ااب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
تحریر: افضل شکیل سندھو
Read My Punjabi GHAZAL IS RAH DI MUSAFAT AKHEER MUKNI A
نظم
اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
میں تمھیں یاد بہت آؤں گا
جتنا تڑپا تمھیں تڑپاؤں گا
میں تمھیں یاد بہت آؤں گا
رنج کے منبع سے خوشیوں کے بھی چشمے پھوٹے
مدتوں تک میرے ارمانوں کے شیشے ٹوٹے
میں بھی انسان ہوں مٹ جانے کو آیا ہوں یہاں
اپنے خوابوں میں سمٹ جانے کو آیا ہوں یہاں
حسنِ ہستی کبھی برباد نہ کرنا لوگو
اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
قتل ہوتی رہی برسوں یہاں آوازِ وفا
سمجھ کر بھی جو نہ سمجھے یہاں اندازِ وفا
چشم پر خواب سے گرتے ہوئے آنسو کی قسم
میری دل جوئی کو بڑھتے ہوئے بازو کی قسم
جبر کے سامنے فریاد نہ کرنا لوگو
اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
چھان ڈالا میں نے اس دیس کا قریہ قریہ
میں نے لفظوں کو ہی اظہار کا سمجھا ذریعہ
کوئی تصویر میرے کرب کی تہہ تک نہ گئی
میرے سینے میں کہیں بے دلی رہ تک نہ گئی
روشنی آئے تو ناشاد نہ کرنا لوگو
اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
میں تمھیں یاد بہت آؤں گا
جتنا تڑپا تمھیں تڑپاؤں گا
میں تمھیں یاد بہت آؤں گا
Read My Blog On QAISAR UL JAFRI click here
تعارف
"اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو" شاعر افضل شکیل سندھو کی ایک نہایت اثر انگیز، درد آشنا اور فکری نظم ہے۔ اس نظم میں جدائی، محرومی، انسان کی بے بسی، محبت کی شکست، سماجی بے حسی اور وقت کی بے رحم گردش کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ نظم محض کسی ایک شخص سے مخاطب نہیں بلکہ پورے معاشرے، دوستوں، چاہنے والوں اور آنے والی نسلوں سے ایک خاموش مکالمہ ہے۔ شاعر اپنے وجود کے مٹ جانے کے بعد بھی اپنی یاد، اپنے لفظوں اور اپنی محبت کے باقی رہ جانے کا یقین ظاہر کرتا ہے۔ نظم کا ہر بند ایک نئی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ کہیں محرومی ہے، کہیں امید، کہیں احتجاج، کہیں خاموشی اور کہیں وہ درد ہے جو لفظوں سے آگے محسوس کیا جاتا ہے۔
READ MY GHAZAL BAZM E HASTI MN SUAAR E ZINDGI HONEY NA PAYE
تشریح
نظم کا آغاز شاعر ایک غیر معمولی جملے سے کرتا ہے۔
اب مجھے یاد نہ کرنا لوگو
میں تمھیں یاد بہت آؤں گا
یہ ایک ایسا تضاد ہے جو پوری نظم کی بنیاد بنتا ہے۔ شاعر گویا کہہ رہا ہے کہ جب میں موجود ہوں تو میری قدر نہیں، لیکن میری عدم موجودگی ہی میری اصل پہچان بنے گی۔ انسان اکثر اپنے قریبی لوگوں کی اہمیت ان کے بچھڑ جانے کے بعد محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ جتنا درد مجھے ملا، وقت ایک دن وہی احساس تمہارے دلوں میں بھی جگائے گا۔
اگلے بند میں شاعر اپنی زندگی کی جدوجہد بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دکھوں کے اندر بھی خوشیوں کی کرنیں موجود تھیں لیکن مسلسل ٹوٹنے والے خوابوں نے زندگی کو اداس بنا دیا۔ وہ اپنی فانی حیثیت کا اعتراف کرتا ہے اور یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں ہر انسان ایک دن مٹ جانا ہے۔
"حسنِ ہستی کبھی برباد نہ کرنا لوگو" اس مصرعے میں شاعر انسانیت، محبت، حسن اور زندگی کے احترام کا درس دیتا ہے۔ وہ نفرت اور انتقام کے بجائے محبت کو باقی رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔
تیسرے حصے میں شاعر معاشرتی جبر پر آواز بلند کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ وفا کی آواز ہمیشہ ظلم کا شکار رہی لیکن اس کے باوجود سچی محبت ختم نہیں ہوئی۔ "چشم پر خواب سے گرتے ہوئے آنسو کی قسم" یہ مصرع امید اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا نہایت خوبصورت استعارہ ہے۔
آخری بند شاعر کی ادبی زندگی کا خلاصہ معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس نے پورا دیس دیکھ لیا، لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کی، مگر آخرکار لفظ ہی اس کا اصل وسیلہ بنے۔ اس کے درد کو شاید کوئی مکمل طور پر سمجھ نہ سکا، لیکن وہ یقین رکھتا ہے کہ ایک دن یہی لفظ لوگوں کے دلوں تک پہنچیں گے۔
اختتامی اشعار نظم کو دائروی حسن عطا کرتے ہیں۔ آغاز اور انجام ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور قاری کے دل میں دیر تک ایک اداس مگر خوبصورت کیفیت چھوڑ جاتے ہیں۔
Read My Poem GADDI NASHEEN click here
ادبی خصوصیات
- جدائی اور یاد کا گہرا احساس۔
- علامت اور استعارے کا خوبصورت استعمال۔
- سادہ مگر انتہائی اثر انگیز زبان۔
- معاشرتی بے حسی پر خاموش احتجاج۔
- انسانی جذبات کی بھرپور ترجمانی۔
- آغاز اور اختتام میں خوبصورت ربط۔
- قاری کو غور و فکر پر مجبور کرنے والی شاعری۔
Read My GHAZAL QIS QAYAMAT KI GHARRI THI click here
شاعر کا پیغام
افضل شکیل سندھو اس نظم کے ذریعے یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ محبت، خلوص اور انسانیت کی قدر کرنی چاہیے۔ انسان کے چلے جانے کے بعد صرف اس کی یادیں، اس کے الفاظ اور اس کے کردار باقی رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے رشتوں کی اہمیت بروقت سمجھ لیں تو شاید بعد کی ندامت سے بچ جائیں۔ یہ نظم ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچے انسانوں کو ان کی موجودگی میں عزت، محبت اور احترام دینا ہی اصل وفا ہے۔
یہ بلاگ
afzalshakeel.blogspot.com
کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
جملہ حقوق بحق افضل شکیل سندھو محفوظ ہیں۔
🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.
👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel SandhuThe opinions and comments of friends will be respected.
Written by: Afzal Shakeel Sandhu
Wah wah, kamal ki poem hey mujhey to bohat achi lgi
ReplyDelete