خواجہ حیدر علی آتشؔ لکھنوی ممتاز شاعرِ لکھنؤ — حیات، شاعری اور منتخب اشعار خواجہ حیدر علی آتشؔ نام خواجہ حیدر علی ، تخلص آتشؔ تھا اور ان کے والد کا نام علی بخش بتایا جاتا ہے۔ ان کے بزرگوں کا وطن بغداد تھا، جو تلاشِ معاش میں دہلی آئے اور شجاع الدولہ کے عہد میں فیض آباد چلے گئے۔ آتشؔ کی پیدائش بھی فیض آباد میں ہوئی۔ حسن رضوی کی زندگی اور شاعری پر مشتمل میرا بلاگ پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں حیات اور ابتدائی زندگی آتشؔ گورے چٹے، خوبصورت، کشیدہ قامت اور چھریرے بدن کے تھے۔ ابھی پوری طرح جوان نہ ہو پائے تھے کہ والد کا انتقال ہو گیا اور تعلیم مکمل نہ ہو سکی۔ دوستوں کی ترغیب سے درسی کتابیں دیکھتے رہے۔ کسی نگراں کی عدم موجودگی میں ان کے مزاج میں آوارگی آگئی۔ وہ بانکے اور شورہ پشت ہو گئے۔ اس زمانے میں بانکپن اور بہادری کی بڑی قدر تھی۔ بات بات پر تلوار کھینچ لیتے تھے اور کم سنی ہی سے تلوارئیے مشہور ہو گئے تھے۔ آتشؔ کی صلاحیتوں اور سپاہیانہ بانکپن نے نواب مرزا محمد تقی خاں ترقی، رئیسِ...
ممزدور پلی - شاعر کی آنکھ سے دیکھا ہوا سچ | بلاگ مزدور پلی Subah ka intezar: Mazdoor Puli ki khamosh sachai ساہیوال کا وہ چوک جہاں بیچارگی ڈیرے جمائے رہتی ہے (ایک ادبی و سماجی دستاویز) 📖 طویل تحریر | 5500+ الفاظ کا بلاگ ستمبر 1994، گورنمنٹ کالج ساہیوال۔ میں تھرڈ ائیر کا طالب علم تھا۔ نوجوانی کا مزاج، غالب و اقبال کی شاعری، اور راستے میں وہ چوک جسے لوگ "مزدور پلی" کہتے تھے۔ وہ چوک جہاں صبح سویرے درجنوں مزدور دستی مزدوری مانگنے آتے ہیں۔ آج 2026 میں وہی چوک بالکل اسی طرح موجود ہے۔ کوئی بدلاو نہیں۔ صرف میرے بال سفید ہو رہے ہیں۔ یہ بلاگ اس نظم پر مشتمل ہے جو میں نے اُس وقت لکھی، اور سماجی حقائق کی کھوج میں ایک مکمل تجزیہ۔ ✍🏽 مکمل نظم "مزدور پلی" (افضل شکیل سندھو 1994) شہر کی رونق بھری سڑکوں کے بیچ اک جگہ بیچارگی ڈیرے جمائے رہتی ہے مجمع مزدور ہوتا ہے یہاں صبح کے وقت حسرت ...