ن م راشد — جدید اُردو نظم کا معمار اور فکری بغاوت کی علامت پیدائش: 1 اگست 1910 | سیالکوٹ، پنجاب | وفات: 9 اکتوبر 1975 | لندن، برطانیہ ن م راشد اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کی روح کو بیان کیا بلکہ نئی نسل میں ایک نیا شعور بھی پیدا کیا اور تخلیقی سطح پر نئے معیار قائم کیے۔ آزاد نظم کو مقبول بنانے میں ان کا نام سرِفہرست آتا ہے۔ انہوں نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے اُردو شاعری میں ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ وہ اُن چند شعرا میں سے ہیں جن کی شاعری نہ محض زبان کی شاعری ہے اور نہ ہی محض حالات کی عکاسی، بلکہ ان کا کلام فکر و دانش کا آئینہ دار ہے۔ وہ خود بھی سوچتے ہیں اور اپنے قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اور ان کی فکر کا دائرہ نہایت وسیع، کائناتی اور آفاقی ہے۔ مذہبی، جغرافیائی، لسانی اور دیگر حدود کو توڑتے ہوئے وہ ایک ایسے آفاقی انسان کا تصور پیش کرتے ہیں جسے وہ "آدمِ نو" کہتے ہیں—ایک ایسا انسان جو ظاہر و باطن کی مکمل ہم آہنگی کا پیکر ہو۔ راشد کا شعری مزاج اُن شعرا سے مماثلت رکھتا ہے جیسے رومی، اقبال، دانتے اور ملٹن، جو ایک خاص س...
history of afghanistan,s intervention in pakistan افغانستان کی پاکستان میں مداخلت کی تاریخ Phases of Afghanistan’s intervention in Pakistan Early post-Partition era (late 1940s-1950s) A.Afghanistan was the only country to vote against Pakistan’s entry into the United Nations after 1947 — partly because of the border and Pashtunistan issues. B.In 1955 there were riots in Afghanistan directed at Pakistan’s embassy/consulates, triggered by Kabul’s objection to Pakistan’s “One Unit” administrative scheme (which merged various provinces, including those with Pashtun majorities). C.These dynamics show early intervention via diplomatic/propaganda means rather than large-scale military invasion. 1960s: Border skirmishes and armed conflict A.The so-called Bajaur Campaign (1960-61) was an armed confrontation: Afghan forces and Pashtun nationalist proxies invaded/entered the Bajaur region (in what is now Pakistan) near the border. Afghanistan backing tribal opposition. B....