ناصر کاظمی: دکھ کا شاعر، غم کا راگی | افضل شکیل ناصر کاظمی دکھ کا شاعر، غم کا راگی اور جدید اُردو غزل کا روح پیکر تعارف: خوابوں اور یادوں کا شاعر جدید اُردو غزل کے اُفق پر ناصر کاظمی وہ روشن ستارہ ہیں جس نے اداسی، ہجرت اور ماضی کی مہک کو ایسے سادہ اور پُر اثر انداز میں ڈھالا کہ قاری کا دل بے ساختہ جھنجھنا اُٹھتا ہے۔ وہ شاعروں کے اس قافلے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں لفظ محض لفظ نہیں، ایک دھڑکتا ہوا زخم ہوتا ہے — اور اسی درد کو انہوں نے بے انتہا خوبصورتی سے پرویا۔ ناصر کاظمی نے اُس دور میں غزل کو نئی زندگی دی جب غزل گوئی پر طرح طرح کے اعتراضات تھے، لیکن ان کے کلام نے فضا بدل دی اور وہ "عہدِ جدید کا میر" کہلائے۔ اُن کا خیال تھا کہ غزل بار بار اُجڑتی ہے اور پھر بسی ہے، بس اچھی شاعری ہی اس کی پہچان ہے۔ یہی وہ امتیاز ہے جس نے انہیں لازوال بنا دیا۔ ✨ "غزل کا احوال دلی کا سا ہے۔ یہ بار بار اُجڑی ہے اور بار بار بسی ہے۔" ✨ — ناصر کاظمی Read on Blog QAIS...
ممجید امجد کا وطن کی محبت میں سرشار اک شعر In pakistan defense day is celebrated on 6 September everyday.on this day we lost so many shuhda in the war of 1965,when India attacked our countary without any warning. Pakistani armed forces defend our homeland so accurately that indian forces run back and defeated This verse is belong to great poet majeed Amjad who spent most of his time is sahiwal وطن چمکتے ہوئے کنکروں کا نام نہیں یہ تیرے جسم تیری روح سے عبارت ہے اردو تفصیل یہ خوبصورت شعر وطن کے حقیقی مفہوم کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرتا ہے۔ مجید امجد اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ وطن صرف زمین، مٹی یا ظاہری خوبصورتی کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے جسم اور روح کا حصہ ہوتا ہے۔ شاعر وطن کو ایک ایسی مقدس حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے جو انسان کی شناخت، اس کے احساسات اور اس کی زندگی کے ہر پہلو سے جڑی ہوتی ہے۔ یہاں وطن محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک جذباتی اور روحانی وابستگی ہے، جس میں انسان کی محبت، قربانی اور پہچ...