Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Urdu Poem

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Amjad Islam Amjad – Life, Poetry & Famous Urdu Ghazals

امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...

Ankhen Poem | Early Urdu Poem by Afzal Shakeel

آآنکھیں بچپن کی شاعری: ایک ابتدائی تخلیق تعارف یہ نظم شاعر کے اس دور کی یادگار ہے جب انہوں نے ابھی باقاعدہ طور پر اپنا تخلص "شکیل" بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ یہ تخلیق نہ صرف ایک معصوم ذہن کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس میں وہ گہرائی بھی موجود ہے جو بعد میں ایک پختہ شاعر کی پہچان بنتی ہے۔ اس شاعری میں محبت، محرومی، اور سماجی رویوں کے اثرات کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر کے اندر تخلیقی صلاحیت شروع ہی سے موجود تھی۔ Read My Poem ASAL Click here نظم آنکھیں بلند و بام دریچوں سے جھانکتی آنکھیں دل فگار کو آباد کر کے کیا لیں گی کسی کو اپنا بنانے کی نقرئی یاسیں سکون شہر کو برباد کر کے کیا لیں گی رہی نہ شہر خموشاں میں بھی خاموشی چراغ دل اور دنیا ہنوز بے ہوشی جو اعتبار نہیں ہے ہمیں محبت پر نحیف دل کو وہ فرہاد کر کے کیا لیں گی ہر ایک چیز بھلی ہے نگار خانے کی مراد ہے انہیں دولت بھرے زمانے کی پھنسا ہی لیتے ہیں مغرور جال بینش میں غریب شخص کو ناشاد کر کے کیا لیں گی نہ دیکھ افضل بےذوق تم تو ناداں...

Mother – A Deeply Emotional Urdu Poem on Love, Loss and Devotion

Maan — A Tribute to My Mother (Published in Weekly Kashif, Oct 13–19, 1991) Read My Blog On JIGER MURADABADI Click here This poem — written after the passing of my mother when I was in eighth class — was first published in Weekly Kashif (Sahiwal), issue dated October 13–19, 1991. It is a personal tribute to her love, prayers, and the profound influence she left on my life. I share it here to remember her and to offer its solace to others who have loved and lost. یہ نظم میری والدہ کی وفات کے بعد آٹھویں کلاس میں لکھی گئی تھی اور پہلی بار ویکلی کاشف (ساہیوال) کے شمارہ مورخہ 13–19 اکتوبر 1991 میں شائع ہوئی۔ یہ ماں کی محبت، دعاؤں اور زندگی پر اس کے اثر کا ایک درد بھرا خراجِ تحسین ہے ماں جس ہستی سے میرے دم میں دم تھا، اُس کے جیتے جی دھوکا نہ غم تھا میری مٹی میں گویا اُس سے نم تھا مرے چاروں طرف مجمع بہم تھا۔ وہ اک ویران جا پہ بس گئی ہے میری ہستی کے لمحے کس گئی ہیں Read My Poem AANKHEN Click here The being from whom my...

Home Sweet Home – A Heart Touching Urdu Poem About Love for Home

Home Sweet Home , Ghar Pyara Ghar Read My PUNJABI GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT click here This poem published in Daily Peghaam (Sahiwal) on Thursday , 28 May,1998.Today 27 years, 4 months , and 7 days had passed , I become young to old but the poem still fresh like the city on wich it is depicted. 📖 Description "Ghar Pyara Ghar" is a heartfelt poem by Afzal Shakeel Sandhu, published in Daily Peghaam on 28 May 1998. The poem reflects deep love for the poet’s hometown Sahiwal, highlighting its cultural richness, peaceful lifestyle, agricultural beauty, and warm-hearted people. It is a poetic tribute to the city that nurtured countless memories, portraying Sahiwal as a symbol of home, comfort, and belonging. Read My Exelent Ghazal HAAR NA MANI click here Read My Blog On IQBAL AZEEM click here گھر پیارا گھر نظم افضل شکیل سندھو شاعری ساہیوال پر نظم ڈیلی پیغام 1998 شاعری گھر کی محبت کی شاعری وطن کی یاد نظم پنجابی اردو شاعری ...

Naseehat | Free Verse Poetry by Afzal Shakeel Sandhu | Immortality of Words

Naseehat – A Thoughtful Urdu Poem About Words and Legacy by Afzal Shakeel نظم: نصیحت اے معرے لفظو میری بات سنو میں تمہیں ساعتوں کے دریا میں ڈوبتا دیکھ تو نہیں سکتا اک نصیحت کو عام کرتا ہوں تم توجہ سے بات کو سن لو میں تو بس راکھ کی امانت ہوں اے میرے دل نشیں حسیں لفظو تم میری زندگی کا حاصل ہو تم کو میں نے بہت تراشا ہے میرے لفظو تم گواہ رہنا میری تربت کے خاک کے ذرے حرف اور صوت کا تعارف ہیں وقت مجھ کو مٹانا چاہتا ہے میری باتیں گنوانا چاہتا ہے میں صلہ مانگتا نہیں لیکن مجھ پہ احسان اتنا کر دینا وقت مجھ کو مٹانے جب آئے وقت کے سامنے ڈٹے رہنا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI click here تفصیل یہ نظم "نصیحت" الفاظ، وقت اور انسان کے فکری ورثے کے درمیان ایک گہرا اور معنی خیز رشتہ پیش کرتی ہے۔ شاعر اپنے الفاظ سے مخاطب ہو کر انہیں ایک جاندار وجود کی صورت دیتا ہے، جیسے وہ اس کی زندگی کے ساتھی اور اس کے احساسات کے امین ہوں۔ یہ اندازِ بیان نظم کو ایک خاص تاثیر اور انفرادیت بخشتا ہے۔ ابتدائی اشعار میں شاعر اپ...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp