امجد اسلام امجدؔ — حیات، ادبی خدمات، شاعری اور منتخب کلام امجد اسلام امجدؔ اردو ادب کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی شاعری، ڈرامہ نگاری اور ادبی خدمات نے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ میں بچپن ہی سے پاکستان ٹیلی وژن کے مشاعروں میں انہیں سنتا آیا ہوں۔ ان کا اندازِ سخن، الفاظ کا خوب صورت انتخاب، فکر کی گہرائی اور شعر پڑھنے کا منفرد انداز ہمیشہ دل کو متاثر کرتا رہا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، زندگی کے نشیب و فراز، انسانی احساسات، امید، ملال اور معاشرتی شعور کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ امجد اسلام امجدؔ کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے شاعری کے ساتھ ساتھ ڈرامہ نگاری میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے قلم سے نکلنے والے الفاظ قاری اور ناظر دونوں کے دلوں میں جگہ بناتے ہیں۔ اردو ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و منزلت سے یاد رکھی جائیں گی۔ سلیم کوثر پر میرا بلاگ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں امجد اسلام امجدؔ کا تعارف امجد اسلام امجدؔ اردو کے ممتاز شاعر، ڈرامہ نگار، نقاد اور مصنف تھے۔ انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے...
ن م راشد — جدید اُردو نظم کا معمار اور فکری بغاوت کی علامت پیدائش: 1 اگست 1910 | سیالکوٹ، پنجاب | وفات: 9 اکتوبر 1975 | لندن، برطانیہ ن م راشد اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد کی روح کو بیان کیا بلکہ نئی نسل میں ایک نیا شعور بھی پیدا کیا اور تخلیقی سطح پر نئے معیار قائم کیے۔ آزاد نظم کو مقبول بنانے میں ان کا نام سرِفہرست آتا ہے۔ انہوں نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے اُردو شاعری میں ایک نئے اسلوب کی بنیاد رکھی۔ وہ اُن چند شعرا میں سے ہیں جن کی شاعری نہ محض زبان کی شاعری ہے اور نہ ہی محض حالات کی عکاسی، بلکہ ان کا کلام فکر و دانش کا آئینہ دار ہے۔ وہ خود بھی سوچتے ہیں اور اپنے قاری کو بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اور ان کی فکر کا دائرہ نہایت وسیع، کائناتی اور آفاقی ہے۔ مذہبی، جغرافیائی، لسانی اور دیگر حدود کو توڑتے ہوئے وہ ایک ایسے آفاقی انسان کا تصور پیش کرتے ہیں جسے وہ "آدمِ نو" کہتے ہیں—ایک ایسا انسان جو ظاہر و باطن کی مکمل ہم آہنگی کا پیکر ہو۔ راشد کا شعری مزاج اُن شعرا سے مماثلت رکھتا ہے جیسے رومی، اقبال، دانتے ...