Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Professor Iqbal Azeem | A tribute to a legendary Urdu Poet

پروفیسر اقبال عظیم: زندگی، شاعری اور ادبی ورثہ | مکمل بلاگ پروفیسر اقبال عظیم زندگی، شاعری اور فکری ورثہ 🔥 بصارت کھو گئی مگر بصیرت سلامت ہے 🔥 Word count: ~5600 words | مکمل اردو بلاگ 📖 فہرست مواد تعارف ابتدا اور خاندانی پس‌منظر تعلیم اور علمی سفر تدریسی و تحقیقی کیریئر شاعری: غزلیات، نعتیہ کلام اور اسلوب کراچی آمد اور زندگی کا آخری دور ادبی ورثہ اور مقام و مرتبہ اختتامیہ 🌟 تعارف: نابینا مگر روشن ضمیر شاعر اردو ادب کے دھانے میں پروفیسر اقبال عظیم کا نام ایک عظیم شاعر، محقق اور نعت گو کے طور پر روشن ہے۔ وہ صرف ایک استاد نہ تھے بلکہ دردِ دل، خود آگہی اور روحانی کیفیات کا ایک ایسا سمندر تھے جس نے اپنی بینائی کھونے کے بعد بھی الفاظ کے ذریعے دلوں کو منور کیا۔ اقبال عظیم 8...

Professor Iqbal Azeem | A tribute to a legendary Urdu Poet

پروفیسر اقبال عظیم: زندگی، شاعری اور ادبی ورثہ | مکمل بلاگ

پروفیسر اقبال عظیم
زندگی، شاعری اور فکری ورثہ

🔥 بصارت کھو گئی مگر بصیرت سلامت ہے 🔥

🌟 تعارف: نابینا مگر روشن ضمیر شاعر

اردو ادب کے دھانے میں پروفیسر اقبال عظیم کا نام ایک عظیم شاعر، محقق اور نعت گو کے طور پر روشن ہے۔ وہ صرف ایک استاد نہ تھے بلکہ دردِ دل، خود آگہی اور روحانی کیفیات کا ایک ایسا سمندر تھے جس نے اپنی بینائی کھونے کے بعد بھی الفاظ کے ذریعے دلوں کو منور کیا۔ اقبال عظیم 8 جولائی 1913ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے اور 22 ستمبر 2000ء کو کراچی میں وفات پائی — مگر ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ یہ بلاگ ان کی زندگی کے نشیب و فراز، ان کے فکر و فن اور ان کی شاعری کے حسن کا احاطہ کرتا ہے جو آج بھی ادبی حلقوں میں سراہا جاتا ہے۔

"مجھے ملال نہیں اپنی بے نگاہی کا
جو دیدہ ور ہیں وہ اپنی بلا سے دیکھیں"
✍️ پروفیسر اقبال عظیم

Read My Beautful Poem Khwabo ka Shehr

🌿 ابتدا اور خاندانی پس‌منظر

پروفیسر اقبال عظیم کا اصل نام سید اقبال احمد تھا اور ان کا قلمی نام ’اقبال عظیم‘ تھا۔ وہ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مقبول عظیم عرش تھے جو خود اپنے زمانے کے معروف شاعر تھے۔ دادا سید فضل عظیم فضل اور نانا ادیب میرٹھی بھی علم و ادب کے چراغ تھے۔ گویا اقبال عظیم کو شعر و سخب ورثے میں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بچپن ہی سے ادبی ماحول سانس لیا۔ مشہور ہے کہ جب وہ گورنمنٹ ہائی سکول انائو میں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے، تب ہی انھیں مولانا حسرت موہانی کی غزلیں زبانی یاد تھی۔ اس خاندانی پشت پناہی نے ان کے اندر ادبی ذوق کو جلا بخشی اور بعد میں انھیں اردو کا منفرد شاعر بنایا۔

پیدائش
8 جولائی 1913ء
مقام پیدائش
میرٹھ، برطانوی ہندوستان
وفات
22 ستمبر 2000ء، کراچی
مدفن
سخی حسن قبرستان، کراچی

🎓 تعلیم اور علمی سفر

اقبال عظیم نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس (بی اے) کی ڈگری 1934ء میں مکمل کی۔ اس کے بعد آگرہ یونیورسٹی سے 1940ء میں اردو میں ماسٹرز کیا۔ وہ محض اردو ہی نہیں بلکہ ہندی اور بنگلہ زبانوں میں بھی مہارت رکھتے تھے اور ان زبانوں کے امتحانات اعلیٰ معیار سے پاس کیے۔ یہ کثیر اللسانی صلاحیت ان کے تحقیقی کاموں میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ بعد میں انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے بھی وابستگی حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں صفی لکھنوی اور وحشت کلکتوی جیسے جید اساتذہ شامل تھے، جن سے انھوں نے اصلاح لی اور اپنی شاعری کو نکھارا۔


Read My Poem SHAK click here

🏛️ تدریسی و تحقیقی کیریئر — مشرقی پاکستان کے روشن ستارے

تعلیم مکمل کرنے کے بعد اقبال عظیم نے بطور مدرس اپنے پیشے کا آغاز کیا۔ 1950ء میں وہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) منتقل ہو گئے اور وہاں 1951 سے 1970 تک مختلف سرکاری کالجوں میں پروفیسر اور شعبۂ اردو کے صدر رہے۔ ڈھاکہ کالج اور چٹاگانگ کالج میں بحیثیت صدر شعبہ انھوں نے اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ ملازمت کے آخری پانچ برسوں میں صوبائی سیکریٹریٹ نے انھیں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمات حاصل کیں۔ یہاں ان کی تحقیقی صلاحیتوں کو خوب پذیرائی ملی۔ اسی دوران انھوں نے اپنی شہرہ آفاق تصانیف لکھیں جن میں ’مشرقی بنگال میں اردو‘ (بنگال میں اردو زبان کے ارتقا پر تنقیدی جائزہ)، ’سات ستارے‘، ’مشرق کے نام‘ اور ’قاب قوسین‘ (نعتیہ مجموعہ) شامل ہیں۔

"اللہ تعالیٰ نے ہم بہن بھائیوں کو جن بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا، ان میں ایک عظیم نعمت یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک دینی گھرانے میں آنکھ کھولی اور ادبی ذوق ہمیں ترکے میں ملا۔"
— اقبال عظیم (کتاب ’مضراب و رباب‘ سے)

📜 شاعری: غزلیات، نعتیہ کلام اور انفرادیت

اقبال عظیم نے غزل، نظم، نعت، مرثیہ، مثنوی اور دیگر تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم ان کی پہچان ان کی روح پرور نعتوں اور سادہ لیکن گہرے غزلوں سے ہے۔ ان کے دو اہم غزلی مجموعے ’مضراب‘ اور ’لب کشا‘ ہیں جبکہ ’چراغ آخر شب‘ بھی ان کی غزلوں کا معرکہ ہے۔ ان کی نعت گوئی کو اردو دنیا میں خاص مقام حاصل ہے۔ ان کا ایک نعتیہ شعر دیکھیں:

"مدینے کا سفر ہے اور میں نم دیدہ، نم دیدہ
جبیں افسردہ، افسردہ، قدم لغزیدہ، لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ، شرمندہ، بدن لرزیدہ، لرزیدہ"
🍂 نعتِ رسولِ آخر صلی اللہ علیہ وسلم | شاعری کی لطافت

یہ نعت آج بھی ملک کے معروف نعت خوانوں کی زبانی سنی جاتی ہے اور عقیدت سے پڑھی جاتی ہے۔ نعت گوئی میں ان کا اسلوب رواں، بامحاورہ اور پر خلوص ہے۔ علامہ اقبال کی طرح وہ بھی اپنے اشعار میں فکر اور جذبے کا امتزاج پیش کرتے ہیں، لیکن اپنی بینائی سے محرومی کے بعد ان کے کلام میں اندر کی بصیرت کی جھلک اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ ایک غزل کے اشعار ملاحظہ فرمائیں:

"اپنے مرکز سے اگر دور نکل جاؤ گے
خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے"
💫 اقبال عظیم | غزل کی معنویت

ان کی شاعری میں صوفیانہ کیفیت، انسانی رشتوں کی نزاکت اور خود احتسابی جھلکتی ہے۔ وہ الفاظ کو ایسے پروتے ہیں کہ قاری خود کو مخاطب محسوس کرتا ہے۔ بحیثیتِ محقق انھوں نے "دیوانِ ناطق" (ناطق لکھنوی کا کلام) بھی مرتب کیا۔ ان کی کتاب ’نادیدہ‘ بھی اہم ہے جو ان کی اسی بصیرت کی آئینہ دار ہے۔


Read My Heart touching Ghazal Click here

📚 تصانیف کی جھلک

  • مشرقی بنگال میں اردو
  • سات ستارے
  • مشرق کے نام
  • مضراب و رباب
  • قاب قوسین (نعتیہ مجموعہ)
  • چراغ آخر شب
  • لب کشا
  • نادیدہ

🕊️ کراچی آمد: روشنی کا نیا باب

1970ء میں جب اقبال عظیم کی بینائی زائل ہوگئی تو وہ اپنے اعزہ کے پاس کراچی آگئے۔ یہ ان کی زندگی کا ایک انتہائی المناک اور اہم موڑ تھا، لیکن انھوں نے اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ماتم میں بدلنے کے بجائے ایک نئی جہت عطا کی۔ کراچی میں قیام کے دوران انھوں نے اپنی مشہور نظم ’اب تو بس ایک ہی دھن ہے‘ اور دیگر شاہکار تخلیق کیے۔ نابینا ہونے کے باوجود وہ سننے، سوچنے اور لکھنے کے عمل میں مصروف رہے۔ خود ایک شعر میں فرماتے ہیں:

"بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ"
✨ ان کی نابینائی کے باوجود عشقِ رسولؐ کا یقین

کراچی میں وہ سخی حسن قبرستان کے قریب آباد تھے، اور اسی شہر میں 22 ستمبر 2000ء کو ان کا انتقال ہوا۔ آج ان کا مزار عقیدت مندوں کے لیے ایک ادبی زیارت گاہ ہے۔

🏆 ادبی ورثہ اور مقام و مرتبہ

پروفیسر اقبال عظیم کا ادبی مرتبہ بہت بلند ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں ان کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعری میں فکر کی گہرائی، ندرتِ خیال اور سادگی کے ساتھ جذبات کی شدت پائی جاتی ہے۔ ریختہ، صوفی نامہ اور اردو پوائنٹ جیسے ویب ذخیروں پر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے اور نئی نسل اسے پڑھ رہی ہے۔ ان کا ایک اور مقبول شعر ملاحظہ کیجیے:

"جھک کر سلام کرنے میں کیا حرج ہے مگر
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے"
✒️ پند و نصائح کا شاہکار

ان کا لکھا ہوا نعتیہ اور غزلیہ سرمایہ اردو ادب کا بیش بہا حصہ ہے۔ ان کی تحقیقی کتب بالخصوص ’مشرقی بنگال میں اردو‘ آج بھی محققین کے لیے اہم ماخذ ہیں۔ 22 ستمبر کو ان کی برسی کے موقع پر مختلف ادبی محفلیں انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ اقبال عظیم نے ثابت کیا کہ بصارت کا نہ ہونا کبھی تخلیقی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ان کا پیغام صبر، عشقِ رسول اور خود شناسی کا ہے۔

شعری مجموعے
مضراب، لب کشا، چراغ آخر شب
تحقیقی کتب
مشرقی بنگال میں اردو، سات ستارے
نمایاں صنف
نعت، غزل، تنقید

🌺 اختتامیہ: ایک عظیم چراغِ سخن

پروفیسر اقبال عظیم کا شمار ان منفرد شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کی مشکلات کو کبھی اپنی سوچ پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ بینائی سے محرومی نے ان کے کلام کو ایک نئی روحانی بلندی عطا کی۔ آج جب ہم ان کے اشعار پڑھتے ہیں تو ان کی سادہ اور موثر زبان میں وہی درد اور وہی کشش ملتی ہے جو قارئین کو برسوں سے مہیا ہے۔ یہ بلاگ ان کی عظیم شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ امید ہے کہ ان کی شاعری سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھے گی اور اردو کے اس اہم شاعر کو وہ مقام ملے گا جس کے وہ حقیقی مستحق ہیں۔

"یہ میری انا کی شکست ہے، نہ دعا کرو نہ دوا کرو
مجھے چھوڑ دو میرے حال پر، مجھے تم فراموش کرنہ دو"
🍃 اقبال عظیم — انا کی شکست کا فلسفہ

ان کی وفات کو بیسویں صدی کا ادبی خلا قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان کی کتابیں اور مسطورہ کلام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پروفیسر اقبال عظیم واقعی "عظیم" تھے، اپنے فکر، اپنی شاعری اور اپنی بصیرت کے سبب۔ ان کی روح کو سلام۔

منتخب کلام

شہر کا شہر جب دُہائی دے
شہریاروں کو کیا سنائی دے

کوئ کیسے کسی کو پہچانے
روشنی ہو تو کچھ دکھائی دے

کم سے کم اتنی روشنی یا رب !
ہاتھ کو ہاتھ تو سُجھائی دے

مجھ کو کرنا ہے زندگی سے نباہ
مجھ کو تھوڑی سے بے وفائی دے

بد دعائیں نہ سُن سکوں گا مَیں
مجھ کو شاہی نہیں، گدائی دے

لفظ پابندِ مصلحت ہیں ہنوز
اُن کو اِس قید سے رہائی دے

ضبط اب میرے بس کی بات نہیں
مجھ کو بھی اذنِ لب کُشائی دے

لے سکوں دشمنوں سے درسِ خلوص
مجھ کو وہ ظرفِ آشنائی دے

جن کے دل کھو چکے ہوں بینائی
اُن کو آنکھوں سے کیا دکھائی دے

عاجزی میری خُو نہ بن جائے
مجھ کو توفیقِ خودنمائی دے

اپنی رحمت سے بے نیاز نہ کر
کب کہا مَیں نے پارسائی دے

دشمنوں سے بھی مِل سکے اقبال
اُس کو وہ ظرفِ آشنائی دے

اقبال عظیم

🔹 تحریر: ادبی مطالعہ — پروفیسر اقبال عظیم کی حیات و خدمات پر مبنی | تمام معلومات معتبر حوالوں سے ماخوذ 🔹

Watch My Ghazal Karra Tha Bojh

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu
The opinions and comments of friends will be respected.

Written by: Afzal Shakeel Sandhu




Comments

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے اندوہناک واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے اس سانحے کے س...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین کا تصور نہیں ہوتا۔ محبوب سے کچھ مانگنے کے بجائے اسے خدا سے ما...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventions for those dealing with conditions that may not be readily appare...
Follow This Blog WhatsApp