امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
جگر مرادآبادی | روحِ غزل کا آخری قافلہ سالار جگر مرادآبادی غزل کے آخری امیرِ سخن "غمِ زندگی سے بھاگنا بے وقوفی ہے، جگرؔ نے اسی حقیقت کو خوبصورت غزلوں میں پرویا" 💜 تعارف: وہ قافلہ سالار جس نے غزل کو نیا آسمان دیا اردو شاعری کا سفر جتنے بھی نامور شاعروں سے گزرا ہے، جگر مرادآبادی کا مقام کسی بھی تناظر میں اوجِ ثریا سے کم نہیں۔ علی سکندر (جگر مرادآبادی) نے جب قلم اٹھایا تو برصغیر کی ادبی فضا میں داغ دہلوی، اقبال، فانی بدایونی اور جوش ملیح آبادی جیسے جواہر موجود تھے، لیکن جگر نے اپنی بے ساختہ سادگی، درد کی گہرائی اور نغمگی سے ایک ایسا اسلوب وضع کیا جسے آج بھی نقاد "جگریہ رنگ" کہتے ہیں۔ ان کی شاعری میں ایک طرف عاشقانہ بے قراری ہے تو دوسری طرف وہ صوفیانہ کرن بھی چھپک کر آتی ہے۔ ۶ اپریل ۱۸۹۰ کو مرادآباد میں پیدا ہونے والے جگر نے نہ صرف غزل کو مقبولیت کی بلند ترین سطح پر پہنچایا بلکہ عام ف...