرن کا سفر" (پہلا مجموعہ، 1992)
- ▪️ "درد کے پہر" (غزلیات کا شاہکار)
- ▪️ "اِک اندھیرا اجالا سا" (نظمیں)
- ▪️ "عاصی کے خطوط" (مکتوب نگاری)
- ▪️ "چاند کا دوسرا کنارہ" (مثنوی طرز کی نظمیں)
ان کی شاعری کا بیشتر حصہ پاکستان ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔
🏆 اعزازات و مقام
- ⭐ تمغائے امتیاز (ادب) 2009
- ⭐ آدم جی ادبی انعام برائے غزل
- ⭐ کراچی پریس کلب اعزاز برائے خدمات
- ⭐ ممتاز شاعروں میں منتخب (اردو مارک)
Watch MY poem Gaddi Nasheen
ان کے اشعار عالمی اردو کانفرنسوں میں پیش کیے جاتے رہے۔ انہیں جدید اردو غزل کا "غمگین صوفی" بھی کہا جاتا ہے۔
✍️ عاصی کرنالی کے منتخب اشعار ✍️
اُسی کرنالی نے دونوں کو اجنبی رکھا
عجیب لوگ ہیں پھر بھی وہیں پہ گھر رکھا
تری یاد ایک کرن سی کہیں سے آ گئی ہے
اسی کرن سے صبح ہوتی ہے پھر اُجالے کے لیے
مگر اک وصف ہے مجھ میں، دل آزاری نہیں کرتا
🌙 موضوعات اور اسلوب
عاصی کرنالی کی شاعری میں تنہائی، استعاراتی کرنوں کا تصور، شہری زندگی کی بے تعلقی، اور تصوف کے رنگ نمایاں ہیں۔ انہوں نے جدید اردو غزل میں ایک نرم لیکن پرخلش لہجہ دیا۔ ان کا مجموعہ "درد کے پہر" علامتوں کا شاہکار ہے۔ وہ محض غم نہیں، بلکہ امید کی کرن بھی تخلیق کرتے ہیں۔ "کرنالی" کا تخلص ان کی شخصیت کا حصہ بن چکا تھا۔ ان کے کلام میں دریا، چراغ، چاند اور کرن کی علامات کثرت سے ملتی ہیں۔
💬 اقبالِ عامہ
شہرتِ عام کے حوالے سے عاصی کرنالی کی غزلیں برصغیر کے مشاعروں میں خوب سنی گئیں۔ ان کے مشہور شعر "یہ دل بھی کیا عجیب شے ہے" نے تو انہیں گھر گھر پہنچا دیا۔ لاہور کے "ہال روڈ مشاعرہ" میں ان کی تقریروں کو خوب سراہا جاتا تھا۔ ناقدین کے مطابق وہ ان چند شعرا میں سے ہیں جنہوں نے غزل کو عام فہم رکھتے ہوئے ندرت بخشی۔ ان کے انتقال پر احمد فرازؔ نے کہا تھا: "عاصیؔ کی کرن اب ادب کی تاریخ کا حصہ ہے۔"
📖 ادبی حیثیت اور تنقید
ڈاکٹر جمیل جالبی نے عاصی کرنالی کی شاعری کو "نئی حسیت کا روشن دروازہ" قرار دیا تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے ان کی غزلوں کو اردو روایت کی توسیع کہا۔ عاصی کرنالی نے اپنے ہم عصر شعرا سے مختلف راہ اپنائی — انھوں نے پیچیدہ علامتوں سے گریز کیا لیکن سادہ لفظوں میں گہرے فلسفے چھپا دیے۔ ان کی نظم "چاند کا دوسرا کنارہ" کو عصری اردو نظم کا شاہکار مانا جاتا ہے۔ ان کے خیالات پاکستانی معاشرے کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔ اسی لیے ناقدین انہیں "شاعرِ کرن" کہتے ہیں۔
🌹 یادِ رفتگان : عاصی کرنالی کے نایاب اشعار
عاصیؔ اب تو مرے پاس صرف چراغوں کا مکان ہے
اسی کرنالی نے گھر کا راستہ بھلا دیا
🎤 عاصی کرنالی: ایک تجزیہ
عاصی کرنالی نے اپنی غزلوں میں جو تناہی اور اکیلاپن کا اظہار کیا ہے وہ صرف ذاتی نہیں، بلکہ جدید پاکستانی متوسط طبقے کی اجتماعی بے چینی کا آئینہ دار ہے۔ ان کی شاعری "اسی کرنالی" کے فقرے کو اس قدر استعمال کیا کہ یہ ان کا شعری تشخص بن گیا۔ کرن سے مراد ان کے ہاں امید کی وہ جھٹکتی ہوئی روشنی ہے جو مکمل اندھیرے میں بھی باقی رہتی ہے۔ اردو کے بڑے نقاد ڈاکٹر وہاب اشرفی نے لکھا ہے کہ عاصی کرنالی نے غزل میں ایک نیا لہجہ دیا ہے — جو روایت سے جڑا ہے لیکن جدید حسیت سے لیس ہے۔ انہیں پڑھنا ایک روحانی تجربے سے کم نہیں۔
ان کی رحلت کے بعد پاکستان میں ان کے نام پر سالانہ "عاصی کرنالی مشاعرہ" منعقد ہوتا ہے، جہاں ابھرتے ہوئے شعرا اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ ان کی شاعری 2025 میں ’اردو ادب کے ستون‘ کے عنوان سے شامل کی گئی۔
Watch My Ghazal NAWAZISHON KA MOSAM
غزل
رموزِ مصلحت کو ذہن پر طاری نہیں کرتا
ضمیرِ آدمیت سے میں غداری نہیں کرتا
قلم شاخِ صداقت ہے، زباں برگِ امانت ہے
جو دل میں ہے وہ کہتا ہوں، اداکاری نہیں کرتا
میں آخر آدمی ہوں، کوئی لغزش ہو ہی جاتی ہے
مگر اک وصف ہے مجھ میں، دل آزاری نہیں کرتا
میں دامنِ نظر میں کس لیے سارا چمن بھر لوں
میرا ذوقِ تماشا باربرداری نہیں کرتا
مکافاتِ عمل خود راستہ تجویز کرتی ہے
خدا قوموں پہ اپنا فیصلہ جاری نہیں کرتا
میرے بچے تجھے اتنا توکل راس آ جائے
کہ سر پر امتحان ہے اور تیاری نہیں کرتا
میں "عاصی" حسن کی آئینہ داری خوب کرتا ہوں
مگر میں حسن کی آئینہ برداری نہیں کرتا
Adab Ki Poetry
غزل
ثنائے خواجہ مرے ذہن کوئی مضمون سوچ
جناب وادیِ حیرت میں گم ہوں کیا سوچوں
زباں مرحلۂ مدح پیش ہے کچھ بول
مزاے حرف زدن ہی نہیں ہے کیا بولوں
قلم بیاضِ عقیدت میں کوئی مصرع لکھ
بجا کہا سرِ تسلیم خم ہے کیا لکھوں
شعور ان کے مقامِ پیمبری کو سمجھ
میں قیدِ حد میں ہوں وہ بے کراں میں کیا سمجھوں
خِرَد بقدرِ رسائی تو ان کے علم کو جان
میں نارَسائی کا نکتہ ہوں ان کو کیا جانوں
خیال گنبدِ خضرا کی سمت اُڑ پر کھول
یہ میں ہوں اور یہ مرے بال و پر ہیں کیا کھولوں
<طلب مدینے چلیں نیکیوں کے دفتر باندھ
یہاں یہ رختِ سفر ہی نہیں ہے کیا باندھوں
نگاہ دیکھ کہ ہے روبرو دیارِ جمال
ہے ذرہ ذرہ یہاں آفتاب کیا دیکھوں
دل ان سے حرفِ دعا شیوۂ تمنا مانگ
بلا سوال وہ دامن بھریں تو کیا مانگوں
حضور عجزِ بیاں کو بیاں سمجھ لیجیے
تہی ہے دامنِ فن آستاں پہ کیا لاؤں
〘 خراجِ عقیدت 〙
عاصی کرنالی جیسے شاعر اردو ادب کے وہ چراغ ہیں جو مرنے کے بعد بھی روشن رہتے ہیں۔ یہ بلاگ ان کی یاد میں لکھا گیا ہے۔ امید ہے قارئین اس بلاگ سے لطف اندوز ہوں گے اور عاصی کرنالی کو خراجِ تحسین پیش کریں گے۔ اپنی رائے کمنٹس میں دیں۔
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

عاصی کرنالی کو پی ٹی وی اور ریڈیو کےبہت سے مشاعروں میں سنا بڑی خوبصورتی کے ساتھ اشعار پڑھا کرتے تھے
ReplyDelete