سلیم کوثر — وہ شاعر جس کی ایک غزل زمانہ بن گئی ✨ سلیم کوثر ✨ لازوال غزل میں خیال ہوں کسی اور کا، مجھے سوچتا کوئی اور ہے کے خالق خواجہ حیدر علی آتش پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں 🌍 پیدائش اور ہجرت کا سفر سلیم کوثر اگست 1947ء (بعض روایات میں 24 اکتوبر 1947) کو پانی پت، بھارت میں پیدا ہوئے۔ تقسیم ہند کے فوراً بعد ان کا خاندان ہجرت کر کے پاکستان آیا اور خانیوال، صوبہ پنجاب میں آباد ہوا۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم خانیوال میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد خاندان کبیروالا منتقل ہو گیا۔ 1972ء میں کراچی کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنایا۔ یہاں وہ کئی اردو اخبارات سے وابستہ رہے اور بعد میں پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے منسلک ہو گئے، وہیں سے ریٹائر ہوئے۔ صہبا اختر...
خخوابوں کا ایک شہرKhawabon Ka Ek Shehar – A Poem About Peace, Humanity & A World Without War خوابوں کا ایک شہر ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دل میں سجا ہوا وہ شہر جس میں امن و محبت کی آرزو کھل کھل کے پھول بننے کا اظہار کر چکی رنج و ملال گر چہ ہیں تقدیر زندگی تقدیر دھول بننے سے انکار کر چکی آو نہ آج مل کر سارے ہم کریں خوابوں کی سرزمیں کو بچانے کی جستجو لمحات قیمتی ہیں میرے دوستو کریں ہم تصورات کو پانے کی جستجو ورنہ تو جوہروں کے یہ کشتے کمال ہیں لمحوں کو اب عروج ہے کل یہ زوال ہیں آو بچایئں گھر کو سبھی پرملال ہیں خطرے تاریکیوں کے ابھی نو نہال ہیں ہاتھوں سے جیسے دامن دنیا چھٹا ہوا خوابوں کا ایک شہر ہے دلمیں سجا ہوا Read My GHAZAL HAAR NA MANI click here Watch My Ghazal Tamam wasf Khudaya نوٹ میں نے یہ نظم ایٹمی ہتھیاروں کی دنیا بھر میں بھرمار کے خلاف لکھی تھی۔ مقصد صاف ظاہر ہے کے دنیا میں ایٹمی جنگوں کو روک کر دنیا کو پر امن اور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانا ہے۔اس نظ...