قیصر الجعفری - ممبئی کا درویش شاعر | مکمل بلاگ ✨ قیصر الجعفری ✨ شہرِ ممبئی کا وہ درویش شاعر جس کا کلام چراغِ راہ ہے "یہ ہیں وہ قیصر الجعفری جن کی غزلیں سن سن کر ہم سمجھتے رہے کہ یہ نذیر قیصر کی ہیں" ✍️ مختصر ترین تعارف قیصر الجعفری ممبئی کے ایک ایسے درویش شاعر تھے جن کی لکھی ہوئی غزلیں آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ غلطی سے یہ کلام اکثر نذیر قیصر کے نام منسوب کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیصر الجعفری نے اپنے طویل 75 سالہ شعری سفر میں اردو شاعری کو وہ گہرائی دی ہے جس کی مثال کم ملتی ہے۔ 💔 کتنی مہنگی چیز تھی دنیا، کتنی سستی چھوڑ چلے 💔 ~ قیصر الجعفری 📖 فہرست مضامین تعارف اور ایک افسانوی غلط فہمی کا ازالہ زندگی کا سفر: بمبئی کے گلی کوچوں سے شعری بلندیوں تک شاعری کی خصوصیات: سادگی کے پردے میں گہرا المیہ وہ مشہور اشعار جنہوں نے دل جی...
A Cry Against Injustice – A Powerful Poem on the United Nations Visit My Website Visit My Youtube Channel اقوام متحدہ تمھیں یہ حق ہے ہمارے قاتل تیرے دامن نا رسا میں چین پائیں مزے اڑائیں تمھیں یہ حق ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا وہ امیرکہ جس کی نظر میں تما م وحشی امن کی دیوی کے پرستار تمام قاتل بے گناہ اور بے خطا وار تما ظالم محبتوں کے علم بردار تجھے بنایا تھا وہ ادارہ جو امن عالم فروغ دیگا حقیقتوں کو نظر میں رکھ کر زندگی کو فروغ دیگا مگر تو مقصد سے ہٹ گیا ہے تجھے یہ حق ہے تیری اطاعت پہ مجھکو شک ہے مگر یہ حق تم کو کس نے بخشا ہمیں کو تاراج کر کے رکھ دے نظم کی اردو وضاحت یہ نظم عالمی سیاست، ناانصافی اور طاقت کے دوہرے معیاروں کے خلاف ایک جراتمندانہ آواز ہے، جس میں شاعر نے اقوام متحدہ کے کردار پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ نظم کا آغاز ایک طنزیہ انداز سے ہوتا ہے جہاں شاعر بظاہر یہ کہتا ہے کہ عالمی اداروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالموں کو پناہ دیں اور انہیں سکون فراہم کریں۔ مگر درحقیقت یہ ایک شدید احتجاج ہے اس نظام کے خلاف جو مظلوموں کے بجائے طا...