امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
پاکستان سے تعلق رکھنے معروف ترین نغمہ نگار اور شاعر مسرور_انور کا اصل نام انور_علی ہے۔ 06؍جنوری 1944ء کو شملہ(بھارت) میں پیدا ہوئے۔ اوائل عمری سے ہی انہیں شعروشاعری سے رغبت ہو گئی۔ جب فلمی گیت لکھنے شروع کیے تو ان کی پہلی فلم ’’بنجارن‘‘ نے ہی باکس آفس پر شاندار کامیابی حاصل کی۔ ان کے لکھے ہوئے نغمات نے بھی ہر طرف دھوم مچا دی۔ یہ فلم 1962ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ یہاں اس امرکا تذکرہ ضروری ہے کہ مسرور انور نے بے شمارفلموں کے سکرپٹ اور مکالمے بھی تحریر کیے۔ہدایتکار پرویز ملک جب امریکا سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے واپس آئے تو انہوں نے اپنے دوست وحید مراد سے پاکستان میں سینما کی نئی لائن پر بات شروع کی۔ دونوں اس بات پر متفق ہو گئے کہ سماجی اور رومانی موضوعات پر فلمیں بنائی جائیں۔ جن کی موسیقی اعلیٰ درجے کی ہو۔ اس مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے ’’فلم آرٹس‘‘ کے نام سے ایک نیا پروڈکشن ہائوس بنایا۔ اسی اثناء میں مسرور انور بھی اس پروڈکشن ہائوس سے وابستہ ہو گئے۔ پھر موسیقار سہیل رعنا بھی اس ٹیم کے رکن بن گئے۔ مسرور انور کی سہیل رعنا سے دوستی ہو گئی۔ جس کی وج...