Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2024

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Khumar Barabankvi: The Poet of Intoxication & Melancholy

خمار بارہ بنکوی: شخصیت اور شاعری © 2026 Afzal Shakeel Sandhu — All Rights Reserved. خمار بارہ بنکوی شخصیت، فن اور شاعری کا ایک جامع جائزہ ✍️ تحریر: افضل شکیل سندھو Visit My Blog On SHAKIL BADAYAUNI click here اردو ادب کے دھانے میں جب بھی غزل گوئی کا ذکر آتا ہے تو ایک نام جو دلوں میں اتر جاتا ہے، وہ ہے خمار بارہ بنکوی ۔ سادگی، روانی اور گہرے جذبات کی شاعری کرنے والے اس عظیم شاعر نے اپنی فطری موسیقی اور منفرد اسلوب سے اردو غزل کو ایک نیا آسمان عطا کیا۔ آج ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی زندگی، فن اور شاعری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ تعارف اور ابتدائی زندگی خمار بارہ بنکوی کا اصل نام محمد حیدر خان تھا۔ وہ 19 ستمبر 1919ء کو بارہ بنکی، اودھ (موجودہ اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کا قلمی نام 'خمار'...

Tmam Wasf | Strength in Brokenness – A Powerful Urdu Ghazal on Patience and Dignity

Tmam Wasf | Strength in Brokenness – A Powerful Urdu Ghazal on Patience and Dignity tmam wasf khudaya teri ata k hn shakasta jism mgr hosley bla k hn https://bit.ly/3TdyAsy غزل تمام وصف خدایا تیری عطا کے ہیں شکستہ جیسم مگر حوصلے بلا کے ہیں خطوط یاس کی سچائیوں میں کھوئے ہوئے حروف زہر میں بھیگے دلربا کے ہیں سر بازار تعلق سے پیش و پس اور اب ختم ہوئے وہ فسانے جو ابتدا کے ہیں میرا وقار نہ مجروح ہوا نہ ہو گا کبھی زباں عام پہ قصے تیری جفا کے ہیں کس غرور سے سر چار ہو چکا ہے شکیل فقط نتیجے یہ محفل میں التجا کے ہیں Read My GHAZAL OQAT E AAS MUYASI HN ZIDGI KO QALEEL click here 📖 غزل کی اردو وضاحت یہ غزل صبر، حوصلے، اور خودداری کی ایک گہری اور باوقار ترجمانی ہے۔ شاعر ابتدا میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ انسان کی ہر خوبی اور طاقت دراصل خدا کی عطا ہے، چاہے جسم کمزور ہو مگر حوصلے بلند رہتے ہیں۔ اشعار میں مایوسی، درد اور تلخی کے احساسات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ "خطوطِ یاس" اور "حروف زہر...

ab mujhey yaad na krna logo | A poem of inner feelings about existance and remembrance

ااب مجھے یاد نہ کرنا لوگو تحریر: افضل شکیل سندھو Read My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A نظم اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو میں تمھیں یاد بہت آؤں گا جتنا تڑپا تمھیں تڑپاؤں گا میں تمھیں یاد بہت آؤں گا رنج کے منبع سے خوشیوں کے بھی چشمے پھوٹے مدتوں تک میرے ارمانوں کے شیشے ٹوٹے میں بھی انسان ہوں مٹ جانے کو آیا ہوں یہاں اپنے خوابوں میں سمٹ جانے کو آیا ہوں یہاں حسنِ ہستی کبھی برباد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو قتل ہوتی رہی برسوں یہاں آوازِ وفا سمجھ کر بھی جو نہ سمجھے یہاں اندازِ وفا چشم پر خواب سے گرتے ہوئے آنسو کی قسم میری دل جوئی کو بڑھتے ہوئے بازو کی قسم جبر کے سامنے فریاد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو چھان ڈالا میں نے اس دیس کا قریہ قریہ میں نے لفظوں کو ہی اظہار کا سمجھا ذریعہ کوئی تصویر میرے کرب کی تہہ تک نہ گئی میرے سینے میں کہیں بے دلی رہ تک نہ گئی روشنی آئے تو ناشاد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو میں تمھیں یاد بہت آؤں گا جتنا تڑپا تمھیں تڑپاؤں گا میں تمھیں یاد بہت آؤں گا ...

(لاریب افضل) Laraib Afzal my sweet doughter

Laraib afzal Two years ago Allah bless us with his great blessing,a baby girl.we both and My family were very happy and excited because we have two boys and we want a pretty baby girl,So Allah gave us that blessing,we eat and distribute sweets to all our family members. childrens are the major blessings of Allah,I remember when my elder son come in this beautiful world,I realized as my status increased.Now I became a father and it was a great realization, accepting congratulations from all relatives was also a good sensation and happiness.At that time, My father was alive,and he too was very excited and happy.My mother was died in my childhood,it was my father who grown us as father and mother.But the deficiency of motherhood was a reality and we didn't ignore this reality.inspite of all this,the presence of very kind and hardworking father saved us from the all problems of life. we knew about a baby girl soon will be a part of our family,So I read three books of children name...

Popular posts from this blog

Kinds of online marketing fraud ?

Kinds of online marketing fraud ? Online marketing fraud encompasses a variety of deceptive practices used to manipulate online advertising and marketing efforts for financial gain or to mislead consumers. Here are some common types of online marketing fraud: 1. Click Fraud: Definition : This involves artificially inflating the number of clicks on a pay-per-click (PPC) advertisement. Method: Competitors or automated bots repeatedly click on ads to exhaust the advertiser’s budget without generating real interest. 2. Affiliate Marketing Fraud: Definition: Fraudulent activities aimed at generating commissions for affiliates illegitimately. Method: Using fake leads, cookie stuffing (where multiple affiliate cookies are planted on a user's device to claim commission on future purchases), or generating false traffic to inflate earnings. 3. Ad Fraud: Definition: Manipulating online advertising metrics to profit from advertising budgets. Method: Includes practices li...

Manzar | A poem reflects the patriotism in true sense

ممنظر ۔ قیام پاکستان کے تنا ظر میں لکھی گئی نظم #manzar,#pakistanday,#independence,#quadeazam,#migarat منظر خون کی نہرین آگ کا دریا ایک جم غفیر لاشوں کا چیختی بچیاں بھیانک ہاتھ چاروں جانب رنج و ال، کا ساتھ درد و غم سے کراہتے اجسام مسلمانوں کا بے وجہ قتل عام قافلے لاشوں کے انباروں میں راستے خون اور انگاروں میں نیزوں کی انیوں سے چھید گئے حاملہ ماّں کو کرید گئے پھر بھی خواہش آزاد ہو جایئن وطن کی گود ہی میں سو جایئں سرحد ہند سے پرے اس پار ایک قائد اتھائے لاکھوں بھار جسکے دل میں ہے مسلمان کا غم جس نے بخشا ہمیں آزادی کا دم اپنے تن کی خبر نہ من کی ہوش ہر وقت ہر جگہ رہا پر جوش کیمپوں میں زندگی دوڑاتا رہا اپنے خوں سے دیئے جلاتا رہا Read My Blog On SHAKIL BADAYUNI Click here تفصیل یہ نظم "منظر" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک درد بھری تخلیق ہے جس میں 1947 کی تقسیمِ ہند، ہجرت اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے المناک مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس نظم میں خون سے بھری نہریں، لاشوں کے قافلے، معصوم بچیوں کی چیخیں اور ظلم کے ...

بس اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat

س اسکا ذکر بلند ہے | Bas Us Ka Zikr Buland Hai – Heart-Touching Naat Poetry | Urdu Naat بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی جس نے ہر خواب کی تعبیر بدل کر رکھ دی وہ ذات مجھ کو پسند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے دشمنوں سے بھی جو اپنوں کی طرح ملتا رہا وہ جو صحرا میں غریبوں کیطرح پھرتا رہا شمس و قمر پابند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جسکا نام آتے ہی کھل جاتے ہین ہونٹوں پہ گلاب نام لیوا ہیں اسی شاہ کے ہم سب بے تاب لہجہ شیریں و قند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے شاہ نجاشی جسے سچا نبی مان گیا ورقہ نوفل جسے اک لمحے میں پہچان گیا وہ ذات ارجمند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے جس نے رحمان کی عظمت کے لیئے جھیلے ستم جس نے انسان کی عزت کے لیئے جھیلے ستم مجھے اس نبی کی سوگند ہے بس اس کا ذکر بلند ہے VISIT MY NAAT MERI HAYAT KA JOHAR HEY NAQSH E PAYE HUZOOR تفصیلی اردو وضاحت یہ نعتیہ کلام عشقِ رسول ﷺ کی ایک خوبصورت اور سادہ مگر پراثر ترجمانی ہے۔ شاعر نے نہایت عقیدت اور محبت کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس کو خراجِ تحسین پیش ...

Maine Tum Ko Khuda Se Manga Hai – A Soulful Urdu Sher on Pure Love

ممیں نے تم کو خدا سے مانگا ہے Apni aik nazm ka akhiri sher Jo mujhey to bohat pasand hey aap ko Kitna pasand aya ye aap k likes or comments hi pta chaley ga میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا See My Poem GADDI NASHEEN click here اردو میں مکمل تفصیل یہ شعر محبت کے خلوص، روحانیت اور بے غرض چاہت کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔ شاعر اپنے محبوب کو براہِ راست مخاطب کرنے کے بجائے خدا کے حضور اپنی طلب کا اظہار کرتا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ اس کی محبت میں تقدس اور سچائی شامل ہے۔ میں نے تم کو خدا سے مانگا ہے" کے مصرعے میں ایک گہرا روحانی رشتہ جھلکتا ہے۔ یہاں محبت محض دنیاوی خواہش نہیں بلکہ دعا کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ شاعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی چاہت کسی مطالبے یا شرط پر مبنی نہیں، بلکہ مکمل یقین اور عقیدت کے ساتھ کی گئی التجا ہے۔ دوسرے مصرعے "میں نے تم سے تو کچھ نہیں مانگا" میں بے نیازی اور اخلاص کا خوبصورت امتزاج موجود ہے۔ یہ مصرع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سچی محبت میں لین دین ...

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet

tees | Main Aik Shayar – Deep Emotional Urdu Poem | Voice of a Poet Visit My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A poem Tees "Invisible pain" refers to the experience of discomfort, distress, or suffering that is not immediately apparent or visible to others. Unlike physical injuries or external wounds, this type of pain is often internal, emotional, or psychological in nature. Individuals experiencing invisible pain may be grappling with conditions such as chronic illnesses, mental health disorders, or psychosomatic symptoms that manifest without obvious external signs. This term highlights the subjective and often hidden nature of certain types of distress that individuals endure. Despite the absence of visible indicators, invisible pain can be just as debilitating and impactful on a person's well-being. Understanding and acknowledging invisible pain is crucial for fostering empathy, support, and appropriate interventi...
Follow This Blog WhatsApp