س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat
بس اس کا زکر بلند ہے
جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی
جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی
وہ ذات مجھ کو پسند ہے
بس اس کا ذکر بلند ہے
دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی ترح ملتا رہا
وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا
شمس و قمر پابند ہے
بس اس کا ذکر بلند ہے
جسکا نام آتے ہی کحل جاتے ہینہونٹوں پہ گلاب
نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب
لہجہ شیریں و قند ہے
بس اس کا ذکر بلند ہے
شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا
ورقہ نوفل جسے اک لمھے میں پہچان گیا
وہ ذات ارجمند ہے
بس اس کا ذکر بلند ہے
جس نع رھمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم
جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم
مجھے اس نبی کی سوگند ہے
بس اس کا ذکر بلند ہے
تفصیلی اردو وضاحت (Description):
یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ اس کلام کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا میں اگر کوئی ذکر سب سے بلند اور برتر ہے تو وہ صرف اور صرف حضور نبی کریم ﷺ کا ذکر ہے۔
شاعر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ آپ ﷺ وہ ہستی ہیں جنہوں نے انسانیت کی تقدیر بدل دی، خوابوں کو نئی تعبیر دی، اور جہالت کے اندھیروں میں روشنی کی شمع روشن کی۔ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ میں ہمیں محبت، صبر، برداشت، اور انسانیت کی اعلیٰ ترین مثالیں ملتی ہیں۔
کلام میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضور ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کیا، اور مظلوموں، غریبوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے ہمیشہ رحمت بنے رہے۔ آپ ﷺ کی زندگی سراپا رحمت اور شفقت ہے، جس نے دنیا کو ایک نئی سمت عطا کی۔
شاعر نے تاریخی حوالوں کے ذریعے بھی حضور ﷺ کی صداقت کو بیان کیا ہے، جیسے کہ شاہِ نجاشی اور ورقہ بن نوفل جیسے لوگوں کا آپ ﷺ کی نبوت کو فوراً تسلیم کرنا۔ یہ واقعات اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ ﷺ کی سچائی اور عظمت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
یہ نعت نہ صرف ایک عقیدت بھرا کلام ہے بلکہ قاری کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کو مزید گہرا کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اس کے اشعار دل کو چھو لینے والے ہیں اور زبان پر درود و سلام جاری کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
آخر میں شاعر اپنے ایمان کی گواہی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ اسی نبی ﷺ کی قسم کھاتا ہے جنہوں نے انسان کی عزت اور عظمت کے لیے ہر طرح کی تکلیف برداشت کی۔ واقعی، آپ ﷺ کا ذکر ہی وہ ذکر ہے جو ہمیشہ بلند رہے گا۔
natia nazm
1. Zikr-e-Rasool: The act of remembering or mentioning the Prophet Muhammad in a positive and reverent manner.
2. Salawat: The recitation of blessings upon the Prophet Muhammad. Also known as "Durood" or "Salat al-Nabi."
3. Naat: A form of poetry or song that praises the Prophet Muhammad's virtues and character.
4. Muhammad (PBUH): An abbreviation for "Peace Be Upon Him," used after mentioning the Prophet's name as a sign of respect.
5. Sallallahu Alaihi Wasallam: An Arabic phrase often used after mentioning the Prophet Muhammad, which means "Peace and blessings be upon him."
6. Mawlid: The celebration of the Prophet Muhammad's birth, which often includes zikr-e-Rasool and recitation of Islamic poetry.
7. Hadith: Sayings, actions, and approvals of the Prophet Muhammad, which are a significant source of guidance in Islam.
8. Sunnah: The practices and traditions of the Prophet Muhammad, which Muslims seek to emulate in their lives.
9. Dhikr: The broader concept of remembrance of Allah (God) and His Messenger, which includes zikr-e-Rasool.
10. Islamic Poetry: Poems and verses that celebrate the life and character of the Prophet Muhammad.
11. Sufism: A mystical Islamic tradition that often emphasizes the importance of zikr, including zikr-e-Rasool
Visit my website
https://youtu.be/MQsWxM1NStY
Rekhta - Urdu Poetry
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu
This comment has been removed by the author.
ReplyDeleteWOW bro
ReplyDeletekia baat hey bohat umda naat hey
ReplyDelete