پروفیسر اقبال عظیم
زندگی، شاعری اور فکری ورثہ
🌟 تعارف: نابینا مگر روشن ضمیر شاعر
اردو ادب کے دھانے میں پروفیسر اقبال عظیم کا نام ایک عظیم شاعر، محقق اور نعت گو کے طور پر روشن ہے۔ وہ صرف ایک استاد نہ تھے بلکہ دردِ دل، خود آگہی اور روحانی کیفیات کا ایک ایسا سمندر تھے جس نے اپنی بینائی کھونے کے بعد بھی الفاظ کے ذریعے دلوں کو منور کیا۔ اقبال عظیم 8 جولائی 1913ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے اور 22 ستمبر 2000ء کو کراچی میں وفات پائی — مگر ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ یہ بلاگ ان کی زندگی کے نشیب و فراز، ان کے فکر و فن اور ان کی شاعری کے حسن کا احاطہ کرتا ہے جو آج بھی ادبی حلقوں میں سراہا جاتا ہے۔
جو دیدہ ور ہیں وہ اپنی بلا سے دیکھیں"
Read My Beautful Poem Khwabo ka Shehr
🌿 ابتدا اور خاندانی پسمنظر
پروفیسر اقبال عظیم کا اصل نام سید اقبال احمد تھا اور ان کا قلمی نام ’اقبال عظیم‘ تھا۔ وہ ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید مقبول عظیم عرش تھے جو خود اپنے زمانے کے معروف شاعر تھے۔ دادا سید فضل عظیم فضل اور نانا ادیب میرٹھی بھی علم و ادب کے چراغ تھے۔ گویا اقبال عظیم کو شعر و سخب ورثے میں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بچپن ہی سے ادبی ماحول سانس لیا۔ مشہور ہے کہ جب وہ گورنمنٹ ہائی سکول انائو میں آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے، تب ہی انھیں مولانا حسرت موہانی کی غزلیں زبانی یاد تھی۔ اس خاندانی پشت پناہی نے ان کے اندر ادبی ذوق کو جلا بخشی اور بعد میں انھیں اردو کا منفرد شاعر بنایا۔
🎓 تعلیم اور علمی سفر
اقبال عظیم نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے بیچلر آف آرٹس (بی اے) کی ڈگری 1934ء میں مکمل کی۔ اس کے بعد آگرہ یونیورسٹی سے 1940ء میں اردو میں ماسٹرز کیا۔ وہ محض اردو ہی نہیں بلکہ ہندی اور بنگلہ زبانوں میں بھی مہارت رکھتے تھے اور ان زبانوں کے امتحانات اعلیٰ معیار سے پاس کیے۔ یہ کثیر اللسانی صلاحیت ان کے تحقیقی کاموں میں خاص طور پر نمایاں ہے۔ بعد میں انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی سے بھی وابستگی حاصل کی۔ ان کے اساتذہ میں صفی لکھنوی اور وحشت کلکتوی جیسے جید اساتذہ شامل تھے، جن سے انھوں نے اصلاح لی اور اپنی شاعری کو نکھارا۔
Read My Poem SHAK click here
🏛️ تدریسی و تحقیقی کیریئر — مشرقی پاکستان کے روشن ستارے
تعلیم مکمل کرنے کے بعد اقبال عظیم نے بطور مدرس اپنے پیشے کا آغاز کیا۔ 1950ء میں وہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) منتقل ہو گئے اور وہاں 1951 سے 1970 تک مختلف سرکاری کالجوں میں پروفیسر اور شعبۂ اردو کے صدر رہے۔ ڈھاکہ کالج اور چٹاگانگ کالج میں بحیثیت صدر شعبہ انھوں نے اردو زبان و ادب کی خدمت کی۔ ملازمت کے آخری پانچ برسوں میں صوبائی سیکریٹریٹ نے انھیں ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمات حاصل کیں۔ یہاں ان کی تحقیقی صلاحیتوں کو خوب پذیرائی ملی۔ اسی دوران انھوں نے اپنی شہرہ آفاق تصانیف لکھیں جن میں ’مشرقی بنگال میں اردو‘ (بنگال میں اردو زبان کے ارتقا پر تنقیدی جائزہ)، ’سات ستارے‘، ’مشرق کے نام‘ اور ’قاب قوسین‘ (نعتیہ مجموعہ) شامل ہیں۔
"اللہ تعالیٰ نے ہم بہن بھائیوں کو جن بیشمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا، ان میں ایک عظیم نعمت یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک دینی گھرانے میں آنکھ کھولی اور ادبی ذوق ہمیں ترکے میں ملا۔"
— اقبال عظیم (کتاب ’مضراب و رباب‘ سے)
📜 شاعری: غزلیات، نعتیہ کلام اور انفرادیت
اقبال عظیم نے غزل، نظم، نعت، مرثیہ، مثنوی اور دیگر تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، تاہم ان کی پہچان ان کی روح پرور نعتوں اور سادہ لیکن گہرے غزلوں سے ہے۔ ان کے دو اہم غزلی مجموعے ’مضراب‘ اور ’لب کشا‘ ہیں جبکہ ’چراغ آخر شب‘ بھی ان کی غزلوں کا معرکہ ہے۔ ان کی نعت گوئی کو اردو دنیا میں خاص مقام حاصل ہے۔ ان کا ایک نعتیہ شعر دیکھیں:
جبیں افسردہ، افسردہ، قدم لغزیدہ، لغزیدہ
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ، شرمندہ، بدن لرزیدہ، لرزیدہ"
یہ نعت آج بھی ملک کے معروف نعت خوانوں کی زبانی سنی جاتی ہے اور عقیدت سے پڑھی جاتی ہے۔ نعت گوئی میں ان کا اسلوب رواں، بامحاورہ اور پر خلوص ہے۔ علامہ اقبال کی طرح وہ بھی اپنے اشعار میں فکر اور جذبے کا امتزاج پیش کرتے ہیں، لیکن اپنی بینائی سے محرومی کے بعد ان کے کلام میں اندر کی بصیرت کی جھلک اور زیادہ نمایاں ہوگئی۔ ایک غزل کے اشعار ملاحظہ فرمائیں:
خواب ہو جاؤ گے، افسانوں میں ڈھل جاؤ گے
اب تو چہروں کے خد و خال بھی پہلے سے نہیں
کس کو معلوم تھا تم اتنے بدل جاؤ گے"
ان کی شاعری میں صوفیانہ کیفیت، انسانی رشتوں کی نزاکت اور خود احتسابی جھلکتی ہے۔ وہ الفاظ کو ایسے پروتے ہیں کہ قاری خود کو مخاطب محسوس کرتا ہے۔ بحیثیتِ محقق انھوں نے "دیوانِ ناطق" (ناطق لکھنوی کا کلام) بھی مرتب کیا۔ ان کی کتاب ’نادیدہ‘ بھی اہم ہے جو ان کی اسی بصیرت کی آئینہ دار ہے۔
Read My Heart touching Ghazal Click here
📚 تصانیف کی جھلک
- مشرقی بنگال میں اردو
- سات ستارے
- مشرق کے نام
- مضراب و رباب
- قاب قوسین (نعتیہ مجموعہ)
- چراغ آخر شب
- لب کشا
- نادیدہ
🕊️ کراچی آمد: روشنی کا نیا باب
1970ء میں جب اقبال عظیم کی بینائی زائل ہوگئی تو وہ اپنے اعزہ کے پاس کراچی آگئے۔ یہ ان کی زندگی کا ایک انتہائی المناک اور اہم موڑ تھا، لیکن انھوں نے اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ماتم میں بدلنے کے بجائے ایک نئی جہت عطا کی۔ کراچی میں قیام کے دوران انھوں نے اپنی مشہور نظم ’اب تو بس ایک ہی دھن ہے‘ اور دیگر شاہکار تخلیق کیے۔ نابینا ہونے کے باوجود وہ سننے، سوچنے اور لکھنے کے عمل میں مصروف رہے۔ خود ایک شعر میں فرماتے ہیں:
مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ"
کراچی میں وہ سخی حسن قبرستان کے قریب آباد تھے، اور اسی شہر میں 22 ستمبر 2000ء کو ان کا انتقال ہوا۔ آج ان کا مزار عقیدت مندوں کے لیے ایک ادبی زیارت گاہ ہے۔
🏆 ادبی ورثہ اور مقام و مرتبہ
پروفیسر اقبال عظیم کا ادبی مرتبہ بہت بلند ہے۔ سابق مشرقی پاکستان میں ان کا شمار اردو کے ممتاز شعرا میں ہوتا تھا۔ ان کی شاعری میں فکر کی گہرائی، ندرتِ خیال اور سادگی کے ساتھ جذبات کی شدت پائی جاتی ہے۔ ریختہ، صوفی نامہ اور اردو پوائنٹ جیسے ویب ذخیروں پر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے اور نئی نسل اسے پڑھ رہی ہے۔ ان کا ایک اور مقبول شعر ملاحظہ کیجیے:
سر اتنا مت جھکاؤ کہ دستار گر پڑے"
ان کا لکھا ہوا نعتیہ اور غزلیہ سرمایہ اردو ادب کا بیش بہا حصہ ہے۔ ان کی تحقیقی کتب بالخصوص ’مشرقی بنگال میں اردو‘ آج بھی محققین کے لیے اہم ماخذ ہیں۔ 22 ستمبر کو ان کی برسی کے موقع پر مختلف ادبی محفلیں انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہیں۔ اقبال عظیم نے ثابت کیا کہ بصارت کا نہ ہونا کبھی تخلیقی صلاحیتوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ ان کا پیغام صبر، عشقِ رسول اور خود شناسی کا ہے۔
🌺 اختتامیہ: ایک عظیم چراغِ سخن
پروفیسر اقبال عظیم کا شمار ان منفرد شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے زندگی کی مشکلات کو کبھی اپنی سوچ پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ بینائی سے محرومی نے ان کے کلام کو ایک نئی روحانی بلندی عطا کی۔ آج جب ہم ان کے اشعار پڑھتے ہیں تو ان کی سادہ اور موثر زبان میں وہی درد اور وہی کشش ملتی ہے جو قارئین کو برسوں سے مہیا ہے۔ یہ بلاگ ان کی عظیم شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ امید ہے کہ ان کی شاعری سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بڑھے گی اور اردو کے اس اہم شاعر کو وہ مقام ملے گا جس کے وہ حقیقی مستحق ہیں۔
مجھے چھوڑ دو میرے حال پر، مجھے تم فراموش کرنہ دو"
ان کی وفات کو بیسویں صدی کا ادبی خلا قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان کی کتابیں اور مسطورہ کلام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پروفیسر اقبال عظیم واقعی "عظیم" تھے، اپنے فکر، اپنی شاعری اور اپنی بصیرت کے سبب۔ ان کی روح کو سلام۔
منتخب کلام
شہر کا شہر جب دُہائی دے
شہریاروں کو کیا سنائی دے
کوئ کیسے کسی کو پہچانے
روشنی ہو تو کچھ دکھائی دے
کم سے کم اتنی روشنی یا رب !
ہاتھ کو ہاتھ تو سُجھائی دے
مجھ کو کرنا ہے زندگی سے نباہ
مجھ کو تھوڑی سے بے وفائی دے
بد دعائیں نہ سُن سکوں گا مَیں
مجھ کو شاہی نہیں، گدائی دے
لفظ پابندِ مصلحت ہیں ہنوز
اُن کو اِس قید سے رہائی دے
ضبط اب میرے بس کی بات نہیں
مجھ کو بھی اذنِ لب کُشائی دے
لے سکوں دشمنوں سے درسِ خلوص
مجھ کو وہ ظرفِ آشنائی دے
جن کے دل کھو چکے ہوں بینائی
اُن کو آنکھوں سے کیا دکھائی دے
عاجزی میری خُو نہ بن جائے
مجھ کو توفیقِ خودنمائی دے
اپنی رحمت سے بے نیاز نہ کر
کب کہا مَیں نے پارسائی دے
دشمنوں سے بھی مِل سکے اقبال
اُس کو وہ ظرفِ آشنائی دے
اقبال عظیم
🔹 تحریر: ادبی مطالعہ — پروفیسر اقبال عظیم کی حیات و خدمات پر مبنی | تمام معلومات معتبر حوالوں سے ماخوذ 🔹
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments
Post a Comment