شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو - شادی کی چوتھی سالگرہ ✦ شادی کی چوتھی سالگرہ ✦ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو — ایک غزل — شادی کی چوتھی سالگرہ کے موقع پر ◆ ❀ غزل ❀ شب سیاہ میں میرے لئے اجالا تو میری عمر کا اک آخری حوالہ تو — ۱ — بہت طویل مسافت کے بعد پہچانا میں جیسے چاند اس کے گرد حالہ تو — ۲ — یہ چار سال چار دن ہی ہوں جیسے جس میں وقت بھی ہو قید وہ پیالہ تو — ۳ — میں کسی کو بھی کچھ جانتا نہیں ہوں مگر زنجیر پا ہوں اور اس پہ تالا تو ...
غزل کی روشنی میں: بزم ہستی اور شعار زندگی | مکمل تجزیہ غزل · فکری گہرائی · علامتی اظہار بزمِ ہستی میں شعارِ زندگی ہونے نہ پائے تاریک دور، امیدوں کی ناکامی اور انا کے خول کا فنی بیانیہ Read My Popular Poem Muahada( The Pact ) Click Here بزم ہستی میں شعار زندگی ہونے نہ پائے ظلمتوں کا دور ہے روشنی ہونے نہ پائے ہے توقع آج کی محفل میں وہ بھی آئیں گے دیکھ لینا اب کوئی دیوانگی ہونے نہ پائے چمن کے کانٹوں سے میں یہ بارہا کہتا رہا ان سے کوئی بے تکلف آدمی ہونے نہ پائے انتہائے جبر ہے ، مےخانہ حیات میں حکم ساقی آ گیا ہے مےکشی ہونے نہ پائے جب دیا دل ، دے دیا ، یہ انا کا خول کیوں ایسی غلطی کا اعادہ پھر کبھی ہونے نہ پائے میں بہت رنجیدہ خاطر ہوں دنیا والے سن میرے ارمانوں کے اندر کھلبلی ہونے نہ پائے میں وہی بے ربط آنگن ہوں جس آنگن شکیل چاند ہو سر پر مگر چاندنی ہونے نہ پائے ⸻ مکمل غزل ، شاعر: افضل شکیل سندھو ⸻ ...