جگر مرادآبادی | روحِ غزل کا آخری قافلہ سالار جگر مرادآبادی غزل کے آخری امیرِ سخن "غمِ زندگی سے بھاگنا بے وقوفی ہے، جگرؔ نے اسی حقیقت کو خوبصورت غزلوں میں پرویا" 💜 تعارف: وہ قافلہ سالار جس نے غزل کو نیا آسمان دیا اردو شاعری کا سفر جتنے بھی نامور شاعروں سے گزرا ہے، جگر مرادآبادی کا مقام کسی بھی تناظر میں اوجِ ثریا سے کم نہیں۔ علی سکندر (جگر مرادآبادی) نے جب قلم اٹھایا تو برصغیر کی ادبی فضا میں داغ دہلوی، اقبال، فانی بدایونی اور جوش ملیح آبادی جیسے جواہر موجود تھے، لیکن جگر نے اپنی بے ساختہ سادگی، درد کی گہرائی اور نغمگی سے ایک ایسا اسلوب وضع کیا جسے آج بھی نقاد "جگریہ رنگ" کہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرف عاشقانہ بے قراری ہے تو دوسری طرف وہ صوفیانہ کرن بھی چھپک کر آتی ہے۔ ۶ اپریل ۱۸۹۰ کو مرادآباد میں پیدا ہونے والے جگر نے نہ صرف غزل کو مقبولیت کی بلند ترین سطح پر پہنچایا بلکہ عام ...
A Cry Against Injustice – A Powerful Poem on the United Nations Visit My Website Visit My Youtube Channel اقوام متحدہ تمھیں یہ حق ہے ہمارے قاتل تیرے دامن نا رسا میں چین پائیں مزے اڑائیں تمھیں یہ حق ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا وہ امیرکہ جس کی نظر میں تما م وحشی امن کی دیوی کے پرستار تمام قاتل بے گناہ اور بے خطا وار تما ظالم محبتوں کے علم بردار تجھے بنایا تھا وہ ادارہ جو امن عالم فروغ دیگا حقیقتوں کو نظر میں رکھ کر زندگی کو فروغ دیگا مگر تو مقصد سے ہٹ گیا ہے تجھے یہ حق ہے تیری اطاعت پہ مجھکو شک ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا ہمیں کو تاراج کر کے رکھ دے نظم کی اردو وضاحت یہ نظم عالمی سیاست، ناانصافی اور طاقت کے دوہرے معیاروں کے خلاف ایک جراتمندانہ آواز ہے، جس میں شاعر نے اقوام متحدہ کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ نظم کا آغاز ایک طنزیہ انداز سے ہوتا ہے جہاں شاعر بظاہر یہ کہتا ہے کہ عالمی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالموں کو پناہ دیں اور انہیں سکون فراہم کریں۔ مگر درحقیقت یہ ایک شدید احتجاج ہے اس نظام کے خلاف جو مظلوموں کے بجائے طا...