Skip to main content

Mn ne tum ko Khuda se manga hey,maan ki yaad,Udas mosam,shak,suragh,jhoot kehtey hn,Kashmir,rahat

Qaiser Ul Jafri: A Distinguished Voice in Modern Urdu Poetry

قیصر الجعفری - ممبئی کا درویش شاعر | مکمل بلاگ ✨ قیصر الجعفری ✨ شہرِ ممبئی کا وہ درویش شاعر جس کا کلام چراغِ راہ ہے "یہ ہیں وہ قیصر الجعفری جن کی غزلیں سن سن کر ہم سمجھتے رہے کہ یہ نذیر قیصر کی ہیں" ✍️ مختصر ترین تعارف قیصر الجعفری ممبئی کے ایک ایسے درویش شاعر تھے جن کی لکھی ہوئی غزلیں آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ غلطی سے یہ کلام اکثر نذیر قیصر کے نام منسوب کر دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ قیصر الجعفری نے اپنے طویل 75 سالہ شعری سفر میں اردو شاعری کو وہ گہرائی دی ہے جس کی مثال کم ملتی ہے۔ 💔 کتنی مہنگی چیز تھی دنیا، کتنی سستی چھوڑ چلے 💔 ~ قیصر الجعفری 📖 فہرست مضامین تعارف اور ایک افسانوی غلط فہمی کا ازالہ زندگی کا سفر: بمبئی کے گلی کوچوں سے شعری بلندیوں تک شاعری کی خصوصیات: سادگی کے پردے میں گہرا المیہ وہ مشہور اشعار جنہوں نے دل جی...

ho chukey aaj | Sadness and Solitude – A Deep Emotional Urdu Ghazal

ho chukey aaj baam o dr udaasہو چکے آج بام و در اداس


This ghazal “Udaas Nazrein” by Afzal Shakeel Sandhu beautifully expresses the loneliness of separation and the silence that follows love’s departure. Written in a soft, reflective tone, it paints images of fading evenings, broken dreams, and hearts weighed down by memories. Originally published in the Monthly Political Scene, Lahore (September 2003), this work remains a timeless expression of poetic melancholy.
This touching ghazal by Afzal Shakeel Sandhu,captures the quiet pain of separation and the melancholy that lingers in every moment. The verses flow with the fragrance of loss — from fading evenings to restless nights, each couplet speaks the language of waiting, memory, and sorrow.
See my another ghazal

غزل


ہو چکے آج بام و در اداس
تیرے بن منتظر نظر اداس

شام کی رنگتیں ہیں بے معنی
کھوئی کھوئی ہوئی سحر اداس

پھول کھلتے ہیں پر چمن بیزار
تتلیوں کے بال و پر اداس

خواب ٹوٹے ہیں کرچیاں بن کر
زندگی قصہ مختصر اداس

یوں تو انسان الم نصیب رہا
میں ہوں ان میں خاص کر اداس

شام سے تک رہا ہوں راہوں کو
کتنی مصروف رہ گزر اداس

کتنے گوہر شکیل بے بس ہیں
تم بھی کر لو گزر بسر اداس

یہ دلگداز غزل انسانی جذبات کی نہایت باریک اور گہری عکاسی پیش کرتی ہے۔ شاعر نے جدائی، تنہائی اور اداسی کے احساس کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ہر شعر میں ایک خاموش درد پوشیدہ ہے جو قاری کے دل میں اترتا چلا جاتا ہے۔


Rekhta

غزل کا آغاز ہی ایک ایسے منظر سے ہوتا ہے جہاں بام و در بھی اداس نظر آتے ہیں، گویا پوری کائنات شاعر کے اندرونی کرب کی ترجمان بن گئی ہو۔ محبوب کی جدائی نے نہ صرف دل بلکہ نگاہوں کو بھی منتظر اور افسردہ کر دیا ہے۔

شام، سحر اور فطرت کی علامتیں

شاعر نے شام اور سحر کی علامتوں کے ذریعے زندگی کی بے رنگی کو ظاہر کیا ہے۔ شام کی رنگتیں بے معنی ہو چکی ہیں جبکہ سحر بھی اپنی تازگی کھو بیٹھی ہے۔ یہ اشعار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب دل اداس ہو تو وقت اور فطرت کی خوبصورتی بھی بے اثر ہو جاتی ہے۔

پھولوں کا کھلنا، چمن کی بہار اور تتلیوں کی رنگینی بھی اب دل کو خوشی نہیں دیتی۔ یہ تمام مناظر اس داخلی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں خوشی کے تمام اسباب موجود ہونے کے باوجود انسان اداس رہتا ہے۔

ٹوٹے خواب اور زندگی کی حقیقت

غزل کے وسط میں شاعر خوابوں کے ٹوٹنے کو "کرچیاں" قرار دیتا ہے، جو ایک نہایت مؤثر استعارہ ہے۔ یہ نہ صرف خوابوں کی شکستگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ دل کے ٹکڑے ہونے کا احساس بھی دیتا ہے۔

زندگی کو "قصہ مختصر" کہنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تمام جدوجہد، خواہشات اور خواب بالآخر ایک مختصر داستان بن کر رہ جاتے ہیں۔

انفرادی کرب اور اجتماعی حقیقت

اگرچہ شاعر تسلیم کرتا ہے کہ انسان ہمیشہ سے دکھوں کا شکار رہا ہے، مگر وہ اپنے آپ کو ان سب میں زیادہ اداس محسوس کرتا ہے۔ یہ احساس فرد کی داخلی تنہائی اور اس کے منفرد دکھ کو ظاہر کرتا ہے۔

شام سے راستوں کو تکتے رہنا انتظار کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ "مصروف رہ گزر" زندگی کی بے حسی اور انسان کی بے بسی کی علامت ہے۔

اختتامیہ تاثر

آخری شعر میں شاعر اپنے جیسے بے بس لوگوں کا ذکر کرتا ہے اور ایک تلخ حقیقت بیان کرتا ہے کہ زندگی کو اداسی کے ساتھ گزار لینا ہی شاید مقدر بن چکا ہے۔

یہ غزل ان تمام لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہے جو کسی کی جدائی، ٹوٹے خوابوں اور زندگی کی بے معنویت کو محسوس کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک شاعری نہیں بلکہ ایک کیفیت، ایک احساس اور ایک خاموش داستان ہے۔

اہم نکات

    اداسی اور تنہائی کی گہری عکاسی
    فطرت کے مناظر کے ذریعے جذبات کا اظہار
    ٹوٹے خوابوں کی علامتی پیشکش
    زندگی کی ناپائیداری اور بے معنویت
    انتظار اور بے بسی کا احساس

In Roman Urdu


ho chukey aaj baam o dr udaas
terey bin muntzir nazar udaas

sham ki rangten hn be maani
khoi khoi hui sahar udaas

phool khiltey hn pr chamn bezar
titlion k baal o pr udaas

khwab tootey hn kirchiyan bn kr
zindgi qisa mukhtasir udaas

yun to insaan alm naseeb raha
mn hoon in mn khaas kr udaas

shaam se tk raha hoon rahon ko
kitni masroof reh guzar udaas

kitney gohar shakeel be bs hn
tum b kr lo guzr basr udaas

🌐 English Translation



1. The roofs and doors stand desolate today,
My eyes, awaiting you, are lonely and grey.

2. The colors of evening have lost their meaning,
Even the dawn seems distant and grieving.

3. Flowers still bloom, yet gardens sigh,
Butterfly wings droop — they can’t fly high.

4. Dreams have shattered into crystal tears,
Life itself is a tale of faded years.

5. Man is destined to pain and scars,
But I’m the one especially marred.

6. From dusk till now, the paths I tread,
Busy roads, but my soul feels dead.

7. Many pearls, like Shakeel, are helpless indeed,
You too endure — in sorrow we’re agreed.

🎥 If you enjoy my poetry and literary content, don’t miss out on my YouTube channel! Click the button below to watch, subscribe, and stay updated with my latest videos.

👉 Watch & Subscribe to Afzal Shakeel Sandhu

Written by: Afzal Shakeel Sandhu

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Follow This Blog WhatsApp